61ویں بین الاقوامی زرعی نمائش (SIA) میں شرکت کا خواب، جو حقیقت بن گیا

41

تحریر: محمد عقیل انجم</strong
زراعت انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے، جو صرف زمین پر فصل اگانے تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک وسیع نظام ہے جو انسانوں کی تہذیب، ثقافت، سائنس اور فطرت سے جڑا ہوا ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد زراعت کے ان مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہے جنہوں نے انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

1. زراعت اور تہذیب:زراعت کا آغاز انسانوں کی سماجی اور ثقافتی زندگی کے ارتقاء کے ساتھ ہوا۔ جب انسانوں نے زراعت کا آغاز کیا، تو یہ انہیں ایک جگہ آباد ہونے کا موقع فراہم کرتا تھا جس کی بدولت انہوں نے اپنی بستیاں قائم کیں۔ اس کے نتیجے میں مختلف تہذیبیں وجود میں آئیں، جن میں ایجپٹ، میسوپوٹیمیا، اور چین جیسے علاقوں کی زرعی ترقی نے انسانی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا۔

2. زراعت اور ثقافت:زراعت اور ثقافت کا گہرا تعلق ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں فصلوں کی پیداوار نہ صرف خوراک کے لیے بلکہ ثقافتی پہچان کے طور پر بھی اہمیت رکھتی ہے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ 61ویں بین الاقوامی زرعی نمائش (Salon International de l’Agriculture – SIA) میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ عالمی نمائش ان کے لیے محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک خواب کی تعبیر تھی۔​بین الاقوامی زرعی نمائش: دنیا کی سب سے بڑی زرعی تقریبSIA دنیا کی سب سے بڑی زرعی نمائشوں میں شمار ہوتی ہے، جس کا آغاز 1964 میں ہوا۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں کسان، ماہرینِ زراعت، صنعت کار، طلبہ اور عام شہری اس میں شرکت کرتے ہیں۔

2025 میں منعقد ہونے والی 61ویں نمائش نے اپنے وسیع دائرہ کار، جدید سائنسی مظاہروں اور ثقافتی ہم آہنگی کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کی۔ پیرس ایکسپو پورٹ دے ورسائے کے وسیع و عریض ہالز میں اس بار پچیس سے زائد ممالک کے شرکاء، ہزاروں مویشی، اور سینکڑوں دیسی و بین الاقوامی زرعی مصنوعات کی بھرپور نمائش کی گئی۔ اس سال کی تھیم “زرعی خودمختاری اور پائیداری” (Agricultural Sovereignty and Sustainability) پر مرکوز رہی، جو آج کے دور میں زراعت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ایک ہے.

راقم کے لئے یہ تجربہ بے مثال تھا۔ ایک جانب جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ مشینری، زرعی تحقیقاتی مراکز، اور نئی اجناس کی اقسام نے ان کی معلومات میں بے پناہ اضافہ کیا، تو دوسری جانب روایتی دیہی ثقافت، گاؤں کے ماحول سے متاثر اسٹالز، اور زندہ جانوروں کی موجودگی نے ان کے دل کو چھو لیا۔​اوپیٹ: دیہی شان اور ممتا کی علامتنمائش کی سب سے دلکش جھلک “اوپیٹ” نامی لموزین نسل کی ایک خوبصورت گائے تھی، جو اس سال کی سرکاری نمائندہ جانور (Mascot) کے طور پر منتخب کی گئی۔ یہ گائے، اپنے چوتھے بچھڑے کے ساتھ، ماں کی ممتا، صبر اور دیہی شان کی جیتی جاگتی علامت تھی۔ عقیل نے اس کے مالک، مشہور فرانسیسی کسان الیگزاندر ہومو سے خصوصی ملاقات کی، جنہوں نے زمین، موسموں، اور جانوروں سے اپنے گہرے تعلق کی کہانیاں نہایت محبت سے سنائیں راقم نے اس نمائش میں فرانسیسی پنیر، شہد، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات کے اعلیٰ ذائقے چکھے۔ مختلف ممالک کے کسانوں سے تبادلہ خیال کیا، اور جدید ترین سائنسی تحقیقی مظاہرے دیکھے۔ نمائش میں منعقد ہونے والے زرعی مقابلے، تعلیمی سیشنز اور معلوماتی ورکشاپس نے انہیں عالمی زراعت کی نئی سمتوں سے روشناس کرایا۔

​پاکستان اور فرانس کے درمیان زرعی تعاون کے امکانات اس نمائش میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور فرانس کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ فروری 2025 میں، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار، رانا تنویر حسین، اور فرانس کے سفیر نکولا گیلے کے درمیان ملاقات میں زرعی تجارت کو بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ اس وقت تک، دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کا حجم 39 ملین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ پاکستان کی جانب سے چاول، آم، مصالحہ جات، تل، مکئی، اور نامیاتی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ پر غور کیا گیا، جبکہ فرانسیسی بیج آلو کی درآمد کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ​اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے لائیوسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بھی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا، جس میں مشترکہ منصوبے اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہے۔ ​Health Services Ministryوطن واپسی کا خوابنمائش سے رخصت ہوتے ہوئے عقیل کے دل میں ایک نیا خواب تھا—ایک ایسا پاکستان جہاں کسان صرف زمین پر کام نہ کرے، بلکہ فخر کے ساتھ سر اُٹھا کر کہے: “میں ایک کسان ہوں!” عقیل کہتے ہیں:​”یہ صرف ایک نمائش نہیں، بلکہ زمین پر زندگی کا ایک عظیم الشان میلہ تھا۔

ہر قدم پر علم، جذبہ اور فخر محسوس ہو رہا تھا۔ میرے دل میں عزم ہے کہ میں اس وژن اور اس روح کو پاکستان لے کر جاؤں۔”​عقیل کا یہ سفر اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی تعاون اور تجربات کا تبادلہ کس طرح مقامی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔​
فرانس نیوی کی اس تقریب میں شرکت میرے لیے ایک نہایت اہم اور جذباتی لمحہ تھا۔ یہاں، جہاں دوسری جنگ عظیم کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا تھا، میں نے ان عظیم قربانیوں کا شعور کیا جنہوں نے دنیا کی آزادی اور امن کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ اس تقریب میں نہ صرف فرانس کے نیوی کے افراد بلکہ مختلف ملکوں کے نمائندے بھی موجود تھے.

جو اس تاریخی واقعے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو یاد کر رہے تھے۔یادگار تقریب میں شریک ہو کر مجھے احساس ہوا کہ جنگ کے اثرات صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتے، بلکہ ان کی گونج آنے والی نسلوں تک پہنچتی ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب ہمیں جنگ کی ہولناکیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی قربانیوں کو یاد کرنے کی ضرورت تھی، تاکہ ہم دنیا بھر میں امن و سکون کے لیے کام کر سکیں۔”یہ بیان آپ کے سفر نامے میں ایک جذباتی اور اہم لمحہ پیش کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں