تلاش/سید خالد گردیزی
ابتدائیہ:
چند دن قبل ایک کام کے سلسلے میں مسلسل 24 گھنٹے سے زائد لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھنا پڑا۔فارغ ہوا تو سو گیا۔جاگا تو محسوس ہوا کہ ایک پاؤں سن ہے۔چل کر دیکھا تو پاؤں پوری طرح اپنا کام نہیں کر پا رہا تھا تاہم جسم کے کسی حصے میں معمولی سا درد بھی نہ تھا۔
علاج کا آغاز
ہمارا تجربہ ہے کہ پمز میں ملک کے بہترین ڈاکٹرز بیٹھتے ہیں اس لئے کسی پرائیویٹ ہسپتال کی بجائے ہم سیدھے پمز چلے گئے۔ایمرجنسی اور نیوروالوجی کی وارڈ میں ڈاکٹرز نے دیکھا۔ایکسرے ہوا تو معلوم ہوا کہ ریڑھ کی ہڈی میں فالٹ یا فالج وغیرہ کا خطرہ نہیں ہے۔ڈاکٹرز نے چند ادویات اور مشقیں تجویز کیں اور کہا کہ ایک ہفتے میں ٹھیک نہ ہوئے تو واپس آئیں۔
پرائیویٹ
ادویات لینا شروع کیں تو پرسوں ہی ایک دوست نے تجویز دی کہ علی میڈیکل میں پمز سے ریٹائرڈ نامور نیورو سرجن بیٹھتے ہیں انہیں دکھائیں۔ہم علی میڈیکل پہنچ گئے تو آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم گیا جب مرتضیٰ درانی صاحب Murtaza Durran کی شریک حیات کی ڈیڈ باڈی ہم نے رسیو کی تو درانی صاحب کے ڈاکٹروں پر شدید اعتراضات تھے۔دوستوں نے خاصی ہنگامہ آرائی کی۔انتظامیہ کے پاس ڈاکٹروں کی غفلت کا کوئی جواب نہ تھا بہرحال ایک جان جا چکی تھی۔
اگلہ مرحلہ
نیورو سرجن کے پاس پہنچے اور انہیں سٹوری سنائی تو انہوں نے پاؤں میں سوئی چبوئی تو سوئی چھبنے کا احساس ہوا۔پنجوں کے بل چلایا تو دونوں پاؤں میں طاقت موجود تھی۔ایڑھی کے بل چلایا تو متاثرہ پاؤں کی ایڑھی میں مطلوبہ طاقت موجود نہ تھی یعنی پاؤں کو مطلوبہ کرنٹ نہیں مل رہا تھا۔ڈاکٹر نے ایک نسخہ لکھا جس میں ایک پین کلر اور اس کے معدے پر اثرات سے بچنے کے لئے ٹیبلٹ (حالانکہ مجھے درد نہیں تھا) سیمت وٹامن کی ایک ٹیبلٹ سمیت ایم۔آر۔آئی اور دیگر مہنگے ٹیسٹ تجویز کر دیئے۔
ٹیسٹوں کے مراحل
ہم سب کام چھوڑ کر ٹیسٹوں کے پیچھے چل پڑے۔ایم آر آئی کے لئے وقت لیا اور نیورو سے متعلق دو ٹیسٹوں کے لئے ایک نیورو فزیشن نے رابطہ کیا۔یہ نیورو فزیشن ہمارے کچھ عزیزوں کا کلاس فیلو ہے۔اس نے تجویز کردہ دو میں سے ایک ٹیسٹ فالتو قرار دیکر دوسرا ٹیسٹ پوری توجہ سے کیا اور بتایا کہ پاؤں کو آگے پیچھے کرنے والی وینز میں سے ایک گھٹنے کے پاس سے پریس ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پاؤں کو کرنٹ پاس نہیں ہو رہا اور یہ اکثر ان لوگوں کو ہو جاتا ہے جو کسی ایک طرف وزن ڈال کر زبادہ دیر بیٹھے رہتے ہیں یا آٹومیٹک گاڑی پر لمبے سفر کے دوران انکا ایک پاؤں یونہی پڑا رہتا ہے۔بہرحال اس نے اپنی طرف سے تھراپی اور چند مشقوں سمیت وٹامنز بھی تجویز کئے اور کہا کہ نیورو سرجن کو یہ ٹیسٹ دکھا دیں تو کافی ہے۔
تشخیص:
این سی سی نامی ٹیسٹ سے یہ واضح ہو گیا کہ ایشو کیا ہے۔باقی ٹیسٹ چھوڑ کر ہم سیدھے نیورو سرجن کے پاس پہنچے تو انہوں نے باقی ٹیسٹ نہ کرانے پر برا سا منہ بناتے ہوئے ٹیسٹ دیکھ کر آپریشن کا کہہ دیا۔ہم ہونقوں کی طرح ان کا منہ دیکھتے رہ گئے۔قربب تھا کہ بیڈ سے اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوتا سوچا ذرا مزید گہرائی میں جاتے ہیں۔
آپریشن
ہم نیورو سرجن کے پی اے کے پاس پہنچے تو اس نے آٹھ مزید ٹیسٹ لکھ کر دیئے اور آپریشن کے لئے اگلے روز کا وقت دیکر بتایا کہ تقریباً دو لاکھ روپے اخراجات ہوں گے۔ہم نے فائل اٹھائی اور باہر آکر دوسری رائے کے لئے انگلینڈ۔دبئی اور قطر میں موجود اپنے عزیز ڈاکٹروں کو ٹیسٹ وٹس اپ کر کے ان سے رائے مانگی۔
دوسری رائے
عزیز ڈاکٹروں نے پوچھا کہ آپ کو آپریشن کس نے تجویز کیا؟میں نے بتایا کہ نامی گرامی نیورو سرجن ہیں۔عزیز ڈاکٹروں نے کہا کہ آپریشن بالکل بھی علاج نہیں ہے۔آپ کسی اچھے نیورو فزیشن کو دکھا کر اسے ہماری تجویز بتاؤ کہ پلازما انجیکٹ کرو۔تھراپی کرو اور اگر مسئلہ حل نہ ہو تو سیدھے ہمارے پاس آجاؤ مگر آپریشن مت کرانا۔
آپریشن کا آپریشن
آج نیورو سرجن کے پاس جا کر آپریشن کرانے کی بجائے نیورو فزیشن سے وقت لیا ہے تاہم پمز کی تجویز کردہ ادویات اور نیورو فزیشن کی بتائی ہوئی مشقوں کے نتیجے میں پاؤں میں کرنٹ پاس نہ ہونے کی وجہ سے واک کے دوران لڑکھڑاہٹ تقربباً ختم ہو گئی ہے۔امید ہے پلازما اور تھراپی وغیرہ سے مسئلہ حل ہو جائیگا۔اس طرح فی الحال آج جیب اور گھٹنہ کٹنے سے بچ گیا۔
نوٹ:آپ سے شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مارکیٹ میں موجود ان آپریشن ماسٹرز سے بچیں جن کا دل ابتدائی فیس۔ادویات اور ٹیسٹوں میں کمیشن سیمت میڈیسن کمپنیوں کی طرف سے بیرون ملک مفت دوروں وغیرہ سے نہیں بھرتا اور وہ جھٹ سے آپریشن تجویز کر دیتے ہیں تاکہ مہینے میں اگر دس آپریشن ہی کر دیں تو اخراجات نکال کر آپریشنز کی مد میں براہ راست 10 لاکھ روپے اوسط آمدن تو ہواگر آپ کا کوئی عزیز ڈاکٹر موجود نہیں ہے تو سرکاری ہسپتالوں کی بجائے پرائیویٹ ہسپتالوں پر تکیہ مت کریں۔حاملہ خواتین سب سے زیادہ آپریشنز کا شکار ہیں اور کئی تو اس پراسس کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔بعض اوقات تو ڈاکٹرز “اوزار جراحی” پیٹ میں ہی چھوڑ کر ٹانگے لگا کر چلتا کر دیتے ہیں۔شکریہ