آزادکشمیر میں جاری تحریک میں پونچھ کاکردار

47

تحریر : حافظ عثمان وحید فاروقی
آزادکشمیر میں مہنگائی کے خلاف جاری تحریک میں چند روز قبل اس وقت بہت تیزی سے شدت آئی جب پولیس نے مختلف شہروں اور بازاروں میں لگے احتجاجی کیمپس کو نہ صر ف اکھاڑ پھینکا بلکہ ایکشن کمیٹیز کے فعال اراکین کو گرفتار بھی کرلیا اس غیرسیاسی عمل کے بعد یہ احتجاجی تحریک پوری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہےوزیر اعظم آزادکشمیر ؛ اسمبلی ممبران ؛ انتظامیہ کے تمام تر ہتگھنڈوں کے باوجود اب یہ تحریک ریاست کے ہر فرد کی تحریک بن چکی ہے اس سلسلے میں گزشتہ کل 5 اکتوبر بروز جمعرات ” جوائنٹ ایکشن کمیٹیز، انجمن تاجران ؛ سول سوسائٹی کی طرف سے آزادکشمیر بھر میں رضاکارانہ طور پر پہیہ جام اور شٹرڈاون کی کال دی گئی تھی جس میں چند بنیادی مطالبات کو لے کر ہر شہر ؛ بازار ؛ چوک چوراہے پر بھرپور اور تاریخ کے منظم ترین احتجاج ریکارڈ کروائے گئے ۔

1_ آٹے کی سبٹڈی بحال کیجائے
2_ بجلی کے بلات میں اضافی ٹیکسز واپس لے کر پیدواری قیمت پر ریاستی عوام کو مہیا کی جائے
3_ اشرافیہ کی عیاشیوں میں کمی کی جائے
4_پراپرٹی کی خرید وفروخت میں ناجائز ٹیکسز کاخاتمہ کیا جائے ۔
5_آزادکشمیر کو ٹیکس فری زون قرار دیے جانے کے مطالبات کی بناء پر لوگ سڑکوں پر نکلے پہیہ جام ہونے کی وجہ سے دوردراز کے علاقوں سے لوگوں نے صبح سویرے ہی پیدل سفر کرکے مقامی بازاروں میں پہنچنا شروع کردیا تھا ۔

مظفرآباد گیلانی چوک میں عوام الناس کا جم غفیر جمع تھا جہاں مقررین نے حکومت وقت سے مظاہرین کے ان تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نیشلسٹ تنظیموں کے عہدایداران نے بھی خطاب کیے ۔ راقم راولاکوٹ احتجاجی مظاہرہ میں شریک تھا جہاں تاحد نگاہ انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے پانچ سال کے چھوٹے سے بچے سے لے کر اسی سال کے بوڑھے بزرگ تک لوگ احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے احتجاجی ریلی چاندنی چوک سے داخل ہوئی اور بازار کے درمیان سے ہوتی ہوئی سپلائی بازار پہنچی جہاں کم وپیش پانچ سات ہزار کا مجمع تھا دوران مظاہرہ عوام میں شدید غم وغصہ کی کیفیت تھی لوگ اپنی حفاظت کیلیے ہاتھوں میں مضبوط ڈنڈے لے کر آئے تھے شرکاء احتجاج نے حکمرانوں کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی ۔
مہنگی بجلی ۔۔۔۔نامنظور
مہنگا آٹا ۔۔۔۔نامنظور
ڈیم ہمارے قبضہ تمھارا ۔۔۔ نامنظور نامنظور
آٹا چور۔۔۔۔ مردہ باد
چینی چور۔۔۔ مردہ باد

اس طرح کے دیگر نعروں سے ایکشن کمیٹیز کے اراکین اپنے مطالبات دھراتے رہے اور عوام کو اپنے جائز حقوق کیلیے جزبات دلاتے رہے ۔
پونچھ کی تاریخ ہے یہاں سے چلنے والی تحریکوں نے ہمیشہ ملک کے طول وعرض کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے یہ خودار ؛ غیرت مند ؛ باوفا باہمت لوگوں کی سرزمین ہے حکومت وقت نے بزور بازو اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی تو راولاکوٹ کے چند نوجوانوں کے ذریعے چلنے والی یہ تحریک آج ریاست بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے خدانخواستہ چوھدری انوالحق حکومت نے مزید سستی اور کاہلی سے کام لیا تو بہت قومی امکان ہے اس کا دائرہ کار بڑھادیا جاسکتا ہے ۔

آج کے مظاہروں میں ہر طرح کی سیاسی اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر جیسے عوام الناس نے اسے کامیاب کیا ہے یہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جسے مورخ کبھی خراج تحسین پیش کیے بغیر فراموش نہیں کرسکے گا شنید ہے اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہ رینگی اور فوری طور ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ایکشن کمیٹیز آئندہ کیلیے خواتین کو روڈوں پر لاکر احتجاج کرنے کر مکمل پلان ترتیب دے چکی ہیں پھر بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو مظفرآباد اسمبلی کا گھیراو بھی پلان کا حصہ ہے ۔
اس وقت راجہ محمد فاروق حیدر خان سردار عتیق احمد خان جناب عبدالرشید ترابی مولانا سعید یوسف ودیگر سیاسی قیادت کو فوری طور ان معاملات کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ثالثی کا رول پلے کرنا چاہیے ورنہ بچشم خود دیکھ لیجیے نہ رہے گا بانس اور نہ رہے گی بانسری !!!
ادارے بھی اس بات کو نوٹ کرلیں طاقت کے زور پر اس تحریک کو دبانے کے خواب کبھی شرمندہ نہیں ہوسکیں گے خدانخواستہ ایسی کوشش کی گئی تو یہ تحریک ایک نیا رخ اختیار کرلے گی جو کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہ ہوگا ۔
اس ریاست گیر تحریک کو ٹھنڈا کرنے واحد حل مزاکرات مزاکرات اور مزاکرات ہی ہیں۔تحریر ۔ حافظ عثمان وحید فاروقی
عنوان ۔۔آزادکشمیر میں جاری تحریک میں پونچھ کاکردار

آزادکشمیر میں مہنگائی کے خلاف جاری تحریک میں چند روز قبل اس وقت بہت تیزی سے شدت آئی جب پولیس نے مختلف شہروں اور بازاروں میں لگے احتجاجی کیمپس کو نہ صر ف اکھاڑ پھینکا بلکہ ایکشن کمیٹیز کے فعال اراکین کو گرفتار بھی کرلیا اس غیرسیاسی عمل کے بعد یہ احتجاجی تحریک پوری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہےوزیر اعظم آزادکشمیر ؛ اسمبلی ممبران ؛ انتظامیہ کے تمام تر ہتگھنڈوں کے باوجود اب یہ تحریک ریاست کے ہر فرد کی تحریک بن چکی ہے اس سلسلے میں گزشتہ کل 5 اکتوبر بروز جمعرات ” جوائنٹ ایکشن کمیٹیز، انجمن تاجران ؛ سول سوسائٹی کی طرف سے آزادکشمیر بھر میں رضاکارانہ طور پر پہیہ جام اور شٹرڈاون کی کال دی گئی تھی جس میں چند بنیادی مطالبات کو لے کر ہر شہر ؛ بازار ؛ چوک چوراہے پر بھرپور اور تاریخ کے منظم ترین احتجاج ریکارڈ کروائے گئے ۔

1_ آٹے کی سبٹڈی بحال کیجائے
2_ بجلی کے بلات میں اضافی ٹیکسز واپس لے کر پیدواری قیمت پر ریاستی عوام کو مہیا کی جائے
3_ اشرافیہ کی عیاشیوں میں کمی کی جائے
4_پراپرٹی کی خرید وفروخت میں ناجائز ٹیکسز کاخاتمہ کیا جائے ۔
5_آزادکشمیر کو ٹیکس فری زون قرار دیے جانے کے مطالبات کی بناء پر لوگ سڑکوں پر نکلے پہیہ جام ہونے کی وجہ سے دوردراز کے علاقوں سے لوگوں نے صبح سویرے ہی پیدل سفر کرکے مقامی بازاروں میں پہنچنا شروع کردیا تھا ۔

مظفرآباد گیلانی چوک میں عوام الناس کا جم غفیر جمع تھا جہاں مقررین نے حکومت وقت سے مظاہرین کے ان تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور نیشلسٹ تنظیموں کے عہدایداران نے بھی خطاب کیے ۔
راقم راولاکوٹ احتجاجی مظاہرہ میں شریک تھا جہاں تاحد نگاہ انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے پانچ سال کے چھوٹے سے بچے سے لے کر اسی سال کے بوڑھے بزرگ تک لوگ احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے احتجاجی ریلی چاندنی چوک سے داخل ہوئی اور بازار کے درمیان سے ہوتی ہوئی سپلائی بازار پہنچی جہاں کم وپیش پانچ سات ہزار کا مجمع تھا دوران مظاہرہ عوام میں شدید غم وغصہ کی کیفیت تھی لوگ اپنی حفاظت کیلیے ہاتھوں میں مضبوط ڈنڈے لے کر آئے تھے شرکاء احتجاج نے حکمرانوں کے خلاف بھرپور نعرہ بازی کی ۔
مہنگی بجلی ۔۔۔۔نامنظور
مہنگا آٹا ۔۔۔۔نامنظور
ڈیم ہمارے قبضہ تمھارا ۔۔۔ نامنظور نامنظور
آٹا چور۔۔۔۔ مردہ باد
چینی چور۔۔۔ مردہ باد

اس طرح کے دیگر نعروں سے ایکشن کمیٹیز کے اراکین اپنے مطالبات دھراتے رہے اور عوام کو اپنے جائز حقوق کیلیے جزبات دلاتے رہے ۔
پونچھ کی تاریخ ہے یہاں سے چلنے والی تحریکوں نے ہمیشہ ملک کے طول وعرض کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے یہ خودار ؛ غیرت مند ؛ باوفا باہمت لوگوں کی سرزمین ہے حکومت وقت نے بزور بازو اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی تو راولاکوٹ کے چند نوجوانوں کے ذریعے چلنے والی یہ تحریک آج ریاست بھر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے خدانخواستہ چوھدری انوالحق حکومت نے مزید سستی اور کاہلی سے کام لیا تو بہت قومی امکان ہے اس کا دائرہ کار بڑھادیا جاسکتا ہے ۔
آج کے مظاہروں میں ہر طرح کی سیاسی اور طبقاتی تفریق سے بالاتر ہو کر جیسے عوام الناس نے اسے کامیاب کیا ہے یہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے جسے مورخ کبھی خراج تحسین پیش کیے بغیر فراموش نہیں کرسکے گا شنید ہے اگر حکومت کے کانوں پر جوں نہ رینگی اور فوری طور ان مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو ایکشن کمیٹیز آئندہ کیلیے خواتین کو روڈوں پر لاکر احتجاج کرنے کر مکمل پلان ترتیب دے چکی ہیں پھر بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو مظفرآباد اسمبلی کا گھیراو بھی پلان کا حصہ ہے ۔
اس وقت راجہ محمد فاروق حیدر خان سردار عتیق احمد خان جناب عبدالرشید ترابی مولانا سعید یوسف ودیگر سیاسی قیادت کو فوری طور ان معاملات کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ثالثی کا رول پلے کرنا چاہیے ورنہ بچشم خود دیکھ لیجیے نہ رہے گا بانس اور نہ رہے گی بانسری !!!
ادارے بھی اس بات کو نوٹ کرلیں طاقت کے زور پر اس تحریک کو دبانے کے خواب کبھی شرمندہ نہیں ہوسکیں گے خدانخواستہ ایسی کوشش کی گئی تو یہ تحریک ایک نیا رخ اختیار کرلے گی جو کسی صورت پاکستان کے مفاد میں نہ ہوگا ۔
اس ریاست گیر تحریک کو ٹھنڈا کرنے واحد حل مزاکرات مزاکرات اور مزاکرات ہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں