ہماری رول ماڈل اور معاشرتی رویے

239

تحریر:سیدہ دعا فاطمہ گردیزی
یہ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم کسی کو باعزت ، باوقار دیکھنے کے عادی نہیں رہے۔ جیسے ہی کوئی شخص کسی اچھی پوزیشن پر نظر آتا ہے تو ہم موقع ملتے ہی اس کی تضحیک و تذلیل شروع کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں ، کسی کی برسوں پر محیط ساکھ کو لمحوں میں خاک میں ملانے کی کوشش وطیرہ بنا لیا ہے۔ حالیہ دنوں ایک حادثے یا واقعے کو بنیاد بنا کر ایک سرکاری افسر کے خلاف جس انداز میں رائے زنی کی گئی، اس نے تکلیف دی اور کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔

یہ سب دیکھ کر دل میں ایک کسک سی اٹھتی ہے کہ کیا ہم واقعی اس شخصیت کو جانتے بھی ہیں جس بارے سنی سنائی باتوں پر ہم بڑی ہی آسانی سے رائے زنی کرتے ہیں؟وقت گذر جانے کے بعد ٹھنڈے دل دماغ سےئمیرا سوال ان تمام افراد سے ہے جو “سیکرٹری ہائر ایجوکیشن” کے حوالے سے تبصرے کر رہے تھے کہ کیا آپ محترمہ تہذیب النساء کو جانتے ہیں؟

کیا آپ نے صرف ایک نام سن کر، انہیں محض ایک سرکاری عہدیدار اور ایک “خاتون” سمجھ کر جو دل میں آیا کہہ دیا؟ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے کتنی محنت، ریاضت اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے؟ اور کیا کوئی مضبوط ایڈمتسٹریٹر اور نامور خاتون یہ چاء سکتی ہے کہ وہ کسی تصادم کا حصہ بنے؟

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کے لیے گھر سے باہر قدم رکھنا بھی ایک چیلنج ہو، وہاں پہلی خاتون اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور پھر سیکرٹری جیسے اہم عہدوں تک پہنچنا صرف ایک نوکری نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد اور معرکہ ہے۔

تہذیب النساء ایک فوجی افسر کی قابلِ فخر بیٹی ہیں۔ ڈسپلن ان کے رگ و پے میں ہے۔انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک استاد کے طور پر کیا۔ ان کا سفر دراصل اس معاشرے میں “روز جینے اور روز مرنے” کی داستان ہے۔ایسا سفر جس میں وقار کو ہر حال میں قائم رکھنا پڑتا ہے۔

لوگ الزام تراشتے ہیں، کردار پر کیچڑ اچھالتے ہیں مگر کیا آج تک کوئی ایک ٹھوس مثال سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کیا ہو؟ کیا کسی نے یہ ثابت کیا کہ ان کے ہاتھوں کسی کا حق پامال ہوا ہو یا ان کی وجہ سے کسی کا نقصان ہوا ہو؟

اگر نہیں تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ ایک قابلِ نظرانداز واقعہ کو ہم مل بیٹھ کر ختم کرنے کی بجائے کیوں ایک بڑے تنازعے میں بدل دیتے ہیں؟ دوسری جانب دراصل یہ سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی ہے جو اکثر ہماری اپنی بے احتیاطی، جلد بازی اور ذہنی انتشار کا عکس ہوتی ہے.

جہاں ہم تحقیق کے بغیر رائے دیتے ہیں اور سچ جانے بغیر فیصلہ سناتے یا تضحیک و تذلیل پر اتر آتے ہیں۔یاد رکھیں، کردار ایک بلند عمارت کی مانند ہے جو برسوں کی دیانت، محنت اور اصولوں پر قائم ہوتی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر کردار کشی چند لمحوں کا کھیل ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تہذیب النساء جیسی اچھی اور ڈسپلن کی پابند خواتین نہ صرف اپنے شعبے میں نمایاں ہیں بلکہ وہ آزاد کشمیر کی بچیوں کے لیے ایک جیتی جاگتی مثال بھی ہیں۔ ان کا سفر زندگی یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک لڑکی صفر سے آغاز کر کے بھی عروج تک پہنچ سکتی ہے اور ہر طرح کے حالات میں اپنا وقار برقرار رکھ سکتی ہے۔

اگر کبھی ایسی خواتین کے کسی فیصلے سے اختلاف بھی ہو یا وہ سختی کریں تب بھی ان کی جدوجہد اور مقام کا احترام ضروری ہے۔ وہ اس نظام میں ہمت، حوصلے اور استقامت کی ایک علامت ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو ایسی ہی شخصیات کی کہانیاں سنانی چاہئیں تاکہ وہ خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت بنانے کا حوصلہ پیدا کر سکیں۔

آخر میں، یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کسی کی پوری زندگی کو جانے بغیر، اس کے ایک واقعے کی بنیاد پر فیصلہ سنانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ہماری اپنی فکری کمزوری کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں اور سرمایہ ضائع نہیں کیا جاتا، اس کی قدر کی جاتی ہے۔یہ کسی کی چاپلوسی یا خوشنودی نہیں ہوتی بلکہ اعتراف اور احترام ہوتا ہے جس پر انسان خوش و راضی ہوں یا نہ ہوں لیکن اللہ تعالیٰ ضرور راضی و خوش ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں