ہندؤ سوچ بھارت کے ہر ادارے میں رچ بس چکی، چیئرپرسن کے زیڈ کے فاؤنڈیشن نے بھارتی سپریم کور ٹ کے فیصلے پر اپنا ردعمل دے دیا

50

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز) چیئرپرسن کے زیڈ کے فاؤنڈیشن ممتاز ماہر تعلیم و سماجی کارکن محترمہ خدیجہ زرین نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق متعصبانہ فیصلہ دے کر ثابت کیا ہے کہ ہندؤ سوچ بھارت کے ہر ادارے میں رچ بس چکی ہے۔

5اگست کی طرح حالیہ فیصلہ بھی کشمیریوں کی تحریک کو کمزور کرسکتا ہے نہ ختم۔نریندر مودی چاہے جنتا زور لگا لے تحریک آزادی کشمیر پہلے سے زیادہ پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے اور کھڑے رہینگے۔ ان خیالات کااظہار محترمہ نے بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے کشمیریوں کی رٹ ہاء پر دفعہ 370اور35اے سے متعلق سنائے جانے والے انتہائی متعصبانہ اور جانبدارانہ فیصلہ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کیا۔

محترمہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 74سال سے ظلم کی رات جاری ہے۔خواتین اور بچیوں سمیت نوجوانوں،بزرگوں کاقتل عام اور ان کی عصمتیں لوٹنے کے واقعات دنیا سے مخفی نہیں ہیں مگر اقوام عالم اسرائیل اور بھارت کے مظالم پر خاموش تماشائی ہونے کے ساتھ ان کی مذمت بھی نہیں کررہا مگر یاد رکھیں کشمیری اور فلسطینی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں .

کل دنیا بھی گزرے گی اور پھر اس وقت ان کا کوئی حامی ومدد نظر نہیں آئے گا۔ محترمہ نے کہا کہ کشمیریوں نے مودی کی پارلیمنٹ اور بھارتی صدر کے فیصلے پہلے بھی نہیں مانے آج بھی سپریم کورٹ کافیصلہ نہیں مانتے۔ کشمیری بھارت سے نفرت کرتے ہیں اور وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں