راولاکوٹ (نمائندہ خصوصی) آزادکشمیر کی معروف سماجی شخصیت، کے ذی کے فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن، سابق چیئر پرسن سدھن ایجوکیشنل کانفرنس خواتین ونگ بیگم خدیجہ زین خان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر اور پسماندہ علاقوں کے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے، ہمارے اسلاف نے جن مقاصد کیلئے قربانیاں دی تھیں انہیں حاصل کرنے کیلئے ہمیں منظم اور مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھنا ہو گا، اگر اس موقع پر ہم نے کسی طرح کی کوئی کوتاہی کی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا، اس لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح احساس کرنا ہو گا تاکہ اپنی قوم کو درست سمت پر گامز ن کرسکیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک استقبالیہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر ان کی تعلیمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ بھی عطا کیا گیا، اس تقریب سے صدر غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ سردار راشد نذیر،میونسپل کارپوریشن کے ممبر، صدر پاکستان پیپلزپارٹی ضلع پونچھ سردار عامر خورشید، سابق صدور پریس کلب عابد صدیق، ریاض شاہد، عبدالرزاق، وسیم اعظم،،بنت حوا ٹرسٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر خدیجہ نذر، ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیٹر کے ذی فاؤنڈیشن صبا زراعت، محمد فاروق اور دیگر نے خطاب کیا اور بیگم خدیجہ زرین کی سماجی و تعلیمی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم خدیجہ زرین نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، آزادکشمیر میں د و لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جو مختلف حالات کے باعث سکولوں میں نہیں جاسکتے، میری ترجیح ہے کہ ایسے بچوں کو تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے، یکساں تعلیم ہمارا مشن ہے، میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ امیر اور غریب کے بچے ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر یکساں تعلیمی مواقعوں سے استفادہ کریں.

جب ہم امیر اور غریب کے بچوں میں تفریق ختم کریں گے یہ ایک پائیدار، دیرپا اور خوشحال، ترقی یافتہ معاشرہ پروان چڑھے گا، انہوں نے کہا کہ خواتین کو دین اسلام نے جو حقوق دئے ہیں وہ کسی اور مذہب میں خواتین کو حاصل نہیں، خواتین معاشرے کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں، انہیں اپنے حقوق و فرائض سے ہر صورت آشنائی حاصل کرنا ہو گی،ہمارے مذہب اور معاشرے میں مرد کو چونکہ برتری حاصل ہے اس لئے عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ اس احترام کو ملحوظ خاطر رکھے اور مذہبی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنا فعال کردار ادا کرے،ایک خاتون اپنی اہلیت، فہم و فراست کی بنیاد پر مرد پر حکمرانی کر سکتی ہے تاہم اس کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے دین کے مطابق اپنے فرائض پر بھی توجہ دے، اسلام میں وضع کردہ قوانین کے مطابق ہی عورت اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ کے ذی فاؤنڈیشن آزادکشمیر کے تمام اضلاع میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور ہم نے جن ترجیحات کا تعین کر رکھا ہے ان کے حصول کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا.
ہمارا مقصد اس معاشرے کو ایسے تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگ فراہم کرنا ہے جو مستقبل میں اس خطہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے فعال کردا ر ادا کرسکیں، انہوں نے بتایا کہ سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کا قیام پاکستان بننے سے پہلے عمل میں لایا گیا تھا اور یہ اس خطہ کی پہلی رجسٹرڈ تنظیم تھی جس نے تعلیم کے فروغ کیلئے کام کیا، میں نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس میں طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں، منگ میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام، بلا تخصیص تعلیمی وظائف کی فراہمی، ایجوکیشنل کمپلیکس کی تعمیر سمیت دیگر منصوبہ جات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا اور آج یہ تنظیم ایسا تن آور درخت بن چکی ہے جس کے سایے سے بلا تخصیص مختلف قبائل کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ آج امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ مسائل کی دلدل میں دھنس چکی ہے.
امت مسلمہ اگر اتحاد و اتفاق سے آگے بڑھے تو ایک بار پھر وہ پوری حکمرانی کرسکتی ہے اور ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب پوری دنیا میں ایک بار پھر اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔راولاکوٹ (نمائندہ خصوصی) آزادکشمیر کی معروف سماجی شخصیت، کے ذی کے فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن، سابق چیئر پرسن سدھن ایجوکیشنل کانفرنس خواتین ونگ بیگم خدیجہ زین خان نے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر اور پسماندہ علاقوں کے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت اولین ترجیح ہے، ہمارے اسلاف نے جن مقاصد کیلئے قربانیاں دی تھیں انہیں حاصل کرنے کیلئے ہمیں منظم اور مربوط پالیسی کے تحت آگے بڑھنا ہو گا، اگر اس موقع پر ہم نے کسی طرح کی کوئی کوتاہی کی تو آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا، اس لئے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پوری طرح احساس کرنا ہو گا تاکہ اپنی قوم کو درست سمت پر گامز ن کرسکیں.
ان خیالات کا اظہار انہوں نے غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ کی طرف سے اپنے اعزاز میں دئے گئے ایک استقبالیہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر ان کی تعلیمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ بھی عطا کیا گیا، اس تقریب سے صدر غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ سردار راشد نذیر،میونسپل کارپوریشن کے ممبر، صدر پاکستان پیپلزپارٹی ضلع پونچھ سردار عامر خورشید، سابق صدور پریس کلب عابد صدیق، ریاض شاہد، عبدالرزاق، وسیم اعظم،،بنت حوا ٹرسٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر خدیجہ نذر، ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیٹر کے ذی فاؤنڈیشن صبا زراعت، محمد فاروق اور دیگر نے خطاب کیا اور بیگم خدیجہ زرین کی سماجی و تعلیمی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیگم خدیجہ زرین نے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، آزادکشمیر میں د و لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جو مختلف حالات کے باعث سکولوں میں نہیں جاسکتے.
میری ترجیح ہے کہ ایسے بچوں کو تعلیم کے بہترین مواقع فراہم کرکے معاشرے کا کارآمد فرد بنایا جائے، یکساں تعلیم ہمارا مشن ہے، میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ امیر اور غریب کے بچے ایک ہی ڈیسک پر بیٹھ کر یکساں تعلیمی مواقعوں سے استفادہ کریں، جب ہم امیر اور غریب کے بچوں میں تفریق ختم کریں گے یہ ایک پائیدار، دیرپا اور خوشحال، ترقی یافتہ معاشرہ پروان چڑھے گا، انہوں نے کہا کہ خواتین کو دین اسلام نے جو حقوق دئے ہیں وہ کسی اور مذہب میں خواتین کو حاصل نہیں، خواتین معاشرے کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے بنیادی کردار ادا کرسکتی ہیں، انہیں اپنے حقوق و فرائض سے ہر صورت آشنائی حاصل کرنا ہو گی،ہمارے مذہب اور معاشرے میں مرد کو چونکہ برتری حاصل ہے اس لئے عورت پر بھی لازم ہے کہ وہ اس احترام کو ملحوظ خاطر رکھے اور مذہبی حدود و قیود میں رہتے ہوئے اپنا فعال کردار ادا کرے.
ایک خاتون اپنی اہلیت، فہم و فراست کی بنیاد پر مرد پر حکمرانی کر سکتی ہے تاہم اس کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنے دین کے مطابق اپنے فرائض پر بھی توجہ دے، اسلام میں وضع کردہ قوانین کے مطابق ہی عورت اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ کے ذی فاؤنڈیشن آزادکشمیر کے تمام اضلاع میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہے اور ہم نے جن ترجیحات کا تعین کر رکھا ہے ان کے حصول کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا، ہمارا مقصد اس معاشرے کو ایسے تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگ فراہم کرنا ہے جو مستقبل میں اس خطہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے فعال کردا ر ادا کرسکیں، انہوں نے بتایا کہ سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کا قیام پاکستان بننے سے پہلے عمل میں لایا گیا تھا اور یہ اس خطہ کی پہلی رجسٹرڈ تنظیم تھی جس نے تعلیم کے فروغ کیلئے کام کیا.
میں نے سدھن ایجوکیشنل کانفرنس میں طویل عرصہ تک خدمات انجام دیں، منگ میں یونیورسٹی کیمپس کا قیام، بلا تخصیص تعلیمی وظائف کی فراہمی، ایجوکیشنل کمپلیکس کی تعمیر سمیت دیگر منصوبہ جات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا اور آج یہ تنظیم ایسا تن آور درخت بن چکی ہے جس کے سایے سے بلا تخصیص مختلف قبائل کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ آج امت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ مسائل کی دلدل میں دھنس چکی ہے، امت مسلمہ اگر اتحاد و اتفاق سے آگے بڑھے تو ایک بار پھر وہ پوری حکمرانی کرسکتی ہے اور ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب پوری دنیا میں ایک بار پھر اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔