یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی کے طلباء سینٹرل جیل راولاکوٹ پہنچ گئے

46

راولاکوٹ(نمائندہ خصوصی)یونیورسٹی آف پونچھ راولاکوٹ کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی سمسٹر 6th کے طلباء نے سینٹرل جیل راولاکوٹ کا دورہ کیا ، سینٹرل جیل کے افس میں موجود جیل سپرنٹینڈنٹ سے ملاقات کی ۔ قیدیوں کی بحالی اور انھیں سزا کے بعد معاشرے کا کارآمد فرد بنانے اور جیل میں قیدیوں کی سکلز ڈویلپمنٹ کیسے کی جاتی ہے پہ تفصیلی بات چیت ہوئی۔

ظہیر احمد سینٹرل جیل راولاکوٹ کے سپر یٹنڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشرتی تربیت اور ماحول نے لوگوں کی شخصیت کو غیر متوازن بنا دیا ہے جس سے حساسیت ختم ہورہی ہے اور جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے۔ طلباء نے جیل میں قید قیدیوں کے حوالے سے مختلف سوالات کیے ، ایک طالب علم سردار سلطان حمید نے سوال کیا کہ قیدیوں کی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے سپورٹ ایکٹویٹیز اور صحن میں گھومنے کی اجازت ہے .

جواب میں سپریڈنٹ صاحب کا کہنا ہے کے یہاں سنٹرل جیل جو کہ کچہری راولاکوٹ میں موجود ہے جگہ کے محدود ہونے کے باعث صحن و دیگر سپورٹس وغیرہ کی ایکٹویٹیز کی جگہ موجود نہ ہے مگر پھر بھی قیدیوں کی ذہن سازی اور انھیں نارمل بنانے کے لئے ان کو چھوٹی ان ڈور گمیز وغیرہ کی سہولت مہیاء کی جاتی ہے تاکہ وہ سزا کے دوران یا ختم ہونے کے بعد ذہنی صحت کی خرابی کا شکار نہ ہوں۔

اس کے علاوہ عائشہ فاطمہ کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینٹرل جیل راولاکوٹ کی بلڈنگ جو ابھی زیر تعمیر ہے اگر وہ جلد تیار ہو جاتی ہے تو ہم ہنر مند قیدیوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور دیگر غیر ہنر قیدیوں کو بھی جیل میں ہنر سکھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ جب وہ معاشرے میں واپس جائے تو ایک ہنر مند شہری کے طور پر پہچانا جائے۔

ایک طالبہ عالیشبہ فریال نے سوال کیا کہ کیا قیدیوں کو مذہبی سکالرز سے ملنے کی اجازت ہے، تو اس کے جواب میں سپریڈنٹ صاحب نے کہا کہ ہاں قیدیوں کو مذہبی سکالرز سے ہر تیسرے روز یا ہفتہ وار ملنے کی اجازت ہے چاہے قیدی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اس کو اس کے مذہبی سکالرز سے ملنے کی اجازت ہے جو جیل انتظامیہ مکمل سیکورٹی میں ان سے ملاقات کرواتی ہے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں