ڈائیلاگ/ سردار محمد طاہر تبسم
اولیائے کرام و صوفیاُ دراصل شمع رسالت کا ایسا پرتو ہوتے ہیں کہ ان کے عمل و کردار کی مہک سے ایسے انمول صوتے پھوٹتے ہیں جس سے وہ خطہ نور بصیرت سے منور ہو جاتا ہے اور ہر سو ایمان و ایقان کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ کشمیر حقیقت میں انہی اللہ کے دوستوں کی اماجگاہ اور مسکن رہا ہے جن سے یہ خطہ ایمان کی حرارت سے روشن ہے اور اللہ کی توحید اور عشق رسول کی شمعیں فروزاں رہی ہیں۔ حضرت سائیں گوڈری بادشاہ رح ہمارے اسلاف سے ایسے معتبر و مقرب روحانی پیشوا اور قلندر گزرے ہیں جن کی نادر شخصیت کشمیر و پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے۔وہ ایک ایسا دمکتا ہوا ستارہ تھے جس کی وجہ سے کئی ستاروں کو روشنی ملی اور یہ سلسلہ اب تک تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

سائیں صاحب گودڑی لپیٹ رکھتے تھے اس وجہ سے گودڑی بادشاہ کے نام سے موسوم ہوئے شاید ہی کسی کو ان کا اصل نام معلوم ہو۔ علاقے کے لوگوں نے انہیں کئی مرتبہ ہوا میں اڑتا دیکھا جس کی شہرت دور و نزدیک ہر علاقے میں ہوئی اور ہر وقت ہزاروں معتقدین اور عشاق کا ہجوم ان کی محفل میں رہتا تھا۔ امراُ، معززین، بڑے عہدے دار اور کاملین بھی انہیں آزمانے اور اکثر فیض یاب ہونے آتے تھے۔ ان کے زہد و تقوی کی وجہ سے اللہ کریم نے ان کی زبان میں ایسی تاثیر پیدا کر دی تھی کہ جو دعا یا بات کرتے وہ اللہ رب الجلال پوری کر دیتا۔آپ کی شہرت کا ڈنکا ہر سو پھیلا اور ان کی درجنوں کرامات آج بھی زبان زد عام ہیں۔ آپ کے جانشین حضرت سائیں فرزند حسین فاروقی رح نے بھی بڑی شہرت پائی۔
حضرت سائیں فرزند حسین فاروقی سجادہ نشین سیاح شریف 1940 میں قلندر زماں بابا گودڑی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد میں چوتھی پشت سے سائیں ولایت حسین رحمتہ للہ کے ہاں پیدا ہوے اور انکی آغوش میں دینی روحانی تعلیم و تربیت حاصل کی آپکی عمر پندرہ سال تھی جب آپ کے والد گرامی کاوصال ہو گیا۔ پھر یہ بھاری ذمہ داری داری آپ کے کاندھوں پر آ گئی مگر اللہ نے آن سے اتنا کام لیا کہ چھوٹی عمر سے دین دوستی اور شریعت مطہرہ پر عمل آپکی زندگی کا شعار بن گیا۔آپ نے خانقاہی نظام میں بہتری لانے کے لئے کئی کاوشیں کیں اور عرس کی مجالس میں جید علماء کرام کو مدعو کر کے دعوت وتبلیغ کے کام کو تیز کیا جو اس وقت آپکا منفرد کارنامہ تھا۔
پورے پاکستان و آزاد کشمیر میں آپ کے لاتعداد مریدین موجود ہیں۔سدھنوتی کے دارالعلوم غوثیہ کے تاحیات سرپرستت رہےاورپلندری، تراڑکھل میں میلاد مصطفی کے جلوس کا آغاز کیا۔ نیریاں شریف مرشد آباد میں جمعہ کا آغازکیا اور گڑالہ کی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جہاں آج عظیم دارالعلوم قاہم ہے اپنے آستانے پر مسجد کا قیام اور موضع ادڈہ جہاں آپکا مزار پر انوار ہے وہاں مسجد اس دور میں تعمیر کرائی جب پیدل سفر تھا’ راولپنڈی سے اینٹیں منگوا کر تعمیر کروائی گئی انکی بڑی خواہش تھی کہ آستانے پر بھی بڑا دارالعلوم قائم ہو۔ انکی زندگی میں آپکے لخت جگر موجودہ سجادہ نشین پیر شہزاد حسین فاروقی نے دارالعلوم بھی قاہم کیا۔طالبات وطلباء کی تعلیم اور مخلوق خدا کی ویلفیر کا کام بہت احسن انداز میں ہو رہا ہے ۔
جو آج بھی چاری ہے۔ حج وعمرہ کی سعادت حاصل ہوئی اور برطانیہ کے دورے کا بھی موقع ملا۔2022 کو آپکا وصال ہوا ملک بھر سے ہزاروں افراد نے نماز جنازہ میں شریک ہوہے نماز جنازہ مزکزی سجادہ نشین نیریاں شریف جانشین سرکار نیروی حضرت پیر محمد فضل ربانی زایدی نے پڑھائی جبکہ دوسری نماز جنازہ آپکے بیٹے جانشین سائیں شہزاد حسین فاروقی نے والد گرامی کی وصیت کے مطابق برطانیہ سے آکے پڑھائی۔وہ انتہائی سادہ، خوش مزاج اور صاحب فکر و نظر اولیاُ و صوفیاُ میں سے تھے۔ عبادت، ریاضت اور ذکر و وظائف ہمیشہ معمول رہا۔ تبلیغی و روحانی محافل کا انعقاد ان کا معمول تھا۔ محافل میلاد اور ذکر رسول کو اپنی زندگی کا معمول رہا اصلاح احوال اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لئے ہر وقت سر بکف رہتے۔
وہ پاکستان اور کشمیر کے معروف اور نامور کاملین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی شفقت اور نظر کرم مجھ پر بھی رہی اور متعدد مرتبہ ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا۔جو میری زندگی کا اثاثہ ہے آپ کے سجادہ نشین ساہیں شہزاد حسین قادری ڈربی برطانیہ میں مستقل آباد ہیں وہ ایک تعلیم یافتہ علمی و سماجی آور روحانی شخصیت ہیں انہوں نے اپنے جد اعلی ساہیں گورڈی بادشاہ کے نام سے ویلفیر ٹرسٹ اور درگاہ کے متصل دارالعلوم بھی قاہم کیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کے لئےدرس نظامی تجوید، حفظ و قرات کی دینی تعلیم کا اعلی انتظام موجود ہے۔ حضرت ساہیں گودڑی بادشاہ رح اور حضرت ساہیں فرزند حسین فاروقی رح کا سالانہ عرس مبارک ہر سال کی طرح امسال بھی ساہیں شہزاد حسین قادری سجادہ نشین کی زیر سرپرستی ۲۵ اپریل سے شروع ہورہا ہے جو تین دن جاری رہے گا جس میں اہم قومی و سیاسی شخصیات، مشائخ عظام، علمائے اکرام اور نعت خوان حضرات کثیر تعداد میں عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کر رہے ہیں.