جاگتی آنکھیں ،پروفیسر سردار کامران عالم
ہم برصغیر پاک و ہند میں رہنے والے عربوں جیسے بن تو نہیں سکتے مگر اربوں میں ہیں، تعداد کے اعتبار سے،ہم ے خوب ترقی کی خوب پھیلے پھولے اور اللہ پاک ہماری اس جبلت کو قائم رکھے جس سے آدم کی نسل کی بقا کو خطرہ نہ رہے گا۔ہم اربوں میں ہیں اور کھربوں کی پیش بندی کر رکھی ہے جس کی ہمیں بھی خبر نہیں۔ہم ہر کام بے خبری میں ہی کرتے ہیں کیونکہ پلاننگ کا تعلق ہم سے نہ پہلے تھا نہ آگے ہمارے عقیدے اور یقین کے سامنے ٹک پائے گا۔ہم مشرق کے لوگ بہت شاندار ہیں اس میں شک نہیں اور اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہم جبلت کے آگے کسی پلاننگ ،کسی سائنس ،کسی ارتقاء یا جدید مادی اصول کو نہیں مانتے ۔یقین کی دنیا کے مسافر ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا بھی وقت آے گا جس کی ہم نے کوئی پلاننگ نہیں کر رکھی ۔سیور کے چاول پکانے واال اب برینڈ بن چکا ہے .
کھبی چاول کی ریڑھی لگاتا تھا،یہ جملہ یا اس سے ملتے جلتے جملے سننے کو ملتے ہیں مگر ساتھ میں محنت اور پلاننگ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔پاکستان میں میٹرو ٹریفک کا رش کم کرنے،جدید سفری سہولیات،سفر آرام دہ اور عام آدمی کیلے سہل بنانے کیلے بنی تھی مگر ہم فخر نسل آدم جن کے ہاتھ میں آدم کی نسل کی بقاء کا عین فریضہ نبھانے کی زمہ داری ہے ایک دوسرے کو ک چلتے ہوئے اس پہ کھڑے اور لڑکھتے ہوئے بڑے اطمینان کے ساتھ سفر کرتے نظر آتے ہیں۔آدم علیہ السلام اگر ہمیں دیکھ رہے ہیں تو ہمیں فٹ پاتھوں،گاڑیوں،بازاروں،گلیوں ،بلخوص دفتروں اور چوراہوں میں خوار ہوتے دیکھ کر ہماری تعداد پر اور اس بات پر کے ان کی نسل کی بقاء کی ذمہ داری ایک زمہ دار قوم کے ذمہ ہے،دیکھ کر خوش ہوتے ہوں اور ہم پہ فخر بھی کرتے ہوں گے۔
ہم اربوں میں ہیں اور ہمارے کام بھی النجھوں سے بھر پور ۔ان النجھوں نے ہمیں جوگاڑو بنا دیا ہے۔ہر کام میں جوگاڑو۔وہ بجلی کا پلگ خراب ہونے پرجوگاڈسےٹھیک کرنے سے لے کر ملک کی پالیسیاں ہوں،خارجہ،داخلہ یا پھر بہبود آبادی کی جوگاڈ سے کامیابی سے ہمارا سفر جاری ہے ۔بہبود سے مراد فالح و بہبودہے اور اس سے بڑی فالح و بہبود کیا ہو گی کہ ایک کنبے کے کم افراد کی تعداد بڑھنے سے اس کی بھی فالح اور سیاسی ایلیٹ کی بھی،کنبے کی افرادی قوت میں اضافہ اور سیاسی ایلیٹ کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ،خیر سے ملک کی فوج کیلے نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ۔غرض ارض پاک ہو یا پڑوسی ممالک۔ہمارا خطہ آبادی کے اعتبار سے اتنا بھر چکا ہے کہ دنیا کے خالی جزیرے اور خطے ہمارے منتظر ہیں۔اس پہ ہمار ے رسمی اور رجعت پسند مزہبی رجحانات ،تعلیمی نظام،شعور کا فقدان ، سماجی ڈھانچہ اور روایتی رجعت پسندی جس نے اس پیچیدہ مسئلے کو اور بھی الجھا رکھا ہے۔
حکومت اور ریاست جو کر رہے وہ ناکافی ہے۔ہمارا سب سے بڑا اور پیچیدہ مسئلہآبادی کا پھیالؤ ہے اور اس سے بھی بڑی پیچیدہ بات اس پہ مقددرہ کی عدم توجہ ہے۔ریاست میں کوئی ایسا آئیڈیل نظام بھی موجود نہیں جس سے آئین میں لکھے ہوئے وہ تمام بنیادی حقوق جو ایک شہری کا حق ہیں اور آئین کے دیباچہ میں لکھے ہیں وہ ہر شہری کو ریاست ان حالت میں دے پا رہی ہو تو ذرا سوچیے جب پاکستان کی آبادی اگلی چند دہائیوں میں مزید بڑھ جاے گی تو پہلے سے موجود مسائل غربت،بے روزگار ی،صحت و تعلیم ،انصاف سیکیورٹی ،دفاع اور ایسے تمام بنیادی مساہل جو آج کی ریاست سامنا کر رہی مستقبل میں کیسے نبرد آزما ہو گی۔آبادی کے پھیلا ؤسےرہائش کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔لوگوں کا پیٹ بھرنے والی زمینیں رہائشی پلاٹوں کی نظر ہو رہی ہیں وہ بھی ایسے طبقے کیلے جو پہلے سے بڑے بڑے گھروں کے مالک ہیں۔
جو چھت سے محروم ہیں مستقبل قریب میں اگر پلاننگ نہ کی گئی اور قانون سازی سے ایسے عمل کو نہ روکا گیا تو چھت خالی سے شکم خالی تک تیزی سے بڑھیں گے۔ریاست کے عدم استحکام کی وجوہات میں ایک وجہ بے ہنگم ،بے جا اور تیزی سے آبادی میں اضافہ ہے۔اس پھیلاؤ کو روکنا زیادہ مشکل اس لیے بھی ہے کہ ہمارے ہاں اس کی جڑیں مذہب سے جوڑ دی جاتی ہیں اور یہ اس لیے بھی مشکل ہے کہ بظاہر جمہوری نظر آنے والے ملک میں کسی کی بنیادی آزادی اور بالخصوص نسل آدم کی خدمت کے اس موقع سے روکا بھی نہیں جا سکتا۔ہمارے سامنے کچھ اسلامی ممالک کی مثالیں اور تجربات موجود ہیں جن کی راہنمائی اور پراجیکٹز کو سامنے رکھتے ہوے ہم بھی آبادی کے پھیلاؤ پر قابو پا سکتے ہیں۔ان ممالک میں بنگلہ دیش اور ملائیشیا شامل ہیں۔بنگال دیش کی مثال ہمارے لیے زیادہ اہم اس لیے ہے کہ آزادی کے بعد بنگلہ دیش کے اندر آبادی کے پھیلاؤ کا تناسب موجوہ پاکستان اور اس وقت کے مغربی پاکستان سے زیادہ تھا مگر آج ہمار ی آبادی کے پھیلاؤکا تناسب بنگلہ دیش سے زیادہ ہے۔
بنگلہ دیش نے مذہبی رہنماؤں کی مدد اور جامع حکمت عملی سے آبادی پہ قابو پانے میں کامیابی حاصل کی اور ہم بھی اس میدان میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔اگر ہم نے آج بھی اس مسلئہ کو سنجیدہ نہ لیا تو ہم آدم علیہ السلام کی بے ترتیب ،تعلیم و ہنر سے خالی اور بے شعور نسل ہی دنیا کو دے پائیں گے۔ قرضوں میں پھنسے اس ملک میں معاشی اور سماجی ناہمواریوں میں زندگی کی سانسیں سرمائے سے خریدنا ایک عام آدمی کے لیے روز مرنے اور پھر دوبارہ نہ جی اٹھنے کی خواہش کے باوجود چند نوالوں اور اپنے پیاروں کیلے مجبوری میں جی اٹھنے کا پہلے سے ایک کھٹن سفر ہے۔پالیسی سازاداروں کو اس ضمن میں اہم اقدام کرنے ہوں گے۔ہیومن ریسورس ہیومن کرس بن جاتا ہے جب آپ اپنی یوتھ کو تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم نہیں کر پاتے یا ان کیلے روزگار کا بندوبست کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔محدود وسائل میں بہت بڑی آبادی کیلے پلاننگ اور اس کی فلاح کی پیش بندی یقیننا ایک مشکل کام ہے۔