ہندوستان کا اصلی چہرہ

49

تحریر: عبدالباسط علوی
ہندوستان خود کو ایک مثالی سیکولر ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ یہ دعویٰ حقیقت اور سچائی کے بالکل برعکس ہے۔ ایک مثالی ملک کا تصور سرحدوں اور ثقافتی تفاوتوں سے بالاتر ہوتا ہے ۔ اگرچہ مکمل طور پر مثالی ہونا تو مشکل ہوتا ہے مگر دعوؤں میں کچھ حقیقت کا عنصر تو ہونا ہی چاہیے۔ کچھ اوصاف ایک مثالی قوم کی ہئیت کو بیان کرتے ہیں اور ان ممالک کو رہنمائی پیش کرتے ہیں جو اپنے شہریوں کی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک مثالی ملک کی اصل نشانی موثر حکمرانی ہوتی ہے، جس کی خصوصیت شفاف اور جوابدہ قیادت، ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے والے ادارے ہوتے ہیں۔ ایک مثالی قوم کے رہنما عوام کے بہترین مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، بدعنوانی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ پالیسیاں معاشرے کے تمام طبقات پر ان کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں جن میں شمولیت اور انصاف پسندی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ امتیازی سلوک کا مقابلہ کرنے کے عزم کے ساتھ بنیادی حقوق، بشمول تقریر، اجتماع اور مذہب کی آزادی کی حفاظت کی جاتی ہے۔ مثالی ملک تمام افراد کی بھلائی اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے فعال طور پر کام کرتا ہے، رواداری اور احترام کی فضا کو فروغ دیتا ہے۔

پائیدار اقتصادی ترقی ایک سنگ بنیاد ہے، جو روزگار، تعلیم اور اونچائی کی طرف نقل و حرکت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ سماجی بہبود کے پروگرام کمزوروں کی مدد کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی پیچھے نہ رہے۔ ان عوامل کے باہمی انحصار کو تسلیم کرتے ہوئے اقتصادی ترقی اور سماجی مساوات کے درمیان توازن قائم کرنا سب سے اہم ہوتا ہے۔ ماحولیاتی پائیداری ایک عزم ہے، جس میں قدرتی وسائل کی حفاظت، کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے کے لیے پالیسیاں موجود ہیں۔

تعلیم میں سرمایہ کاری کو سماجی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، قابل رسائی اور معیاری تعلیم شہریوں کو ذاتی اور قومی ترقی کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرتی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کا ایک مضبوط نظام آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے، ایک پیداواری اور لچکدار معاشرے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ ثقافتی تنوع کا جشن منانا اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہوتا ہے۔ ایک قومی شناخت کو فروغ دینا بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو جامع اور خوش آئند ہو۔

اندرونی طور پر ہندوستان ایک مثالی ملک کے ان خصائص کو مجسم کرنے میں ناکام ہے۔ غربت، بے روزگاری، ناانصافی، ماحولیاتی تحفظات اور اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیوں وغیرہ جیسے مسائل عالمی سطح پر واضح طور پر عیاں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور اس کی فوج کے اقدامات خاصے تشویشناک ہیں۔ لوک سبھا میں منظور کیے گئے حالیہ متنازعہ بل، بشمول جموں و کشمیر پول ترمیمی بل 2023 اور جموں و کشمیر تنظیم نو ترمیمی بل 2023، نے نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بحالی ترمیمی بل 2023 کے تحت جموں و کشمیر اسمبلی میں خواتین امیدواروں سمیت پاکستانی کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ تنظیم نو ترمیمی بل، 2023، لداخ کے علاقے کو جموں و کشمیر یونین میں شامل کرتا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے لوک سبھا خطاب کے دوران آرٹیکل 370 کو علیحدگی پسندی سے جوڑتے ہوئے پرتشدد واقعات میں 70 فیصد کمی کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیر اعظم نہرو کے فیصلوں پر بھی تنقید کی جس کے نتیجے میں اپوزیشن کانگریس پارٹی نے واک آؤٹ کیا۔
یہ تمام حقائق بی جے پی حکومت کے ہندوتوا نقطہ نظر کی عکاسی کرتے ہیں اور اصل سچائ اور حقیقت دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔

ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عالمی منظر نامے میں کسی ملک کے خارجہ تعلقات اس کی بین الاقوامی حیثیت کو تشکیل دینے اور عالمی معاملات کی رفتار پر اثرانداز ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مثالی قوم دوسرے ممالک کے ساتھ مثبت اور تعاون پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے اور یہ تسلیم کرتی ہے کہ مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون بہت ضروری ہے۔

ایک مثالی ملک کے خارجہ تعلقات کے مرکز میں کھلی اور تعمیری بات چیت پر مبنی سفارت کاری ہوتی ہے۔تصادم کا سہارا لینے کے بجائے ایسی قوم تنازعات کا پرامن حل تلاش کرتی ہے اور اختلافات کو دور کرنے کے لیے بامعنی بات چیت میں مشغول ہوتی ہے۔ ہنر مند سفارت کار مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور تعاون کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک مثالی ملک یہ سمجھتا ہے کہ بہت سے عالمی چیلنجز جیسے کہ موسمیاتی تبدیلی، وبائی امراض اور غربت وغیرہ کو باہمی تعاون سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بین الاقوامی تنظیموں اور اقدامات میں فعال طور پر حصہ لیتا ہے جن کا مقصد ان مسائل کو حل کرنا ہے، اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ وسائل جمع کرنے، علم کو بانٹنے اور اجتماعی طور پر کام کرنے سے قومیں اپنے اثرات کو بڑھا سکتی ہیں اور انسانیت کی بھلائی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں۔

عالمی سطح پر انسانی امداد کا عزم ایک مثالی قوم کی بنیادی خصوصیت ہوتی ہے۔ چاہے قدرتی آفات، تنازعات یا صحت عامہ کے بحرانوں کا جواب دینا ہو، یہ ضرورت مند قوموں کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھاتی ہے، جو نہ صرف ہمدردی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی استحکام تمام اقوام کی بھلائی سے منسلک ہے۔

بین الاقوامی قوانین اور قائم کردہ اصولوں کی پاسداری ایک مثالی ملک کے خارجہ تعلقات کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ دوسری قوموں کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے، جارحیت سے باز رہتا ہے اور معاہدوں کی پاسداری کرتا ہے۔ ذمہ دارانہ رویے کی مثال قائم کرکے ایک مثالی ملک قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظم کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

ثقافتی تبادلے کو افہام و تفہیم اور خیر سگالی کو فروغ دینے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تعلیمی پروگراموں، فنکارانہ اقدامات اور لوگوں سے لوگوں کے تبادلے کے ذریعے ایک مثالی قوم بیرون ملک ایک مثبت امیج کو فروغ دیتی ہے اور دیرپا روابط استوار کرتی ہے، ثقافتی اثر و رسوخ سے حاصل ہونے والی سوفٹ پاور کو تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

دیگر اقوام کے ساتھ اقتصادی تعاون میں فعال مشغولیت، منصفانہ تجارتی طریقوں، کھلی منڈیوں اور باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داریوں کی خصوصیت عالمی خوشحالی میں معاون ہے۔اندرون اور بیرون ملک اقتصادی ترقی کو فروغ دے کر ایک مثالی قوم تسلیم کرتی ہے کہ مشترکہ اقتصادی مفادات استحکام اور تعاون کے لیے ایک طاقتور قوت ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی متحرک نوعیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مثالی ملک اپنے خارجہ تعلقات میں موافقت کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ یہ ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں اور مواقع کا فعال طور پر جواب دیتا ہے اور بین الاقوامی امور کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر میں لچکدار رہتا ہے۔ یہ موافقت قوم کو لچک اور دور اندیشی کے ساتھ تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے پر متحرک رہنے کی اجازت دیتی ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک مثالی ملک دوسری قوموں کی خود مختاری کو چیلنج کرنے سے گریز کرتا ہے اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہتا ہے۔

مثالی ملک کی ان خصوصیات کے برعکس بھارت بیرون ملک اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے RAW کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے متعدد ممالک میں مداخلت پسندانہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ بھارت کی بیرونی انٹیلی جنس ایجنسی RAW نے غیر ملکی سرزمین پر اپنے مذموم خفیہ اقدامات پر طویل عرصے سے اور رازداری سے کام کیا ہے۔ یہ ایجنسی بیرون ملک قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے جو دوسری قوموں کی خودمختاری کو پامال کرتی ہے۔

را جسے سرکاری طور پر ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ کے نام سے جانا جاتا ہے، ہندوستان کی بنیادی انٹیلی جنس ایجنسی کے طور پر کام کرتی ہے اور اسے انٹیلی جنس جمع کرنے اور ملک کی سرحدوں سے باہر خفیہ کارروائیوں کو انجام دینے کا کام سونپا جاتا ہے۔ 1968 میں قائم کی گئی RAW کا مرکزی مشن بیرونی خطرات کے بارے میں معلومات حاصل کرکے ہندوستان کے مفادات کا تحفظ اور قومی سلامتی کی حفاظت کرنا ہے۔ تاہم را کی بیرون ملک سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد سنگین نوعیت کے حقائق سامنے آئے ہیں۔

را کے خلاف ایک مستقل اور سنگین الزامات میں پڑوسی ممالک میں باغی گروہوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے لیے اس کی مبینہ حمایت شامل ہے اور ان پڑوسی ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے۔ را نے پاکستان کے مختلف باغی اور دہشت گرد دھڑوں کو مادی اور مالی امداد فراہم کی ہے جس سے علاقائی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں RAW غیر ممالک میں جاسوسی کے واقعات میں بھی ملوث ہے، جن میں حساس انٹیلی جنس ڈیٹا اکٹھا کرنا اور دیگر ممالک کی قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا شامل ہے۔ ان الزامات کی وجہ سے کئی مواقع پر پڑوسی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

را کو خفیہ کارروائیوں میں ملوث کیا جاتا ہے جس کا مقصد حکومتوں کو غیر مستحکم کرنا اور پڑوسی ممالک میں سیاسی تبدیلی کو ہوا دینا ہے۔ ایسی کارروائیاں دیگر اقوام کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ ایجنسی بیرونی ممالک میں تخریب کاری کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہے جن میں سائبر حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

بھارت اور را مسلسل پاکستان کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت میں ملوث ہیں۔ بھارتی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ افسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خطرناک سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تھا اور وہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے لیے جاسوسی کرتا تھا۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے اسے 3 مارچ 2016 کو جاسوسی اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا اور اس کی گرفتاری آئی ایس آئی کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔

’را‘ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے سے پہلے ہی پاکستان کو غیر مستحکم اور کمزور کرنے کے مقصد سے دیگر پڑوسی ممالک کے علاقوں سے کام کرتی رہی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اتحادی کے طور پر اپنے کردار کی خاطر خواہ قیمت ادا کی اور ساتھ ہی بھارت کی طرف سے نسلی بنیادوں پر تقسیم بونے کی طویل حکمت عملی کو برداشت کیا۔ بھارت نے افغانستان کی سرزمین کو بھی پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بھارت پاکستان بھر میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے بشمول بلوچستان اور کے پی کے جیسے علاقوں میں۔ نتیجے کے طور پر ان علاقوں میں بدامنی اور تنازعات دیکھنے میں آتے رہے ہیں جس کی اصل وجہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے ہندوستان کی سرپرستی اور حمایت کو قرار دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر گزشتہ سال لاہور کے جوہر ٹاؤن میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں 22 جانیں ضائع ہوئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے ساتھ ایک پریس بریفنگ میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ نے انکشاف کیا، “ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ دھماکے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ تھا۔” سی ٹی ڈی کے افسر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘تفتیش کے دوران اس بات کا تعین ہوا ہے کہ واقعے کا بنیادی ملزم 2012 سے بھارتی جاسوس ایجنسی (را) کا آپریٹو تھا۔”

کینیڈا اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے بھی عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ چند ماہ قبل کینیڈا نے برٹش کولمبیا میں ایک علیحدگی پسند سکھ رہنما کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کا اعلان کیا۔اس پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو انتہائی کشیدہ کر دیا۔ ہاؤس آف کامنز میں ایک ہنگامی بیان میں وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے زور دیکر کہا کہ کینیڈین شہری کے قتل میں کسی غیر ملکی حکومت کا ملوث ہونا “ہماری خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی” ہے۔ 45 سالہ ہردیپ سنگھ نِجرکو 18 جون کو سرے میں ایک سکھ مندر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا اور یہ واقعہ وینکوور کے مضافاتی علاقے میں ہوا جہاں بڑی تعداد میں سکھ آبادی مقیم ہے۔ نجار نے کھلے عام ایک آزاد خالصتانی ریاست کی شکل میں سکھوں کے وطن کی وکالت کی تھی اور جولائی 2020 میں بھارت نے اسے “دہشت گرد” کے طور پر نامزد کیا تھا۔

ٹروڈو نے بتایا کہ کینیڈین سیکورٹی ایجنسیاں بھارت کے سرکاری ایجنٹوں اور نجار کی موت کے درمیان ممکنہ تعلق کی طرف اشارہ کرنے والے معتبر الزامات کی سرگرمی سے تفتیش کر رہی ہیں۔ انہوں نے نئی دہلی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے دوران قتل کا معاملہ براہ راست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ اٹھانے کا ذکر بھی کیا اور بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات میں کینیڈا کے ساتھ تعاون کرے۔ ان پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ کینیڈا نے اپنے ملک میں تعینات ہندوستان کے اعلیٰ انٹیلی جنس ایجنٹ کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ۔

حال ہی میں قطر کی ایک عدالت نے بھی ہندوستانی بحریہ کے آٹھ سابق اہلکاروں کو اسرائیل کے لئے جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے۔ سزا پانے والوں میں کیپٹن نوتیج سنگھ گل، کیپٹن بیریندر کمار ورما، کیپٹن سوربھ وششٹ، کمانڈر امیت ناگپال، کمانڈر پورنیندو تیواری، کمانڈر سوگناکر پکالا، کمانڈر سنجیو گپتا اور سیلر راجیش شامل ہیں۔ یہ تمام بحریہ کے سابق اہلکار الدہرہ گلوبل ٹیکنالوجیز اینڈ کنسلٹنسی سروسز میں ملازم تھے جو عمان فضائیہ کے ایک سابق افسر کی ملکیت والی نجی کمپنی تھی۔ یہ فرم قطر کی مسلح افواج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو تربیت اور مختلف خدمات فراہم کرنے کی ذمہ دار تھی۔

ہندوستان کی اصل فطرت سے اس کے اپنے لوگ بھی شدید متاثر ہیں۔ مثال کے طور پر سکھ ہندوستان کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور ایک علیحدہ ریاست کے وجود کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ہندوستان بیرون ملک بھی سکھوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہے جبکہ سکھ بھی بھرپور مزاحمت کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ واقعے میں ایک سینئر ہندوستانی سفارت کار، ترنجیت سندھو کو نیویارک کے ایک گوردوارے میں خالصتان کے حامی سکھوں کی طرف سے مزاحمت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں عبادت گاہ سے جانا پڑا۔

واقعے کے دوران پرجوش سکھوں نے سفیر ترنجیت سندھو سے سکھ رہنما گروپتونت سنگھ پنن کے قتل کی ناکام بھارتی سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں سوال کیا۔ پنون سکھس فار جسٹس (SFJ) اور عالمی خالصتان ریفرنڈم مہم سے وابستہ ایک اہم شخصیت ہیں۔ نیو یارک کے ہکس ویل گوردوارے میں ہمت سنگھ کی قیادت میں خالصتان کے حامی سکھوں نے سندھو پر سرے گوردوارے کے صدر اور خالصتان ریفرنڈم کے کینیڈین چیپٹر کے کوآرڈینیٹر ہردیپ سنگھ نجار کے قتل میں ہندوستان کے کردار کا بھی الزام لگایا۔

عوام کے سوالات نے سفارت کار کو بے بس کر دیا اور اسے کوئی جواب فراہم کیے بغیر اچانک گرودوارہ چھوڑنا پڑا۔ کشیدگی اور بھارت کی مخالفانہ سرگرمیوں کے باوجود خالصتان کے حامی سکھوں نے اپنے حقوق کے لئے جدو جہد جاری رکھی ہوئ ہے۔ بھارتی ناکام سازش میں نشانہ بنائے گئے SFJ کے جنرل کونسل گرپتونت سنگھ پنن نے زور دے کر کہا کہ خالصتان ریفرنڈم کو ناکام بنانے کی بھارت کی کوششوں کے باوجود ووٹنگ جاری رہے گی اور امریکی مرحلہ 28 جنوری 2024 کو سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں شروع ہونے والا ہے۔

امریکی سرزمین پر گروپتونت سنگھ پنون کے قتل کی بھارتی سازش کو ناکام بنانے کے حالیہ انکشاف کے بعد امریکہ کی جانب سے ردعمل کی بازگشت بھی سنی گئی ہے۔ فنانشل ٹائمز (FT) کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس سازش میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر بھارتی حکومت کو وارننگ جاری کی۔ جریدے نے انکشاف کیا کہ ہندوستانی حکومت اس سازش کے پیچھے تھی جس میں خالصتان ریفرنڈم مہم کی سرکردہ شخصیت پنون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ امریکی محکمہ اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا فردِ جرم کو ختم کیا جائے اور الزامات کو پبلک کیا جائے یا اس کیس سے منسلک ایک کینیڈین سکھ علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کی کینیڈا کی تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔

مزید برآں، ذرائع کے مطابق بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (RAW) نے مبینہ طور پر 1968 میں اپنے قیام کے بعد پہلی بار شمالی امریکہ کے اسٹیشنوں پر اپنا کام بند کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ نیویارک میں ایک بھارتی شہری کی جانب سے ایک اہم سکھ رہنما کو قتل کرنے کی کوشش کے بعد سامنے آیا ہے۔

کینیڈا میں بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) پر سکھ رہنما کے قتل کی وجہ سے عالمی پھٹکار کا سلسلہ ابھی تھما نہ تھا کہ بھارت کی بدنام زمانہ اینٹیلیجنس ایجنسی را کو ایک اور سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہےـ جرمنی میں سکھ اور کشمیری برادریوں کی جاسوسی کے الزام میں ایک ہندوستانی جوڑے پر مقدمے کی سماعت ہو گی جس میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 50 سالہ منموہن اور اس کی بیوی نام نہاد بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے لیے جرمنی میں مقیم سکھوں اور کشمیریوں کی جاسوسی میں ملوث پائے گئے جو کہ جرمن رازداری قوانین کے مطابق ایک قابل سزا جرم ہے ـ یہ مقدمہ فرینکفرٹ کی ایک عدالت میں چل رہا تھا۔ استغاثہ نے سال 2023 کے شروع میں ایک بیان میں کہا تھا کہ “منموہن نے ہندوستانی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے ایک ملازم کو جرمنی کی سکھ اور کشمیری کمیونٹی اور کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔” اس کی اہلیہ نے جولائی اور دسمبر 2017 کے درمیان ہندوستانی انٹیلیجنس افسر کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں اور اس کام کے معاوضہ کے طور پر مبلغ 8100 ڈالر وصول کیے۔

قارئین، ان حقائق کی روشنی میں بھارت کا اصل چہرہ عالمی برادری کے سامنے تیزی سے عیاں ہو رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنے ملک کے اندر اقلیتوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت بند کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں