ہماری کہانیاں ہر عمر کے اعتبار سے نہیں، میں کیا کردار ادا کروں: ماہ نور بلوچ

65

فنکاروں کا مداحوں کے ساتھ کچھ ایسا تعلق ہوتا ہے کہ مداح ہمیشہ اپنے پسندیدہ فنکار کو کسی نہ کسی طرح دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ بعض مداح تو یہ بھی سمجھ لیتے ہیں کہ ٹی وی سکرین پر جلوے بکھیرنے والے فنکار کی زندگی میں کوئی پریشانی ہوتی ہی نہیں ہے، جبکہ ایسا بلکل نہیں کیونکہ انہیں بھی ان مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا سامنا ایک عام شخص کرتا ہے۔
گذشتہ دنوں اداکارہ کرن تعبیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شوبز کی چکمتی دمکتی دنیا کے پیچھے چُھپے حقائق سے پردہ اٹھایا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’شوبز کی دنیا بہت مصنوعی ہوتی ہے، وہ ڈپریشن کا شکار بناتی ہے، اس لیے ابھی وہ شوبز میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ابھی وہ اپنی زندگی سکون سے گزار رہی ہیں۔‘
اداکارہ نے مداحوں سے گفتگو میں بتایا کہ ’شوبز انڈسٹری جتنی شہرت دیتی ہے یہ اتنا ہی سکون آپ سے چھین لیتی ہے اور انہیں اپنا سکون بہت پیارا ہے۔‘
مداحوں کے سوال پر اداکارہ نے سکرین سے دوری کی وجہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ ’شوبز میں انسان اپنے لیے خوش رہنا اور جینا بھول جاتا ہے، بس ایک دوڑ لگی رہتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ کسی کی کامیابی ایک ڈرامے تک محدود نہیں رہتی، ایک کے بعد دوسرے کو حاصل کرنے کی جستجو لگی رہتی ہے، جس کے لیے پھر دوسروں کی چاپلوسی بھی کرنی پڑتی ہے۔‘
ایسا ہی سوال ایک ٹی وی شو میں ماضی کی معروف اداکارہ ماہ نور بلوچ سے پوچھا گیا کہ وہ اب ڈراموں میں اداکاری کیوں نہیں کرتیں؟ تو ان کا کہنا تھا ’ہماری کہانیاں ہر عمر کے اعتبار سے نہیں ہوتیں، اس لیے اب میں کیا کردار ادا کروں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جب میں 27 برس کی تھی تو اس وقت شہزاد رائے کی ماں کا کردار ادا کیا تھا، کردار مضبوط ہونا چاہیے، میں صرف یہ کہنے لیے کام کرنا پسند نہیں کرتی کہ بیٹا! کھانا کھالو، پانی پی لو۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں