7ستمبر:صاف ستھری ہوا کا عالمی دن

54

تحریر:شوکت علی
اقوام متحدہ کے تحت ستمبر کو “نیلے آسمانوں کے لیے صاف ہوا کا بین الاقوامی دن” عالمی سطح پر منایا جارہا ہے ۔اس سال کا تھیم ہے “صاف ہوا کے لیے ایک ساتھ”یہ دن منانے کا مقصد شہریوں میں صحت مند زندگی کے لئے صاف ستھری ہوا کی اہمیت کے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے اور یہ دن منانے سے ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات میں بھی مدد کرتا ہے۔”فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے ، جس سے انسانی صحت ، سیاروں کی صحت اور آب و ہوا کی تبدیلی متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں جغرافیہ یا سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ صاف ہوا سب کے لئے دستیاب ہے۔ اس کے لئے دنیا کو فیصلہ کن اور فوری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہوگی۔

فضائی آلودگی عالمی سطح پر صحت عامہ کے لئے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ ہے ، ایک اندازے کے مطابق 92 فیصد آبادی آلودہ ہوا سے دوچار ہے جس کا تخمینہ ہر سال 19 لاکھ قبل از وقت اموات ہوتا ہے۔ آلودہ ہوا خاص طور پر بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کو متاثر کرتی ہے ، جن میں ڈیمینشیا ، ذیابیطس ، COVID-XNUMX ، کارڈیو ویسکولر اور اعصابی امراض جیسی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے روابط ہیں۔ترقی یافتہ ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے ہوا کے معیار کو بہت بہتر بنایا ہے لیکن بہت سارے ترقی پذیر ممالک ، جو اب بھی کھانا پکانے اور گرم کرنے کے لئے لکڑی اور دیگر ٹھوس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں ، ان سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے کمزور اور پسماندہ افراد بھی بدترین ہوا کے معیار سے دوچار ہیں۔

CoVID-19 وبائی امراض کے دوران ، اس معاملے کو منظر عام پر لایا گیا تھا اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فضائی آلودگی لوگوں کو انفیکشن کے مزید خطرہ میں ڈال سکتی ہے. وبائی امراض کے نتیجے میں ہوا کی آلودگی میں کمی اور ہوا کے معیار میں اضافہ ہوا ، کیونکہ بین الاقوامی لاک ڈاؤن کے دوران ہوائی سفر اور کار کا سفر کم ہوا۔

گھر کی آلودہ فضا کو صحت مند بنانے کے پانچ آسان طریقے:
دنیا میں آلودہ ہوا کے نتیجے میں ہر برس 70 لاکھ اموات ہوتی ہیں اور اس صورتحال سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔صحت مند فضا میں سانس لینے کے آسان طریقوں کی مدد سے دس میں سے نو افرادمختلف بیماریوں سے بچ سکتے ہیں جن میں فالج،پھیپھڑوں کا کینسر اور سانس کی بیماریاں شامل ہیں۔آلودگی کے خورد بینی ذرّات ہمارے اطراف ہمیشہ رہتے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچاتے رہتے ہیں خاص کر اگر آپ گھر کے اندر ہوں۔

چیف سائینس آفیسر کے مطابق گھر کے اندر فضا میں اتنی کی آلودگی ہوتی ہے جتنی کے باہر لیکن اس کے ساتھ گھر کے اندر دیگر آلودہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جس میں مکان کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مواد، کھانا پکانا اور صفائی کے لیے استمعال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔خوش قسمتی سے چند ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے آپ گھر کے اندر کی فضا کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔آپ کو ایسی پانچ تراکیب بتاتے ہیں جن کی مدد
سے آپ ایسا کر سکتے ہیں۔

ہوا کی کی نکاسی کے راستے:
گھر میں تازہ ہوا کے داخلے کے لیے نامناسب راستوں کے نتیجے میں آلودہ ہوا گھر کے اندر ہی ٹک جاتی ہے۔انڈیا کے انرجی اینڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک آر سوریش کا کہنا ہے کہ گھر میں تازہ ہوا کے لیے دن میں ایک بار تقریباً کھڑکیوں اور دروازوں کو دو سے تین بار کھولیں اگر آپ کو کسی قسم کی الرجی نہیں اور باہر موسم زیادہ شدید نہیں ہے تو اس صورتحال میں گھر کے اندر ہوا کی نکاسی کے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں جس میں فلٹر لگے ایئر کنڈیشنگ سسٹم شامل ہیں۔اس کے علاوہ اگر آپ کھانا پکا رہے ہیں یا نہا رہے ہیں تو اس صورت میں ہوا باہر نکالنے والے فین کا استعمال کریں تاکہ مضر صحت ذرّات اور ضرورت سے زیادہ نم ہوا کو باہر نکلا جا سکے۔

گھر کے اندر پودے رکھیں
اگر آپ ہوا صاف کرنے والے مہنگے فلٹرز کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تو اس صورت میں آپ گھر کے اندر پودوں کو رکھ سکتے ہیں۔بعض پودے ہوا کے مضرصحت اجزا کو صاف کر سکتے ہیں اور یہ گھر کے اندر کی فضا میں آلودگی کے لیے ایک موثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظریے کے کوئی تحقیقاتی شواہد نہیں ہیں تو چلیں کم از کم یہ آپ کے لیے خوشگوار احساس کا باعث تو بنتے ہیں۔
تو اگر آپ گھر کے اندر پودے رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو درج ذیل میں دیے گئے چند پودوں سے آپ یہ شروع کر سکتے ہیں۔

منی پلانٹ: اس پودے کو اگانا اور دیکھ بھال کرنا آسان ہوتا ہے اور یہ قالین اور روغن سے نکلنے والے مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ڈریگن ٹری: یہ درخت مشرقی افریقہ میں پایا جاتا ہے اور اسے گھروں اور دفاتر میں آرائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ درخت بھی مضرِ صحت کیمیکلز کو فضا سے ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سنیک پلانٹ: اس پودے کو زیادہ پانی دینے کی ضرورت خاص کر سردیوں کے موسم میں۔ یہ پودہ رات کے وقت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتا ہے۔
آر سریش کے مطابق آپ جو کوئی بھی پودا گھر میں رکھیں اس میں سب اہم بات ذہن میں رکھنے والی یہ ہے کہ یہ پودے قدرتی طور پر فضا کو صاف کرتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں صحت مند رکھا جائے کیونکہ دوسری صورت میں ہوا میں بائیولوجیکل آلودگی پھیلانا شروع کر دیں گے۔
گھر کے اندر سگریٹ نوشی سے اجتناب
سگریٹ نوشی بذاتِ خود نقصان دہ ہے اور گھر میں کی جائے تو بے حد نقصان ہوتی ہے۔
گھر میں اجتماعی سگریٹ نوشی کا اندر کی فضا پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں اور خاص کر اگر ہوا کی نکاسی کا انتظام غیر مناسب ہو۔
سگریٹ کا دھواں قریب میں دوسروں کے لیے بے حد نقصان دے ہو ہوتا ہے اور یہ انھیں خطرناک بیماریوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
اگر گھر میں نوازئیدہ بچے ہوں تو سگریٹ نوشی کے نتیجے میں ان کی اچانک موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
5. الرجی سے نجات حاصل کریں
پولن اور مٹی کے ذرّے کے نتیجے میں بیمار ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور خاص کر اگر آپ کو سانس کی بیماری، پولن الرجی اور دیگر اقسام کی الرجی ہیں۔
ہوا میں نمی کے تناسب سے یہ ہوا میں یہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان لوگوں کو متاثر کر سکتی ہیں جن کو پیپھڑوں کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔
تو اس صوتحال میں آپ کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق آسان طریقوں سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں جن میں اپنے بستر کو باقاعدگی سے صاف کریں۔
اپنے قالین کو صاف کریں اور اس میں کوشش کریں کہ ماحول دوست ویکیوم کا استعمال کریں۔
اپنے کپڑوں کو کھڑکی کے قریب خشک کریں۔
داخلی دروازے پر میٹ ڈالیں تاکہ باہر سے آلودگی اندر نہ آئے اور ہوا سے اضافی نمی صاف کرنے والے آلے کا استعمال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں