کشمیریوں کی اُمید

76

تحریر :سیدہ سمیرا گیلانی
14 اگست 1947کو دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر وطن عزیز کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن علیحدہ وطن کے قیام کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جتنی صعبتیں اور مشکلات برداشت کیں ،کن کن کٹھن مراحل سے وہ گزرے یہ ساری چیزیں تاریخ کا حصہ ہیں.
متحدہ ہندوستان کی مسلم کمیونٹی کے تمام لوگوں نے چاہے ان کا تعلق جس بھی شعبہ ہائے زندگی سے تھا اپنے علیحدہ وطن کے حصول کے لیے انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،.

علماء کرام سولیوں پر چڑھادئیے گئے .مسلمانو ں کی جائیداد اور املاک کو نذر آتش کر دیا گیا، پوری پوری ٹرینوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی. جس میں ہزاروں مصوم بچوں، شیر خواروں، عورتوں اور بزرگوں سمیت لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے. بڑی تعداد میں ہجرت کرنے والے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے وہ تمام پہاڑ توڑے گئے کہ آج بھی ان کا ذکر کرکے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے.

اتنی بڑی اور عظیم قربانیوں کا بعد اللہ نے مسلمانان ہندوستان کو پاکستان کی صورت میں ایک نیا وطن عطاکیا۔گو کہ پاکستان کے قیام سے چند ہفتے قبل مسلمانان کشمیر نے بھی دیگر مسلمانوں کی طرح اپنا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کی قرارداد منظور کی اور پاکستان ہی کو اپنی منزل قرار دینے کا اعلان واشگاف الفاظ میں کیا لیکن ہندو بنیئے اور انگریز وائسرے کی بددیانتی اور عہد شکنی کی وجہ سے آج دن تک کشمیری پاکستان کے ساتھ اپنے الحاق کے فیصلے کی قیمت لاکھوں جانوں کو نذرانہ پیش کر چکا.

سلام ہے ان کشمیری ماؤں کو کہ جن کی کوکھ سے جنم لینے والے غیرت مند سپوتوں نے اپنی جوانیاں تو قربان کر دیں لیکن تکمیل پاکستان کے اس خواب نے ان کے پایہ استقلال میں کوئی لغرش نہیں آنے دی۔آزادکشمیر کے اندر نظریاتی اور فکری تخریب کاروں نے جب یہ ارادہ کیا کہ انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کشمیری نوجوانوں کو استعمال کرنا ہے تو اس شعر کے مصداق
اندھیروں کا جگر چیر کے نورا ٓئے گا
تو اگر فرعون ہے تو موسٰی بھی ضرورآئے گا

سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے وطن کی محبت اور اس کے محافظوں کے ساتھ اپنی عقیدت کے اظہار کرنے کے لیے پاکستانیت کے اس علم کو سنبھال لیا جو اس وقت آزاد خطے کے سیاست دانوں کے لیے ایک خواب بن گیا تھا، قائد کشمیر نے آزاد خطے کے لوگوں کو اپنے خطبات اور پیغامات کے ذریعے یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ہمیں اندورنی و بیرونی دشمن کی چالوں کو سمجھنا ہوگا۔

گا، گے، گی والے استعار ے ترک کرنا ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جو خطہ آزاد ہے یہ پاکستان کا حصہ ہے اور جہاں تحریک زوروں پر ہے وہ انشاء اللہ آزادہو کے پاکستان کا حصہ ہو گا۔ اسے آپ اخلاص کہیں یا لہجے کی تاثیر، کے قائدکشمیر کے پیغام ”ہم ہیں پاکستان “ کو آر پار کے کشمیر یو ں نے سینے سے لگایا اور 14اگست 2024 کو صابر شہید سٹیڈیم راولاکوٹ کے جلسے میں عوام الناس کی پوری ریاست سے اتنی بھر پور اور کثیر تعداد میں شرکت نے ثابت کیا کہ آزادکشمیر کا ہر پیر وجواں ”ہم ہیں پاکستان“ کی عملی تفسیر ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے پچھلے 77سالوں میں ریاستی لیول پر کبھی بھی انتے بڑے جلسے اور عظیم الشان تقربیات کا انعقاد
نہیں ہوا تھا، 13اگست کی رات سرزمین پونچھ پر قومی ترانوں کی دھنیں اور 450 میٹر کا اس وقت تک کا آزادکشمیر میں لہرایا جانے
والا سب سے بڑا پاکستانی جھنڈا جب قائد کشمیر کے کارکنان اپنے سروں پر سجا کر پنڈال میں داخل ہوئے تو خوشی اور فخر کے ان لمحات کا الفاظ میں بیان ناممکن ہے.

آتشبازی اور کیک کاٹنے کے ایونٹس نے تقربیات کو چار چاند لگا دئیے۔ 14اگست کو جب اصل امتحان شروع ہوا تو مخالفین اس وقت حیرت زدہ رہ گئے جب پورے شہر اور پنڈال میں قائد کشمیر کے ہزاروں دیوانے قافلوں اور ٹولیوں کی صورتوں میں راولاکوٹ شہر میں داخل ہوئے، یہ محض جلسہ نہیں تھا یہ درحقیقت زندہ دلان آزادکشمیر کا پاکستان سے محبت اور اس لازوال رشتے کی تجدید بھی تھی، قائد کشمیر کی کال پہ لبیک کہنے والوں میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔ خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی اپنی مثال آپ تھے.

الغرض ریاستی عوام نے پاکستان کے ساتھ اور پاکستان کے دفاعی اداروں کے ساتھ جس والہانہ انداز میں اپنی محبت و عقیدت کا
اظہار کیا اس کی دوسری مثال ناممکن ہے۔ آر پار کے کشمیریوں کو قائد کشمیر سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کی صورت میں ایک جاندار قیادت اور توانا آواز میسر آئی ہے .بھارتی بربریت کا شکار کشمیری سردار تنویر الیاس خان کو اُمید کی کرن سمجھ رہے ہیں، میں سمجھتی ہوں کہ ہماری نسل اور ہمارے عہد کی یہ خوش نصیبی ہے کہ ہمیں قائد کشمیر کی صورت میں وہ قیادت اور رہبری کا سامان میسر آیا ہے.

جس سے منقسم ریاست کے دونوں حصےمستفید ہوں گے۔ دُعا گو ہوں کہ اللہ تعالی قائد کشمیر کی صحت اور زندگی میں برکت عطا فرمائے اور وہ آزادکشمیر کے لوگوں کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے لیے بھی صبح آزادی کی نوید لانے میں اپنا کردار اد اکر سکیں۔
پاکستان زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں