کشمیر ایک پرانا زخم، ایک نئی امید

77

تحریر: عثمان علی معلم اور مشاہدنگار
برصغیر کی تاریخ کا سب سے پرانا اور گہرا زخم اگر کوئی ہے تو وہ کشمیر ہےایک ایسا تنازع جو نہ صرف سرحدوں کو تقسیم کرتا ہے، بلکہ دلوں کو بھی دو ٹکڑوں میں بانٹ چکا ہے۔تقریباً 8 دہائیوں سے یہ خطہ بندوق، بارود، آنسو، اور دعاؤں کا میدان بنا ہوا ہےجہاں کبھی فضا میں امن کا کبوتر پر نہیں مار سکا۔ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد پیدا ہونے والا یہ مسئلہ کئی جنگوں کو موجب بنا اور ہزاروں جانیں لے چکا ہے۔ یہ صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ وقت کی عدالت میں ایک طویل مقدمہ ہے، جس کا فیصلہ ہر نسل ٹالتے ٹالتے تھک چکی ہے۔اب جب کہ 6 مئی 2025 کو پاک بھارت کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کو غیر یقینی کیفیت میں دھکیل دیا، دنیا کی نظریں اس طرف پلٹیں۔ توپوں کی گرج، بارود کی بو اور بارڈر کی سرخ لکیروں نے ثابت کر دیا کہ مسئلہ اب بھی زندہ ہے۔ لیکن شاید اس بار وقت نے ایک مختلف موڑ لیاامریکی صدر ولنڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

یہ بیان معمولی نہیں ہے۔ امریکہ جیسی عالمی طاقت جب کسی دیرینہ تنازع میں براہِ راست شمولیت کی پیش کش کرتی ہے، تو یہ محض سفارتی رسم نہیں ہوتی یہ ایک پیغام ہوتا ہے کہ دنیا اب مزید تاخیر برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو انسانی بنیادوں پر کشمیریوں کے مستقبل پر سنجیدہ بات چیت کرنی چاہیے، اور اگر وہ چاہیں، تو امریکہ غیر جانبدار پلیٹ فارم مہیا کرنے کے لیے حاضر ہے۔ یہ پیش کش ایک طرف عالمی دباؤ کا مظہر ہے، تو دوسری طرف ایک موقع بھی ایک نیا دروازہ، جس سے گزرنے کا فیصلہ اب جنوبی ایشیا کی قیادت کو کرنا ہےلیکن مسئلہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں۔ اصل فریق تو کشمیری عوام ہیں۔ ان کے بغیر مذاکرات صرف کاغذی کاروائی بن کر رہ جائیں گے۔ کشمیری صرف بندوق کی آواز نہیں سنتے، وہ خاموشیوں میں بھی سوال کرتے ہیں۔ انہیں صرف امن نہیں چاہیے، انہیں شناخت، خودداری اور زندگی چاہیے—ایسی زندگی جس میں ان کی مرضی شامل ہو، ان کی رائے سنی جائے، اور ان کا مستقبل اُن کے ہاتھوں میں ہو۔

بدقسمتی سے عشروں تک کشمیریوں کو یا تو جنگ کا ایندھن سمجھا گیا، یا سفارتی میزوں پر ان کے نام کے بغیر فیصلے کیے گئےاگر واقعی پائیدار امن کی کوئی راہ نکلنی ہے تو اس میں کشمیری عوام کی نمائندگی اور شرکت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ صرف سیاسی لیڈر نہیں، بلکہ سول سوسائٹی، نوجوان، خواتین، تاجر، اور تعلیمی حلقےسب کو سنا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ جو آواز سنائی نہ دے، وہ دیر پا حل کی ضمانت نہیں بن سکتی۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ نے ایک بار پھر موقع دیا ہےجہاں جنگ سے پہلے بات ہو رہی ہے، اور فائر بندی کے بعد امید باقی ہے۔ مگر اس بار اگر قیادتیں پھر خاموش رہیں، یا صرف وقتی دباؤ کے تحت فیصلے کیے گئے، تو یہ موقع بھی ماضی کے اوراق میں دفن ہو جائے گا۔کشمیر کا مسئلہ طاقت سے نہیں، تدبیر سے حل ہو گا۔ بندوق سے نہیں، بات سے۔ آج نہیں تو کل، دنیا کو ماننا ہو گا کہ یہ صرف سرحدی تنازع نہیں بلکہ انسانوں کا مسئلہ ہے۔ اور انسانوں کے مسائل صرف تبھی حل ہوتے ہیں جب ہم انہیں سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں