ہمیں احساس کیوں نہیں مزدور کا

49

ازقلم خواجہ قاریعہ تمکین حفیظہر سال کی طرح یکم مئی کو پاکستان بھر میں یومِ مزدور منایا جاتا ھے میں اُن تمام مزدوروں کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جن کی محنت سے ہماری زندگی آگے کی جانب رواں ھے۔ لیکن افسوس اس بات کا ھے وہ مزدور جن کے نام پر یکم مئی کا دن خاص ھے وہی کام پہ جاتے ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے ہمیں چاہیے ہم اللہ کے بندوں کا خاص خیال رکھیں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کر دیا کرو
بقول شاعر
بوجھ کندھوں سے کم کرو صاحب
دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا

اج مزدور کی تاریخ کو کھنگالتے ہوئے تاریخ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب امارات جن میں یورپ اور بے شمار ممالک شامل ہیں ان ملکوں میں مزدور سے انتہائی خوفناک عمل سے مزدوری کروائی جاتی تھی کیونکہ وہاں اوقات کار نہیں تھے جس کو جو من چاہے وہ مزدور کے ساتھ کرتا تھا عرب امارات بھی اپنے آپ کو اعلیٰ اور مزدوروں کو خود سے کم تر سمجھتے
پاکستان کے اندر کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی مظلوم کسی کمزور کو مزدور کہا جاتا ہے .مزدوروں کی تاریخ کو پڑھتے ہوئے انتہائی مایوسی سے لکھنا پڑا 1840 میں برطانیہ میں سب سے پہلے صنعتی انقلاب آیا وہاں کے لوگوں نے مزدوروں اور ان کے ساتھیوں کو کچلنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی وہاں کے قیام پذیروں نے انتہائی گھٹیا حرکت کو استعمال کرتے ہوئے مزدور کے حقوق کو دبانے کی کوشش شروع کر دی.

مزدوروں کے کام کرنے کا وقت 18 سے 20 گھنٹے تک جاری رہتا لگاتار دو سال تک مزدور طبقہ اس ظلم کی چکی میں پستے رہے 1842 کے اندر ایک مزدور نے احتجاج صداۓ بلند کرتے ہوئے اپنا حق مانگنے کی کوشش کی تو اُسے زمیندار کی طرف سے گولی مار کے ہلاک کر دیا یہ سب واقعہ دیکھنے کے بعد باقی مزدور ساتھیوں نے اس کی لاش اٹھائی اور سڑک کے درمیان رکھ کے احتجاج کیا یہ وہ پہلی آواز تھی جب مزدوروں نے اپنے حقوق کی خاطر تحریک کا آغاز کیا سلسلہ آگے بڑھتا گیا تمام مزدورں نے مل کر ایک یونین بنائی اس یونین کا نام یونین فیڈریشن رکھا ابھی تک یہ یونین اسی نام سے قائم ہے تمام مزدوروں نے ایک درخواست لکھی اور اس درخواست کو برطانیہ کی پارلیمنٹ میں جمع کروایا پارلیمنٹ نے جب درخواست کو پڑھا اور پُرسکون طریقے سے درخواست کے دو ٹکڑے کر کے ڈسٹ بین میں پھینک دیا.

وہ مزدور مایوسی کو خود پہ حاوی کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے نکل کے سڑکوں پہ آئے اور اپنے حقوق کی آواز بلند کی مزدوروں کی پہلی آواز برطانیہ سے اٹھی اور آج دنیا کے ہر کونے سے ہوتے ہوئے شکاگو تک پہنچی یکم میں 1886 کے اندر مزدوروں کا پہلا بڑا احتجاج شروع ہوا یکم مئی سے پانچ مئی تک احتجاج شروع رہا مگر کسی کو کوئی فرق محسوس نہیں ہوا آج کے حالات کی طرح حکومت نے پولیس کو بلا کے مزدوروں کو دبانے دھمکانے اور ڈرانے کے لیے لاٹھی چارج شروع کیا ساتھ ہی پولیس نے رائفل سے ایک مزدور کا قتل بھی کر دیا غم و غصہ بڑھتا گیا ایک مزدور نے کسی پولیس کے ہاتھ سے بم کھینچ کے پولیس کے درمیان پھینک دیا جس کی وجہ سے بم پھٹا اور چند پولیس اہلکار موقع پہ دم توڑ گئے پھر پولیس اہلکار نے فائرنگ کی جس میں 12 مزدور اللہ کو پیارے ہو گئے حکومت حرکت میں آئی مزدوروں کے باقی آٹھ ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا .

جن میں چار کو اسی وقت عمر قید کی سزا سنائی اور چار کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی مزدور کو جب پھانسی کے پھندے پہ لٹکایا گیا ان کے آخری الفاظ تھے آج آپ ہماری آواز کو پست کرتے ہوئے ہمیں پھانسی کے پھندے پہ لٹکا رہے ہیں لیکن یاد رکھنا ہماری یہ آواز ہوا کے دوش پہ دنیا کے کونے کونے سے ٹکرائے گی.انہی شہید مزدورں کی شہادت آج رنگ لائی جس کی وجہ سے یکم مئی کو مزدوروں کے عالمی دن سے منسوب کیا گیا اس عالمی دن کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے اندر احساسِ بیداری جاگ اٹھی لوگوں کے دل نرم ہوئے تو مزدوروں کا ساتھ بھی دینے لگے.آخر کار یکم 1879 کو مزدوروں کا عالمی دن رکھا گیا .رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں ایسے تین لوگوں کو روز محشر ان کے خلاف خود مدعی اور فریق مخالف ہوں گا ایک وہ شخص جس نے میرے نام پہ وعدہ تو کیا لیکن اسے پورا نہ کیا بلکہ توڑ دیا دوسرا وہ شخص جس نے کسی ازاد انسان کو فروخت کر کے اس کی قیمت ہضم کر لی تیسرا وہ شخص جس نے کسی مزدور سے کام کروایا لیکن اس کو اس کی اجرت نہ دی .

میں اج کے عالمی دن کے موقع پر ان تمام مزدور بھائیوں سے اظہار یکجتی کرتے ہوئے ان کی محنت ان کی خدمات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہوں جن کی بدولت ہماری زندگیاں خوبصورت گزر رہی ہیں ہمارا ہر مزدور بھائی ہمارے لئے قابل قدر قابل عزت ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے غریب اور استحصالی نے مزدور بھائی کو دبوچ کے رکھ دیا ملک کے حکمران انگڑائیاں لیتے ہوئے ہر سال ان کوٹھیوں میں بیٹھے جن کوٹھیوں کو مزدوروں نے تیار کیا وہاں رہ کے اظہار یکجہتی کے بول بول کے اپنا فرض نبھا رہے ہیں مگر مزدور اپنی پیاس بجانے کے لیے رات کو بھی جاگتا ہے کہنا یہ چاہوں گی ہم اپنے مزدور بھائی کا احساس کب کریں گے کب ہمارا جسم کانپے گا کب ہمیں انسان ہونا آئے گا کب خدا خوفی ہمارا سامنا کرے گی ملک کے حکمران نے دفاتر میں بیٹھ کے مزدور بھائیوں سے اظہار ہمدردی ہی کرنی ہے یا سمجھنا ھے کہ ہمارے مزدور بھائی خوشحال زندگی کیسے گزاریں گے انکی ضرورت کیا ھے انکی زندگی کو آسان کیسے بنایا جاۓ حکومت وقت کو چاہیے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر انہیں مئی کے مہینے کے لیے اسپیشل پیکج دیا جائے یا انہیں نقعد 30 ،30 ہزار دیے جائیں اظہار ہمدردی تو اس کو کہتے ہیں محض پوسٹیں لگانے سے یا تقریریں کرنے یا رسمی بیانات دینے سے ہمارے مزدور بھائیوں کو کوئی سہولت دستیاب نہیں ہوگی.

بلکہ معمول کے مطابق ان کی زندگی مشکلات سے دوچار رہے گی کیا معلوم آج کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے کتنے مزدور بھائی ہوں گے جن کے بچے بھوک سے سسک رہے ہوں جن کو کھانے کے لیے ہفتے سے کچھ نہ ملا ھو ایک ہم ہیں جو سوشل میڈیا پہ پوسٹیں لگا کر اظہار ہمدردی کا ثبوت دیتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں ہم ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتے
دین اسلام محنت کشوں کو اللہ کا دوست کہتا ہے حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہوں ہر سال مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے متعلقہ اداروں اور تمام ممالک میں ہر ممکن بہتر اقدامات کرنے کی کوشش کریں مزدوروں کے بچوں کے لیے بہتر تعلیم ،صحت کی سہولت ،مناسب تنخواہ آرام کی جگہ اور وہ تمام تحفظات دیے جائیں جس کا حق ہر مزدور بھائی رکھتا ہے حکومت کی طرف سے تمام مزدور بھائیوں کو ایک گھر بنا کے دینا چاہیے کیونکہ پاکستان میں مزدور طبقہ مہنگائی بے روزگاری اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں وہ مشکل سے دو ٹائم کا کھانا میسر کرتے ہیں ایک دن کی مزدوری سے کیا وہ بچوں کا پیٹ پالیں، بچوں کی صحت کا خیال رکھیں، بچوں کی تعلیم کو دیکھیں، بچوں کی رہائش کا بندوبست کریں یا پھر باقی تحفظات کو دیکھیں ان حالات کو سمجھتے ہوئے ہمیں چاہیے ہم مزدور بھائیوں کا ساتھ دیں انہیں تحفظ فراہم کریں ان کی زندگیوں کو حسین بنائیں یہی ہمارا اولین فرض ہے.

بطور مسلمان اور بااخلاق شہری ہمیں چاہیے کہ ہم ان محنت کشوں کے ساتھ صرف یومِ مزدور کے دن ہی نہیں بلکہ سال کے ہر دن خیر خواہی اور ہمدردی کا برتاؤ برتیں۔ تاکہ ہمارے عمل سے ظاہر ہو کہ ہم واقعی ان محنت کشوں کے احسان مند ہیں۔ یہی حقیقی انسانیت اور اسلام کی تعلیم ہے۔ اور حقیقی مسلمان ہونے کا ثبوت ہے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں