06 نومبر یوم شہدا جموں: انسانی نسل کشی کا بدترین دن

87

تحریر : محمد شہباز
06 نومبر 1947 ایک ایسا دن ہے جب جموں و کشمیر کے سرحد علاقے میں لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان منتقل کرنے کے جھانسے میں ڈوگرہ افواج، بھارتی افواج اور ہندو جھتوں نے بے رحمی سے قتل کیا۔ یہ دن ایک ایسا المیہ ہے جس کا نقشہ کشمیری عوام کے دلوں پر آج بھی گہرا زخم بن کر موجود ہے۔ اس دن کو “یوم شہدا جموں” کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ اس دن تین لاکھ بے گناہ کشمیری مسلمانوں کی جانیں چھینی گئیں، جنہیں ان کے مذہبی، نسلی اور سیاسی تشخص کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔1947 میں تقسیم برصغیر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ایک طرف بھارت میں مسلمانوں کیلئے پاکستان کا قیام تھا، تو دوسری طرف بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کو بھارتی جبر کا سامنا تھا۔اس تقسیم کے دوران کشمیری مسلمانوں کیلئے صورتحال انتہائی پیچیدہ تھی، کیونکہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ اس وقت ایک آزاد و خود مختار ریاست کی صورت میں موجود تھا، جس کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ تھا، جو خود ایک ہندو تھا اور اس کے فیصلوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔مہاراجہ ہری سنگھ نے جموں و کشمیر کو آزاد رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن بھارتی حکومت نے اس کے سامنے جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کا دباو ڈالا۔ اس دوران 1947 میں بھارت نے پشتون قبائل کا جموں و کشمیر میں داخل ہونے کا بہانہ بناکر فوجی مداخلت کی،جس سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ اسی دوران نسل کشی کا واقعہ پیش آیا جس نے کشمیری مسلمانوں کیلئے قیامت کا منظر پیش کیا، وہ تھا “06 نومبر 1947 کا قتل عام”۔ تقسیم برصغیر کے دوران کشمیری مسلمان بھارتی جبر سے بچنے کیلئے پاکستان جانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن بھارتی افواج اور ہندو غنڈوں نے انہیں نشانہ بنایا۔

اس دن جموں کے علاقے میں مسلمانوں کو پاکستان کی طرف روانہ کرنے کے وعدے کیے گئے، لیکن حقیقت میں ان مسلمانوں کو ایک گہری سازش کا نشانہ بنایا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت کے زیر انتظام ڈوگرہ افواج، بھارتی افواج اور مقامی ہندو انتہاپسند غنڈوں نے ایک منظم قتل عام کا آغاز یکم نومبر سے ہی کیا تھا۔مسلمانوں کو پاکستان جانے کیلئے قافلوں میں روانہ کرنے کے بہانے انہیں جھانسے میں لایا گیا اور پھر انہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔اس دن کے بعد لاکھوں کشمیری مسلمانوں کو اس قتل عام سے بچنے کیلئے بھاگنا پڑا۔ ڈوگرہ فوجیوں، بھارتی افواج اور ہندو جھتوں نے نہ صرف مسلمانوں کو قتل کیا بلکہ ان کی خواتین کو اغوا کر کے ان کی حرمت بھی پامال کیں جبکہ ان کے گھروں کو نذر آتش بھی کیا۔ اس قتل عام میں کشمیری مسلمانوں کو زندگی بھر کا غم دیکر اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کیا گیا۔یہ قتل عام صرف مسلمانوں کا نہیں تھا، بلکہ یہ کشمیری ثقافت، تاریخ اور تشخص کیلئے بھی ایک شدید کاری ضرب تھی۔ قتل عام کا یہ عمل ایک منظم سازش کے تحت کیا گیا تھا جس کا مقصد کشمیری مسلمانوں کو اپنے وطن سے بے دخل کرنا تھا۔ بھارتی فوجیوں کی مدد سے یہ حملے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تاکہ کشمیری عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا جا سکے۔ ان حملوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند ہی دنوں میں تین لاکھ کشمیری مسلمانوں کو گولیوں،نیزوں اور برچھیوں سے موت کی نید سلا دیا گیا۔یوم شہدائے جموں ایک ایسا دن ہے جو ہر کشمیری کے دل و دماغ میں ہمیشہ ترو تازہ ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف ان قربانیوں کو یاد کرنا ہے بلکہ اس دن کے بعد کشمیری مسلمانوں کی نسلوں تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے کہ ان کے اجداد نے کس طرح اپنے حقوق کی حفاظت کی اور کس طرح بھارت کے جابرانہ تسلط کے خلاف آواز بلند کی۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے عزم اور حوصلوں کی عکاسی کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ کشمیری عوام نے کبھی بھی بھارتی جبر کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی وہ اپنی آزادی کی جدوجہد کو ترک کریں گے۔

جموں قتل عام کی ذمہ داری مہاراجہ ہری سنگھ اور بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مہاراجہ نے نہ صرف کشمیری مسلمانوں کو پاکستان جانے کا جھانسہ دیا بلکہ ان کے قتل عام میں بھی براہ راست دست تعاون فراہم کیا۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے بھی اس قتل عام کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے اور بھارتی فوجیوں نے اس دوران کشمیری مسلمانوں کے خلاف بدترین ظلم و ستم روا رکھا۔ہر سال 06 نومبر کو یوم شہدا جموں کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن کشمیری عوام کیلئے ایک خونین دن ہے جس میں انہوں نے اپنے اہل خانہ کو کھویا، اپنے گھروں سے ہاتھ دھونے پڑے اور اپنے وطن کو ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہا ۔ یہ دن جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ ہے جس نے کشمیری مسلمانوں کو آزادی کی جدوجہد کی سمت دی۔جس پر وہ آج بھی گامزن ہیں۔یوم شہدا جموں کے موقع پر کشمیری عوام کی یادوں کو تازہ کیا جاتا ہے، ان کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور ان کے اس قتل عام میں ملوث مجرموں کو بے نقاب کرنے کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کی جاتی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کو یاد دلانا ہے کہ انہوں نے اپنے وطن کی آزادی اور حقوق کیلئے خون بہایا اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔جن کی حفاظت اہل کشمیر پر فرض اور قرض ہے۔موجودہ تحریک آزادی بھی06 نومبر 1947 کی قربانیوں کا تسلسل ہے۔جس میں کشمیری عوام نے 1989سے لیکر اب تک مزید ایک لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں،آج بھی مقبوضہ جموں وکشمیر کے طول وعرض میں کشمیری عوام کے بیٹے اپنی سرزمین کو غاصب سامراج کے پنجہ استبداد سے چھڑانے کیلئے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔اگر 06نومبر 1947میں جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے علاوہ ان کے گھر بار تختہ و تاراج کیے گئے،تو آج 78برسوں کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی کشمیری عوام کو اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بناکر رکھا گیا .

ان کی جائیداد و املاک اور رہائشی مکانوں کو ضبط کرنے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔انہیں بدنام زمانہ قوانین کے تحت جیلوں میں قید کرکے تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔یعنی ظلم وجبر کا جوسلسلہ 1947میں شروع کیا گیا تھا،وہ آج بھی جاری و ساری اور اس میں شدت آرہی ہے۔بھارتی حکمرانوں کے تیور نہ پہلے بدلے،نہ ہی آج بدل رہے ہیں۔مقصد ایک ہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر جو کہ مسلم اکثریتی ریاست ہے،کو ہندو اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔05اگست2019 کا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کیساتھ کھڑا ہے اور ان کے حق خودارادیت کی دامے ،درمے اور سخنے حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر اہل کشمیر کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے اور یوم شہدا جموں کو ایک اہم دن کے طور پر منانے کی روایت برقرار رکھی ہے۔ پاکستان ڈنکے کی چوٹ پر اہل کشمیر کے حق خود ارادیت کی وکلالت کرتا ہے کہ کشمیری عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں ۔ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جانا ناگزیر ہے۔یوم شہدا جموں نہ صرف کشمیری عوام کیلئے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک پیغام ہے۔ یہ دن بتاتا ہے کہ کس طرح بھارت نے کشمیری مسلمانوں کیساتھ تاریخ کا بدترین ظلم و ستم کیا اور ان کے حقوق کا خون کیا۔ عالمی برادری کو اس دن کے حوالے سے بھارت کے مظالم اور ریاستی دہشت گردی کا نوٹس اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کیلئے فعال کردار ادا کرنا چاہیے،06 نومبر 1947 کو جموں میں ہونے والا قتل عام نہ صرف تاریخ کا بدترین سانحہ تھا بلکہ یہ کشمیری مسلمانوں کے دلوں میں ایک گہرا زخم چھوڑ کرگیا۔ لاکھوں کشمیریوں کی قربانیاں اس دن کے بعد بھی جاری ہیں اور ان کی جدوجہد آزادی کی ایک علامت بن چکی ہیں۔ یوم شہدا جموں کشمیری عوام کی عظمت، حوصلے اور عزم کا دن ہے، جو ایک دن ضرور کامیاب ہوں گے، کیونکہ کشمیری عوام کبھی بھی اپنے بنیادی حقوق کے حصول یعنی موجودہ جدوجہد آزادی سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور وہ اپنے مقصد کی تکمیل تک ہر قیمت پر لڑیں گے۔ یہی شہدا جموں کی عظیم اور لازوال قربانیوں کا پیغام اور ان قربانیوں کو خراج عقیدت ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں