تحریر: پروفیسر سید وجاہت گردیزی
کشمیر میں پونچھ کی دھرتی فطری خوبصورتی اور دیومالائی حسن کے ساتھ ساتھ علمی وادبی ہستیوں کی وجہ سے پہچان رکھتی ہے۔اس سرزمین پونچھ کا ہر گوشہ مناظر فطرت کی وجہ سے گوہر نایاب ہے لیکن خطہ باغ جغرافیائی خدوخال کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے ۔اس کے وادی وکوہسار ندی نالے ،چشمے ،جنگلات، سبزہ زار اور قدرتی رنگوں کی بہار فطرت کا جادوئی حسن لیے اسے باغ ارم بناتے ہیں ۔اس کا بلند ترین پہاڑی مقام گنگا چوٹی دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے سدھن گلی سے پیر کنٹھی ،لس ڈنہ ،تولی پیر ،بلال پوٹھا ، نانگا پیر ، رنگلہ ،نیلا بٹ اور سنکھ پہاڑ جیسے سیاحتی مقامات اپنے من میں وسیع سبزہ زاروں کے تہہ در تہہ سلسلے لیے جلوہ نمائی کرتے ہیں ۔اس حسین شہر باغ کو جہاں فطرت نے باغ وبہار بنایا ہے وہاں اس کے ارباب علم و دانش ، شعرا وادبا نے تخلیقی سرگرمیوں سے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ۔
باغ کے بہت سے قلمکاروں نے کاغذاورقلم کے رشتے مضبوط بنائے ، شعر وادب میں نام کمایا اور ادبی روایات کے امین بنے ۔اسلم راجا اس قافلے کے سرخیل بنے ،شفیق راجا، خواجہ غلام حسین وانی، عبدالرزاق بیکل ،سید شہباز گردیزی ،دلشاد اریب اور درجنوں شعرا نے خون جگر سے فن شاعری کی آبیاری کی ۔ان میں سے سید شہباز گردیزی سب سے متحرک ہیں ادب کوشوں میں انجمن کا درجہ رکھتے ہیں ۔ان کا شعری رنگ ، آہنگ ،فکر اور اسلوب جدا، منفرد اور پرکشش ہے۔شہباز فقط شاعر ہی نہیں تذکرہ نویسی، تاریخ نویسی، سوانح نگاری، سفر نامہ نگاری ، تبصرہ نگاری اور تنقید میں بھی ہنر آزمائی کرتے ہیں ۔
شہباز گردیزی کا تعلق باغ شہر کے مرکزی مقام کہنہ موہری سے ہے ان کی پیدائش حیدرآباد سندھ کی ہے جہاں ان کے والدین بسلسلہ ملازمت رہائش پذیر تھے ۔ شہباز نے تعلیم اپنے آبائی علاقے باغ سے حاصل کی خواجہ غلام حسین وانی جیسے مشفق ومہربان سے شرف تلمذ حاصلِ کیا۔جو بہت سے علوم پر دسترس رکھتے تھے اور نرم لب ولہجہ، خوش گفتاری اور شیریں سخنی کی وجہ سے ہر دلعزیز تھے۔تعلیمی مراحل طے کرنے کے بعد شہباز نے کچھ عرصہ مظفر گڑھ میں گذارا ۔یوں سرزمین کشمیر کا شہباز وادی سندھ کے لعل شہبازقلندر اور جنوبی پنجاب کے شاہ شمس تبریز کے روحانی فیوض کے سائے تلے تخلیقی شعور سے سخنوری کے پھول چُننے لگا۔
شہباز کی فکر میں بلند نگاہی کی صفت اسی سلسلہ سفر کی بدولت پیدا ہوئی جو کشمیر سے حیدر آباد اور مظفر گڑھ تک پھیلا ہوا ہے ۔کچھ عرصہ بعد شہباز نے کالج آف ایجوکیشن باغ میں کیمیا گری کے محلول بنانے کی ملازمت اختیار کرلی اور تادم تحریر وہیں ذوق تخلیق سے سرشار روز وشب محوِ کیمیاگری ہے۔شہباز کی اپنی سرشت میں شعروادب کا تخلیقی جوہر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس لیے بچپن سے ہی فکر سخن کا راستہ اپنا لیا ۔پروفیسر شفیق راجہ اور پروفیسر افتخار مغل سے اصلاح سخن لیتے رہے اور مشاعروں ،ادبی نشستوں اور ادبی تقاریب سے اپنے ذوق کو پروان چڑھایا ۔ ہر دم سخن پروری کے جذبے سے انھوں نے شفیق راجہ کو میرکارواں بنایا اور ادبی تنظیم طلوع کی ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے اسے سب سے متحرک اور فعال ادبی تنظیم کے درجے پر پہنچا دیا ۔
شہباز گردیزی کاذوق تخلیق پانچ شعری مجموعوں پانچ نثری تصانیف کے ساتھ کالموں ، تبصروں پر مشتمل ہے ۔شہباز کی تخلیقی جہات بہت ہیں تاہم شاعری ان کی پہچان بنی ،انھوں نے غزل گوئی سے آغاز کیا اور بہت جلد سرزمین کشمیر کے معروف شاعر کے روپ میں سامنے آئے۔ان کی شاعری میں نئے موضوعات کی تازہ کاری اور تنوع پایاجاتا ہے ۔کلاسیکل روایت کے ساتھ جدت انھیں معتبر بناتی ہے۔ہر واقعہ شہباز کی فکر میں ایک نیا خیال بن کر ذہنوں میں کشمکش پیدا کرتا ہے۔ ایک بچی جو برسات میں چھت کے قریب سے گزرتی تاروں کی زد میں آکر ہاتھ پاوں سے محروم ہوگئی شہباز جیسا حساس شاعر، اسے یہ منظر کیسے نہ متاثر کرتا، چنانچہ بابا میرا بازو کہاں ہے؟ جیسی تخلیق درد وغم کا نوحہ بن کر وارد ہوتی ہے:
بابا مرا بازو کہاں ہے ؟؟؟
( ننھی انایا کے ہاتھ پاؤں کٹنے پر ایک باپ کا نوحہ)
سراپا صورت گل تھیں ، بہاروں کا وہ جوبن تھیں
کسی گلشن ، کسی آنگن کی تھیں وہ دودھیا پریاں
مقدس دیویاں تھیں وہ ، حسیں شہزادیاں تھیں وہ
وہ دونوں جان جاں تھیں، جاں فزا سہیلیاں تھیں وہ
انایا یوں مقدس تھی کہ جیسے صورت مریم
تو ننھی پارسا رانی وجود ماہ و اختر تھی
کھنکتی آبشاریں تھیں ، طرب اٹھلاتی نظریں تھیں
ہنسی ایسی کہ جس کو سوچ کر غنچے مہک اٹھیں
وہ چلتیں تھیں تو پھر یہ گردش ایام چلتی تھی
وہ جب رک جائیں تو پھر دھڑکنوں کی سانس رکتی تھی
اچانک چرخ باد تند نے صحفہ الٹ ڈالا
چہکتی اور مچلتی زندگی وحشت میں جا الجھی
کہ اب وہ ہیں نظام زرد کے تاریک بستر پر
جہاں پر جبر و وحشت کی عجب سی خار گاہیں ہیں
ستم آسیب بستی کی زہر آلودہ راہیں ہیں
وہ جن ہاتھوں ، ہتھیلی پر کبھی مہندی رچاتی تھی
وہ جن پیروں پہ چل کر میری جانب دوڑی آتی تھی
انایا رو کے مجھ سے پوچھتی ہے اپنے بازو کا
میں اس کو کیسے بتلاؤں کہ پاؤں بھی نہیں اس کے
گلابوں کی سی وہ رنگت شرر نے چاٹ ڈالی ہے
وہ جتنے پھول بوٹے تھے ستم نے کاٹ ڈالے ہیں
کوئی ایسا عمل کہ جس سے میرے زخم بھر جائیں
مگر ایسا نہیں ، ہرگز نہیں کہ زخم بھر جائیں
تسلی اور دلاسے سے تشفی اب نہیں ممکن
فقط آہیں ہیں ، آنسو ہیں وفور گریہ زاری ہے
مری بچی میں تیرے ناز نخرے کیسے بھولوں گا
ترے ہر غم ، ترے ہر درد کو اب گنگناوں گا
مری بچی کہاں سے ، دست و پا تیرے میں لاؤں گا ۔
اردو غزل کا معروف ترین موضوع حسن وعشق ہے شہباز کی شاعری میں حسن وعشق اور رومان بہت خوبصورتی سے برتا گیا ہے۔ان کے ہاں محبت کی کیفیات واحساسات کااظہار کبھی دکھ بن کر اور کبھی تنہائی کا احساس بن کر درد میں لپٹا محسوس ہوتا ہے ۔ زخم خوردگی ، دردوغم، تڑپ اور فکر روزگار قلب وذہن پر گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں ۔
کسی کے ذکر پہ اک سانس ہی کیا
رگوں میں خون بھی ٹھہرا ہوا ہے
کسی جمال کے پیندے میں دفن ہے شہباز
وہ جس مقام سے سورج ابھارا جائے
شہباز کے ہاں انسانی نفسیات کے تمام پہلو آشکار ہوتے ہیں ۔اداسی ،افسردگی، کرب و ملال، دکھ کی لہر بن کر ساتھ ساتھ چلتی ہے لیکن شہباز اس لہر کو آفاقی سچائیوں میں ڈھال لیتا ہے ،وہ انسان دوستی ،ذات اورحقیقت ِزیست سے سچ کو حقیقت بنا لیتا ہے ۔ دردوغم ذات سے نکل کر آفاقی بن جاتے ہیں اور رومان ایک نئے تغزل سے بہرہ ور ہوتا ہے:
میں ہوں اک خواب کے تصرف میں
جس میں آباد اک حقیقت ہے
جھوٹ ہے شان خسروی لیکن
کارِ فرہاد اک حقیقت ہے
عمر بھر طے نہ ہو سکا مجھ سے
رنج مرنے میں ہے یا جینے میں
شہباز ایسی فضا تخلیق کرتے ہیں جو عشق محبت اور رومان سے شروع ہوتی ہے حیرت اور تجسس میں غرق کرتی ہے لیکن اس میں سوگوار چاشنی اور کرب قاہم رہتے ہیں :
وہ میرے بعد اک حقیقت ہے
جس طرح یاد اک حقیقت ہے
ان کے ہاں زندگی کے حقائق تمام تر ناآسودگیوں اور اضطراب کے ساتھ بیان ہوئے ہیں ۔وہ تجرباتی شعور سے انسانی اقدار کے مسخ ہونے کا المیہ بیان کرتا ہے۔معاشی مسائل اور عشق کے ارتباط سے نئی شعری دنیا خلق کرتا ہے ۔
سرخ آنکھوں کا حال مت پوچھو
شب گزاری ہے اضطراب کے ساتھ
شہباز کی شاعری میں ترقی پسندانہ سوچ اور حرکت وعمل کا جذبہ کارفرما ہے وہ جبر کے سامنے صف آرائی کرتے ہیں ڈٹ جاتے ہیں اور جبر کے خلاف باغیانہ سوچ کی پرورش کرتے ہیں ۔بے دست وپاانسانوں اور مجبور و مقہور نسلوں کو دیکھ کر ان کا دل کڑھتا ہے ظلم وستم کے خلاف ان کاقلم انقلابی پروری کی طرف ماہل ہوجاتاہے۔
وہ جو ہیں رکھ لو ان کی دستاریں
ہم جو ہیں ، ہم سے سر لیئے جائیں ،
شہباز جہالت کے خلاف بولتے ہیں سوال اٹھاتے ہیں لیکن ان کا شعر نعرہ نہیں بنتا بلکہ فکر،نغمگی اور تاثر سے قاری کو ولولہ تازہ دے جاتے ہیں ۔ جبر کے مقابل آس ،امید اور انقلابی سوچ ان کے نمایاں پہلو ہیں۔
شہباز عصرحاضر کی تیز رفتار ترقی ، سائنس وٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انسانی زندگیوں ہر اثرت سے باخبر ہیں ۔معاشرے اور سماج کی بدلتی قدروں کے نباض ہیں مٹتی ہوئی تہذیبی اقدار اور بدلتے سماجی رویوں میں پرورش پانے والی نسل نو کو حرکت وعمل اور اجتماعیت کی ترغیب دیتے ہیں۔ان کے ہاں طرز زندگی اور معاشرتی مسائل پر طنز ملتا ہے ۔
مجھ کو لگتا ہے کہ گھر میں مجھے گھر والوں نے
ایک مزدور کمانے کے لیے رکھا ہے۔
غزل کے علائم ورموز ،نئی تراکیب اور تراکیب کا برمحل استعمال ان کو ہمعصر شعرا میں معتبر مقام عطاکرتا ہے
شہباز کی شاعری میں فلسفہ،سائنس،تاریخ،اور سیاست،جیسے موضوعات نیا روپ بن کر پیش ہوتے ہیں۔لفظوں کی ترتیب میں صوتی آہنگ،راونی اور سلاست نمایاں پہلو ہیں ۔ فکری لے انسان سے شروع ہوتی ہے اور انسان دوستی پر ختم ہوتی ہے
کیمیا گر میں وہ محلول بنا سکتا ہوں
جتنے کانٹے ہیں انھیں پھول بناسکتا ہوں
شہباز گردیزی نے اردو شاعری میں رثائی ادب کے دامن پر بھی نقوش مرتب کیے ہیں ۔ حمد، نعت، منقبت، سلام، مرثیہ اور نوحہ جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ان تخلیقات میں اہل بیت سے محبت وعقیدت کا اظہار ہے ۔مناقب اہل بیت بیان کرنے اور شہدائے کربلا کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ان کی شاعری میں واقعہ کربلا کی تلمیحات، تراکیب ، استعارات ،تشبیہات اور علامات کاوسیع ذخیرہ موجود ہے ۔حضرت علی ، حضرت فاطمہ، اور حضرت عباس کے کردار کی معنوی حقیقتوں ،کا ادراک ان کے اشعار کی زینت ہے ۔شہباز گردیزی کا رثائی ادب حدیت فکر، ظلم کے خلاف احتجاج، اہل بیت سے محبت اور دل بستگی کا پیغام دیتا ہے ۔
کسی نے پیاس کی شدت سے جب کہا پانی
پھر اس کے بعد نگاہوں میں بھر گیا پانی ۔
زمیں نے سوچا تو ہو کہ میں کہاں جاؤں
حسین زین سے جس دم زمین پر آئے
کشمیر شہباز کا مسکن ہے اپنی دھرتی سے کسے عشق نہیں ہوتا ۔ظلم ،جبر ،غلامی اور بے توقیری کا دکھ شہباز کے ہاں نیا طرز احساس بن جاتا ہے
ہاتھوں سے بناتے ہو جو ہرسال یہ زنجیر
ایسے تو نہ سلجھے گی یہ الجھی ہوئی تقدیر
ہے اپنے مکینوں کے لیے یہ تو جہنم
جنت ہے لثلٹیروں کے لیے وادی کشمیر
ندی کے بیچ ہے برق و شرر کا اک مقتل
اور اپنا شیش محل ہے ندی کے پار میاں
شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
وہ آسماں ہے سارے وطن پرستوں کا
سب اہل درد و جنوں ہیں اسی کے سائے میں
شہباز کی ایک نظم کشمیریوں کے شدید تر کرب کی حقیقی تصویر محسوس ہوتی ہے،
سازشیں ظالموں کی ہوئیں کارگر
اپنے اپنے گھروں سے نکالے گئے
کھولتی آگ میں لوگ ڈالے گئے
خوب ماتم کروں ایسی تعلیم پر
جشن کرتے ہو تم اپنی تقسیم پر
آگہی کی کمی یا جہالت کہوں
کیا کہوں، کیا کہوں! تم کو اے بے خبر ،
شہباز کی شاعری میں گھر بھی وطنیت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ،
عجیب دشت کے جیسا تھا وہ زبوں خانہ
میں جس مکان کو گھر کی طرح سمجھتا تھا
دیوار و در ہٹیں تو یہ منظر دیکھائی دے
گھر کی فصاء میں بند ہیں نالے پڑے ہوئے
شہباز کا شمار ان خوش نصیب شعراء میں کیا جاتا ہے کہ جن کے اشعار میں قدرت برکت کی فیاضی عطا کرتی ہے، ان کے لاتعداد اشعار زبان زدِ عام ہیں ان میں سے چند آپ قارئین کی خدمت میں پیش کیئے دیتے ہیں ،
اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی
بھول جانے کا عارضہ ہے مجھے
آپ نے نام کیا بتایا تھا
تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے
اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے
حیف مجھ پر کہ تم سے پوچھتا ہوں
پھول کھلتے ہیں کس مہینے میں
مجھے گلزار کی ہجرت ڈسے گی
سفر میں جب کہیں دینا پڑے گا
مرنے والے کو اس سے کیا شہباز
جینے والوں پہ کیا گزرتی ہے
کس سے ملتا ہے سوچنے دے مجھے
ترا چہرہ کسی سے ملتا ہے
عجیب شخص ہوں ساز و صدا سے نسبت ہے
کے ناؤ ڈوب رہی ہے میں گیت گاتا ہوں
اور
دونوں ہی مشہور بہت ہیں
تیری آنکھیں میرے خواب