یومِ تاسیس کا تقاضا

258

تحریر:ڈاکٹر رقیہ عباسی
24 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر کا یومِ تاسیس منایا جاتا ہے، جو کہ ریاست کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن 1947 میں کشمیر کے بہادر عوام نے اپنے خطے کو ڈوگرہ راج کی غلامی سے آزاد کروایا اور آزادی کی جانب پہلا قدم اٹھایا۔ یہ دن نہ صرف کشمیر کی سیاسی تاریخ میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کی ثقافتی اور قومی شناخت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔آزاد کشمیر کی ریاست جموں و کشمیر کے اس حصے پر مشتمل ہے جو پاکستانی زیر انتظام ہے، اور یہ خطہ اپنی خوبصورتی، قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ لیکن اس خطے کی آزادی کی کہانی جدوجہد، قربانیوں اور عظیم عزم کی داستان ہے۔1947 میں جب برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا رہا تھا، کشمیر کے عوام کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا اپنی خود مختاری برقرار رکھیں مگر کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا، جس نے ریاست میں بے چینی اور بغاوت کو جنم دیا۔ کشمیر کے عوام نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی اور ڈوگرہ راج کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔

اس تحریک کی کامیابی کے نتیجے میں 24 اکتوبر 1947 کو آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا۔ یہ دن کشمیریوں کے اتحاد اور عزم کی علامت بن گیا، اور یومِ تاسیس کو ایک اہم قومی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔یومِ تاسیس ہمیں آزاد کشمیر کی اہمیت اور اس کے تاریخی پس منظر کی یاد دلاتا ہے، لیکن یہ دن مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ آج بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑا تنازعہ ہے، اور اس کے حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔آزاد کشمیر کے عوام آج بھی اس دن کو اپنے حقِ خودارادیت کی یاد کے طور پر مناتے ہیں اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔یومِ تاسیس صرف ماضی کی جدوجہد کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ یہ اس بات کا عہد کرنے کا بھی دن ہے کہ کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیوں اور جدو جہد کو یاد رکھتے ہوئے، ہمیں اس دن کو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی اہم قرار دینا چاہیے تاکہ یہ خطہ مزید ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہو۔اس یومِ تاسیس پر ہم سب کو عزم کرنا چاہیے کہ ہم آزاد کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں گے.
آزاد کشمیر کا قیام ایک تاریخی کامیابی ضرور ہے، لیکن آج 76 سال گزرنے کے بعد بھی یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔ تعلیم، صحت اور معیشت کے حوالے سے علاقے میں بہت سے مسائل موجود ہیں، جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔آزاد کشمیر میں تعلیمی نظام ابھی تک ان ترقی یافتہ ممالک یا علاقوں کے مقابلے میں پیچھے ہے جہاں معیاری تعلیم کو بنیادی حق سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت نے یہاں کچھ تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، لیکن ان میں سے اکثر سہولیات اور اساتذہ کی کمی کا شکار ہیں۔ بہت سے دیہی علاقوں میں اسکولوں کی حالت خستہ ہے اور جدید تعلیمی وسائل کی شدید کمی ہے۔ یہاں کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیمی مواقع بھی محدود ہیں، جس کی وجہ سے اکثر طلبہ کو مزید تعلیم کے لیے پاکستان کے دیگر شہروں یا بیرون ملک جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

صحت کے شعبے میں بھی آزاد کشمیر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خطے میں بڑے اور جدید ہسپتالوں کی کمی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو سنگین بیماریوں یا حادثات کی صورت میں علاج کے لیے دور دراز کے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر ہسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور جدید طبی آلات کی کمی مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ مزید برآں، تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے عوام کو معیاری علاج فراہم نہیں ہو پاتا۔آزاد کشمیر کے لوگوں کو روزگار اور کاروبار کے مواقع کے حوالے سے بھی مشکلات درپیش ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ زراعت اور محدود مقامی کاروباروں پر انحصار کرتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ زیادہ ترقی نہیں کر پاتے۔ سیاحت ایک اہم صنعت ہو سکتی ہے، لیکن اس شعبے میں بھی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی۔ حکومت کو سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کر کے یہاں کے قدرتی حسن کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کی ضرورت ہے، تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ حاصل کی جا سکے اور مقامی لوگوں کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔

آزاد کشمیر اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑوں، دلکش وادیوں اور شفاف جھیلوں کی وجہ سے سیاحتی لحاظ سے ایک عظیم مقام رکھتا ہے، لیکن اس شعبے کی ترقی کے لیے ابھی بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے بہتر سڑکوں کی تعمیر، ہوٹلوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی اور سیاحتی مراکز میں معیاری خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔ مزید برآں، عالمی سطح پر آزاد کشمیر کو ایک محفوظ اور دلکش سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرانا بھی ضروری ہے تاکہ یہاں زیادہ سے زیادہ سیاح آئیں اور مقامی معیشت کو فروغ ملے۔آزاد کشمیر کی حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم، صحت، اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے فوری اقدامات کرے۔ بہتر تعلیمی ادارے، معیاری ہسپتال، اور کاروباری مواقع کی فراہمی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہیں۔

حکومت کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سیاحت، تجارت اور معیشت کے دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ آزاد کشمیر کے عوام کو روزگار کے مواقع ملیں اور خطے کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔آزاد کشمیر کا یومِ تاسیس نہ صرف آزادی کی یاد دلاتا ہے بلکہ یہ ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم یہاں کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے مزید کیا کچھ کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائے اور آزاد کشمیر کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال خطہ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے آزادی کی جدوجہد میں عظیم قربانیاں دی ہیں، اب وقت ہے کہ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں