تحریر:سید سلیم گردیزی
خط جموں وکشمیر خالق کائنات کے حسن تخلیق کا ایک شاہکار ہے۔ دست قدرت نے اس کی تراش و خراش اس کاریگری اور محبت سے کی ہے کہ د نیا کا کوئی خطہ اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ جہاں دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم باہم بغل گیر ہوتے ہیں، جو تین جغرافیائی خطوں جنوبی ایشیاء، وسط ایشیاءاور جنوب مشرقی ایشیاء کا مقام اتصال ہے۔ جہاں سربفلک اور برف پوش پہاڑ بھی ہیں اور وسیع و عریض میدان بھی، حد نظر تک پھیلے ہوئے مرغزار بھی ہیں اور شاداب وادیاں بھی، جہاں نیلگوں جھیلیں بھی ہیں، گنگتاتی ندیاں بھی اور بل کھاتے، شورمچاتے، جھاگ اڑاتے دریا بھی۔ جہاں سبزے کی لہک بھی ہے، پھولوں کی مہمک بھی اور پرندوں کی چہک بھی۔ موسموں اور آب و ہوا کے اعتبار سے جتنا تنوع اور رنگا رنگی اس خطے میں پائی جاتی ہے، شاید ہی دنیاکا کوئی دوسرا خطہ اس کی نظیر پیش کرسکے۔
سردی گرمی، بہار، خزاں، برسات غرض ہر طرح کے موسم اپنی تمام تر جوانی اور جولانی کے ساتھ اس ریاست میں پائے جاتے ہیں۔ جموں کے میدانوں کی جھلسا دینے والی گرمی ہو یا وادی کشمیر کی خوشگوار ٹھنڈک، گلگت، بلتستان اور لداخ کی شدید آب و ہوا ہویا آزادکشمیر کے پہاڑی خطے کا معتدل موسم، یہاں کے باشندے تمام موسموں کے خوگر اور فطرت کی ہر ادا کے شناسا ہیں لیکن اس جنت ارضی پرصدیوں سے دوزخوں کے در کھولے گئے ہیں۔ اس پر پشت در پشت غلامی کے عذاب مسلط کیئے گئے ہیں۔ اسے روندا، کچلا اور مسلا گیاہے۔اس کے حسن کو پامال کیا گیا، تار تار کیا گیاہے۔ یہ سلسلہ صدیوں پر محیط ہے۔کشمیر کے باشندوں نے تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں سید عبدالرحمن بلبل شاہ، امیر کبیر سید علی ہمدانی المعروف شاہ ہمدان اور ان کے ساتھ آنے والے سادات علماء و مبلغین کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ علامہ اقبال کا یہ شعر حضرت امیر کبیر کی شان میں زبردست ہدیہ عقیدت ہے.
سید السادات، سالار عجم
دست او معمار تقدیر امم
اسلام کی حیات بخش کرنوں کی ضوپاشی کے ساتھ ہی اس خطے کی تقدیر بدل گئی اور ایک شاندار اسلامی عہد کا آغاز ہوا۔ اس درخشاں عہد میں یہ خطہ علم و ادب، صنعت و حرفت، تعمیر وترقی اور فتوحات کے اعتبار سے بام عروج تک پہنچ گیا۔ یہ شاہ میری خاندان کا دور ہے جسے سلاطین کشمیر کا عہد بھی کہا جاتا ہے۔ دو سو سال پر محیط شاہ میری خاندان کا دور حکومت تاریخ کشمیر کا زریں عہد ہے۔ اگرچہ آخری دور کے شاہ میری حکمران دنیا پرست، عیاش اور اوصاف حکمرانی سے محروم ہوگئے تھے تاہم یہ دور مجموعی طور پر کشمیر کی ترقی و عروج کا عہد ہے۔ اس کے بعد 1552 سے 1586 تک چک خاندان کے دور میں حکمرانوں کی متعصبانہ پالیسیوں اور فرقہ وارانہ اقدامات کے باعث کشمیر زبردست داخلی خلفشار اور خانہ جنگی کا شکار ہوا۔ اس عہد کے ارباب علم و دانش، جن میں بابا داودخاکی اور شیخ یعقوب صرفی جیسے اکابرصوفیاء و علماءشامل تھے، نے اس مشکل کا یہ حل دریافت کیا کہ مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کو کشمیر کو سلطنت مغلیہ میں شامل کرنے کی دعوت دی جس پر شہنشاہ اکبر کی فوجوں نے 1586 میں یعقوب شاہ چک کو شکست دے کر ریاست کو سلطنت مغلیہ کا ایک صوبہ بنادیا۔
مغلیہ دور میں بھی یہ خطہ علم و ادب، شعروثقافت، فن تعمیر، صنعت و حرفت میں ترقی کی نت نئی منازل طے کرتا رہا۔ کشمیر میں مغلیہ عہد بھی تقریباً دو سو سال پر محیط ہے۔ آخری عہد کا مغلیہ اقتدار بھی شاہ میری اقتدار کے آخری دور کی طرح زیادہ شاندار نہیں تاہم مجموعی طور پر کشمیر کی ترقی و خوشحالی کی یہ چار صدیاں تاریخ کشمیر کا حاصل ہیں۔ اس کے بعد کشمیر پر ظلم و استبداد اور غلامی کے وہ منحوس سائے مسلط ہوئے جن سے چھٹکارے کی کوئی تدبیر آج تک کارگر نہ ہوسکی ہے۔
1753 میں جب ہندوستان میں مغل اقتدار زوال و انحطاط کا شکار تھا ، کشمیر میں بھی اس کی حالت چندان مختلف نہ تھی۔ مغلوں کے گلے سڑے نظام کے زمین بوس ہونے کی صورت میں کشمیر کے لیے آزادی کا در وا ہوسکتا تھا لیکن اس موقع پر کشمیری قیادت کی بے بصیرتی نے غلامی کا ایک اور پھندا کشمیر کے گلے میں ڈال دیا۔ کشمیر کاایک انتہائی بااثر رہنما میر مقیم کنٹھ کابل میں افغان حکمران احمد شاہ ابدالی کے پاس جا پہنچا اور ایک لاکھ روپیہ نقد اس کی خدمت میں نذرانہ پیش کرکے اسے کشمیر پر لشکر کشی کے لیے تیار کیا۔
افغان کا دور 1753 سے 1819 تک کے عرصہ پر محیط ہے لیکن یہ لوٹ مار، قتل و غارتگری اور ظلم و ستم سے بھرپور ایک سیاہ دور ہے۔ میر مقیم کنٹھ افغان لشکر کو اس امید پر دعوت دے کر لایا تھا کہ افغان حکمران کشمیر کا اقتدار اس کو سونپ دیں گے ۔حملہ آور افغان سپہ سالار عبداللہ خان ایشک اقاصی نے اسے بھی گرفتار کرکے کابل پہنچادیا اور اقتدار خود سنبھال کر ایک دور ظلم و جفا کا آغاز کیا۔ 1753 میں جو کردار میر مقیم کنٹھ نے افغانوں کو کشمیر پر قابض کرانے میں جوادا کیا تھا وہی کردار 1819 میں ایک کشمیری ہندو پنڈت راہنما بیربل در نے ادا کیا جو پنجاب کے سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا اور اسے کشمیر پر حملے کی دعوت دی۔ میر مقیم نے احمد شاہ ابدالی کو ایک لاکھ روپے نذرانہ پیش کرکے کشمیر پر حملے پر آمادہ کیا تھا تو پنڈت بیربل در اپنا بیٹا لاہور کے سکھ دربار میں بطور ضمانت یرغمالی رکھوا کر سکھ لشکر کو کشمیر پر چڑھالایا تھا لیکن جس طرح میر مقیم کے کشمیر کا حکمران بننے کے خواب افغان حملہ آوروں کے ہاتھوں چور چور ہوئے اسی طرح پنڈت بیربل در کی امیدیں بھی سکھوں سے پوری نہ ہوئیں اور اس کی کشمیر کی گورنری کی خواہش ناتمام ہی رہی۔
غداروں کا انجام تاریخ میں یہی ہوا ہے۔سکھوں کے دور ظلم و جفا کی تاریک رات جب اپنے اختتام کو پہنچی تو اس مردہ اژدھے کی کھوکھ سے جنم لینے والے ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ نے اپنے سکھ آقاﺅں سے غداری کے عوض انگریزی استعمار سے ساز باز کرکے بیعنامہ امرتسر کے ذریعے خطہ جنت نظیر کے بدقسمت باشندوں کو ڈوگرہ اور برطانوی استعمار کی دہری غلام(Double Colonialism) کا شکار کردیا۔دہری غلامی کا یہ دور 1846 سے 1947 تک پوری ایک صدی پر محیط ہے۔ایک تاریک صدی کے ظلم و ستم کے بعد 1947 میں جب آزادی کا سورج برصغیر پاک و ہند پر طلوع ہوا تو بھی کشمیریوں کی تیرہ بختی کا مداوانہ ہوسکا بلکہ جو گھناﺅنا کردار 1753 میں میر مقیم کنٹھ اور 1819 میں پنڈت بیربل در نے ادا کیا تھا، وہ اب کی بار نام نہاد شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے حصے میں آیا۔ اس کے اور اس کے خاندان کے ساتھ بھی جلدیا بدیر وہی سلوک ہوا جو اس کے پیش رو غداروں کے ساتھ ہوا تھا لیکن اس ظلم کا ازالہ ممکن نہ ہے جو اس فطرت کے حامل افراد کے اعمال و اقدامات کی وجہ سے نسلوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
بیسیویں صدی کے نصف اول میں برعظیم کے سیاسی افق پر نئے رجحانات اور امکانات نمودار ہوئے۔آزادی کی تحریک کے خدوخال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نمایاں ہوتے چلے گئے۔اگرچہ برصغیر کی سیاسی و تہذیبی زندگی میں ہندو اور مسلم فکر کے دھارے ہمیشہ سے ہی الگ الگ بہتے رہے ہیں۔دونوں قوموں کی نفسیات، نظریات، تاریخی تعبیرات، تہذیبی تصورات، ہیرو اور ولن اور سیاسی اہداف ایک دوسرے سے مختلف بلکہ متضاد رہے ہیں۔ برطانوی غلامی کے رشتے نے انہیں کبھی دوچار گام ساتھ چلنے پر مجبور کیا بھی تو دوسرے تلخ تر داخلی ، تہذیبی اور نفسیاتی عوامل نے تاریخ کے ہر موڑ پر انہیں ایک دوسرے کے مدمقابل لاکھڑا کیا۔ تقسیم بنگال ، نہرو رپورٹ، 1935 کی کانگریسی وزارتیں اور کابینہ مشن پلان کے حوالے سے ہندو قیادت کا طرز عمل ایسے سنگ ہائے میل ہیں جنہوں نے برصغیر کی مسلم سیاست کو ایک فیصلہ کن رخ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
جموں وکشمیر کے سیاسی ، تہذیبی، نفسیاتی حقائق بھی برصغیر پاک و ہند کے حقائق کا پرتو ہیں۔1947 کی ریاست جموں وکشمیر کی تین اکائیوں پر مشتمل تھی، صوبہ جموں ، صوبہ کشمیر اور لداخ ۔مسلمان تینوں حصوں میں الگ الگ بھی اور پوری ریاست میں مجموعی طور پر بھی غالب اکثریت میں تھے۔اگر 1846کے بیعنامہ امرتسر کے ذریعے جموں وکشمیر کو برطانوی استعمار کے زیر سایہ ایک الگ ذیلی استعماری ریاست کی شکل نہ دی گئی ہوتی تو 1947 میں طے پانے والے تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق پوری ریاست جموں وکشمیر خود بخود پاکستان کا حصہ بن جاتی لیکن بیعنامہ امرتسر کے نتیجے میں مسلم اکثریت کی اس ریاست کو ایک متعصب اقلیتی ہندو ڈوگرہ خاندان کی غلامی میں دے دیا گیا جس نے 1947 کے فیصلہ کن مرحلے پر ہندو مفادات کو پیش نظر رکھ کر اس کے ہندوستان سے الحاق کا اقدام کیا۔جموں وکشمیر کے مسلمان بھی برصغیر پاک و ہند کی مسلم جدوجہد سے توانائی اور راہنمائی حاصل کرتے تھے۔
اگرچہ انہیں بدترین دوہری غلامی کا شکار ہونے کے باعث سیاسی جدوجہد کے اس طرح مواقع حاصل نہ تھے جس طرح برطانوی ہند کے لوگوں کو حاصل تھے تاہم انہوں نے اپنی سمت برصغیر کی مسلم فکر کے مجموعی دھارے سے ہم آہنگ رکھی۔ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ الٰہ آباد، جس میں علامہ محمد اقبال نے اپنے تاریخی خطبے میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ مملکت کا تصور پیش کیا، میں بھی کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں شریک تھے اور ممتاز کشمیری محقق و مورخ پنڈت پریم ناتھ بزار کے مطابق 1931 میں ڈوگرہ شاہی کے خلاف مسلم نوجوانوں کی تحریک مزاحمت میں علامہ اقبال کا خطبہ الٰہ آباد بھی ایک اہم عامل تھا۔
23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس، جس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی، میں بھی بڑی تعداد میں کشمیری سیاسی کارکنوں کے علاوہ کشمیری قائدین کے اعلیٰ سطحی وفود شریک تھے ،اس اجلاس میں عین سٹیج پر آل انڈیا مسلم لیگ کے قائدین کے پہلو بہ پہلو سرزمین پونچھ سے تعلق رکھنے والے قائدین مولانا غلام حیدر جنڈالوی اور سید حسن شاہ گردیزی پر مشتمل وفد بھی فروکش تھا۔ مولانا غلام حیدر جنڈالوی نے قائداعظم محمد علی جناح کی موجودگی میں قرارداد پاکستان کی تائید میں خطاب بھی کیا۔ لیکن دوسری طرف انڈین نیشنل کانگریس اور مہاراجہ ہری سنگھ پر مشتمل ہندو قیادت بھی کچی گولیاں کھیلنے والی نہ تھی۔ کانگریس نے قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر جہاں مجموعی طور پر برصغیر کی مسلم سیاست و قیادت کو منقسم اور ایک دوسرے کے خلاف صف آراءکردیا وہاں 1931 کی تحریک آزادی کے بطن سے جنم لےنے والی نوخیز مسلم سیاسی تحریک میں قوم پرستی کی نقب لگاتے ہوئے اس کا ایک قابل لحاظ حصہ نےشنل کانفرنس کی صورت میں مسلم سیاست سے کاٹ کر برصغیر ہندوسیاست سے منسلک کردیا۔
برصغیر پاک و ہند کے باقی حصوں میں قائداعظم محمد علی جناح کی پرخلوص اور پرعزم قیاد ت کے مقابلے میں ہندوستانی قومیت کے علمبردار مسلم راہنماﺅں کا جادو زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ، شیخ الہند مولانا حسین احمد مدنی،سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اور دوسرے ہندوستانی قوم پرست مسلم کانگریسی قائدین کے چراغ یکے بعد دیگر گل ہوتے چلے گئے اور برصغیر کے مسلمان قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں منظم ہوتے چلے گئے۔قائداعظم کی نظر میں کشمیر کی کس قدر اہمیت تھی ، اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 1944 کے سال جب برصغیر میں تحریک آزادی زوروں پر تھی ، اس ہنگامہ خیز دورکی گوناگوں مصروفیات میں سے آپ نے تفصیلی دورہ کشمیر کے لیے وقت نکالا۔آپ کا یہ دورہ 08مئی تا26جولائی 1944 تک کے عرصے پر محیط ہے۔اگرچہ قائداعظم کو دورہ کشمیر کی دعوت شیخ عبداللہ نے بھی دی تھی جبکہ مسلم کانفرنس پہلے ہی انہیں مدعو کرچکی تھی۔اس دورے میں قائداعظم ریاستی مسلم سیاسی دھارے کے دونوں دھڑوں کو باہم قریب لاکر کشمیر کی مسلم سیاست کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے تھے تاہم شیخ عبداللہ ، جو انڈین نیشنل کانگریس کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوچکے تھے.
کانگریس کی ہندوستانی قوم پرستی کی فکر، ہندو ساہوکاروں کا سرمایہ اور ہندو پریس کا پروپیگنڈہ ان کی سیاست کو چار چاند لگارہا تھا۔ ان فوائد اور امکانات سے دستبردار ہوکر وہ محمد علی جناح کے دو قومی نظریئے سے وابستہ ہونے کو تیار نہ تھے۔قائداعظم کو دورہ کشمیر کی دعوت دیتے وقت شیخ عبداللہ کا خیال تھا کہ قائداعطم ایک جلسہ میں ان کی تعریف میں چند الفاظ ادا کردیں گے جس کی بنیاد وہ سادہ لوح کشمیریوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرسکیں گے کہ ان کی قوم پرستانہ سیاست کو قائداعظم کی اشیرباد حاصل ہے لیکن قائداعظم شیخ صاحب کے پوشیدہ عزائم سے واقف تھے۔انہوں نے شیخ عبداللہ کو قوم پرستی کے سراب سے نکل کر مسلمانان برصغیر کے مجموعی سیاسی دھارے میں شمولیت کی ہدایت کی جوکہ شیخ کو ناگوارگزری۔انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے خلاف نازیبا تقاریر بھی کیں اور اپنے نیشنل گارڈز کے ذریعے مسلم کانفرنسی کارکنان پر حملے بھی کرائے۔تاہم اس دورے کے دوران قائداعظم نے کشمیری عوام کی نجات کا بھی وہی راستہ بنایا جو برصغیر کے دیگر حصوں کے مسلم عوام کی نجات کا راستہ تھا یعنی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل پاکستان کا قیام۔
اگر جموں وکشمیر کے عوام کو آزادانہ سیاسی جہدوجہد کے ذریعے فیصلہ کرنے کا موقع دیا جاتا تو ان کا فیصلہ بھی وہی ہوتا جو برصغیر کے باقی مسلمانوں کا فیصلہ تھا اور جس حد تک انہیں فیصلہ کرنے کا محدود اور مشروط سا موقع ملا، اس میں انہوں نے اس کا اظہار بھی کردیا۔1938 اور 1946 کے ریاستی انتخابات میں کشمیری عوام نے دو قومی نظریئے کی حامل جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کےامیدواروں کو بھاری اکثریت سے منتخب کیا لیکن تقسیم ہند کے فیصلہ کن مرحلے پر برطانوی گورنر جنرل لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے باﺅنڈری کمیشن کے سربراہ ریڈکلف پر اثرانداز ہوکر جس طرح گورداسپور کو بھارت میں شامل کرتے ہوئے ہندوستان کو جموں وکشمیر تک زمینی رسائی فراہم کی اور پھر کانگریس، مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ نے جس طرح سازش اور ساز باز کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی کے علی الرغم بھارتی قبضہ ممکن بنایا وہ تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔قائداعظم محمد علی جناح اسلامیان برصغیر کے قائد کی حیثیت سے جموں وکشمیر کے معاملات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے تھے۔انہوں نے ہر مرحلے پر کشمیری مسلمانوں کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام ۔
وہ برطانوی ہند کی آئین سازاسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اسمبلی کی کارروائی ہو، برطانوی حکام سے ملاقاتیں ہوں یا مہاراجہ جموں وکشمیر سے مراسلت، کشمیری عوام کو درپیش مسائل قائداعظم کی ترجیحات میں ہمیشہ سرفہرست رہے ہیں۔قائداعظم نے اپنی گرتی ہوئی صحت اور تحریک پاکستان کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود کشمیری قیادت ، شخصیات، حتی کہ نچلے درجے کے سیاسی کارکنوں سے بھی خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رکھا اور ان کی لمحہ بہ لمحہ راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا لیکن 1947 میں عین تقسیم برصغیر کے موقع پر جو صورت حال پیدا ہوئی وہ آگے چل کر لا پنحل تنازعہ کی شکل اختیار کر گئی اور اب اس ڈور کے سلجھاو کی ہر کوشش اس کے مزید الجھاو کا سبب بن رہی ہے-