تحریر: نعیم الحسن نعیم
حکم حق ہے لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعی
کھائے کیوں مزدور کی محنت کا پھل سرمایہ دار یہ محنت جدوجہد عزم اور پسینے کی عظمت کا وہ آفاقی منشور ہے جو انسان کے عمل کو اس کی پہچان قرار دیتا ہے۔ خالقِ کائنات نے انسان کو اس کی محنت کے مطابق عزت دینے کا اصول عطا کیا مگر سوال یہ ہے کہ جب آسمانی انصاف نے مزدور کے پسینے کو حرمت بخشی تو زمینی نظام نے اسے محرومی استحصال اور بے بسی کی زنجیروں میں کیوں جکڑ دیا؟ کیوں وہ ہاتھ جو قوموں کی قسمت سنوارتے ہیں خود اپنی تقدیر کے فیصلے سے محروم رہتے ہیں؟ کیوں وہ بازو جو بلند و بالا عمارتیں کھڑی کرتے ہیں اپنی جھونپڑی کی شکستہ چھت بھی مرمت نہیں کرا سکتے؟ یکم مئی عالمی یومِ مزدور یہ دن صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کے ماتھے پر لکھا ہوا وہ باب ہے جو محنت کش انسان کے لہو قربانی استقامت اور حقوق کی جدوجہد سے روشن ہے۔ یہ دن ان مزدوروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے خون سے انصاف کے چراغ روشن کیے جنہوں نے اپنے حق کے لیے سولی کو گلے لگایا جنہوں نے سرمایہ دارانہ ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔مگر المیہ یہ ہے کہ وقت کے بدلتے دھاروں کے ساتھ اس دن کی روح دھندلانے لگی ہے۔ کئی معاشروں میں یہ دن صرف رسمی تقاریر سیاسی نعروں سرکاری تعطیل اور نمائشی جلسوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں مزدور کا مقدر اب بھی محرومی کم اجرت بے یقینی طبقاتی ظلم اور معاشی استحصال سے عبارت ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مزدور کو ریاستی نظام کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ وہاں مزدور محض زندہ نہیں رہتا بلکہ باوقار زندگی گزارتا ہے۔ اسے مناسب اجرت معیاری تعلیم صحت رہائش پنشن انشورنس اور انسانی احترام میسر ہوتا ہے۔ جاپان میں صفائی کرنے والا بھی معاشی تحفظ رکھتا ہے۔ یورپ میں ایک پلمبر الیکٹریشن ویٹر یا فیکٹری ورکر اپنی محنت سے نہ صرف اپنے خاندان کو خوشحال رکھ سکتا ہے بلکہ سماجی عزت بھی حاصل کرتا ہے۔
لیکن پاکستان کا مزدور؟ یہاں مزدور کا پسینہ سستا ہے مگر سرمایہ دار کا منافع بےحساب۔ یہاں محنت کش دن بھر دھوپ میں جلتا ہے بھٹوں میں سلگتا ہے فیکٹریوں میں گھلتا ہے کھیتوں میں جھکتا ہے تعمیراتی ڈھانچوں پر جان ہتھیلی پر رکھتا ہے مگر شام کو اس کے حصے میں صرف تھکن فاقہ اور اگلے دن کی فکر آتی ہے۔ پاکستان میں مزدور اکثر دو وقت کی روٹی بچوں کی فیس علاج کے اخراجات اور کرائے کے مکان کے بوجھ تلے سسک سسک کر زندگی گزارتا ہے۔ اس کے بچے اکثر تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ غربت انہیں کم عمری میں ہی مزدوری کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔ یوں غربت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے اور مزدور کا بیٹا اکثر مزدور ہی بن کر رہ جاتا ہے۔پاکستانی سیاست میں مزدور ہمیشہ ایک نعرہ رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے “روٹی کپڑا اور مکان” کا دلکش وعدہ کر کے مزدور طبقے کے دل جیتے۔ بعد میں یہی خواب مختلف سیاسی ادوار میں بار بار دہرایا گیا۔ بینظیر بھٹو سے آصف علی زرداری تک اور پھر بعد کی حکومتوں تک مزدور کے نام پر وعدے کیے گئے کم از کم اجرت بڑھانے کے اعلانات ہوئے فلاحی منصوبوں کے دعوے کیے گئے۔مگر سوال آج بھی وہی ہے کیا مزدور کے حالات واقعی بدلے؟
کیا اس کے گھر کی بھوک ختم ہوئی؟ کیا اس کے بچوں کو معیاری تعلیم ملی؟ کیا اس کے علاج کا بوجھ کم ہوا؟ کیا اس کی زندگی باوقار ہوئی. بدقسمتی سے جواب نفی میں ہے۔ ہر سال یکم مئی پر حکمران طبقہ مزدور کے ساتھ یکجہتی کے دعوے کرتا ہے۔وزرائے اعظم، صدور وزراء سیاسی رہنما اور مزدور یونینز کے نمائندے محنت کشوں کے حقوق پر تقاریر کرتے ہیں۔ مگر یہ تقاریر اکثر الفاظ کی نمائش ثابت ہوتی ہیں۔ مزدور کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ٹریڈ یونینز جو مزدور کے حقوق کی علمبردار سمجھی جاتی ہیں کئی جگہوں پر مفادات کی سیاست کا شکار ہو چکی ہیں۔ جلسوں میں مزدور کے حق میں نعرے لگانے والے بعض رہنما بند کمروں میں سرمایہ داروں سے سمجھوتے کر لیتے ہیں اور یوں مزدور پھر تنہا رہ جاتا ہے۔ ایک دکان پر کام کرنے والے کی بات دل دہلا دیتی ہے میرے لیے یوم مزدور صرف کاغذوں پر ہے۔ اگر میں اس دن چھٹی کروں تو میری ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ یہ الفاظ صرف ایک شخص کی داستان نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانی مزدوروں کی اجتماعی فریاد ہیں جو روزانہ اپنی سانسیں بیچ کر زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ رکشہ چلانے والا وہ اینٹیں ڈھونے والا وہ کھیت میں جھلسنے والا کسان وہ فیکٹری میں مشینوں کے شور میں اپنا وجود کھونے والا محنت کش وہ گھروں میں کام کرنے والی عورت وہ سبزی فروش وہ دیہاڑی دار. ان سب کے لیے یکم مئی اکثر صرف ایک عام دن ہوتا ہے کیونکہ بھوک تعطیل نہیں کرتی۔
یوم مزدور کی بنیاد 1886ء کے شکاگو کے ان عظیم محنت کشوں کی قربانیوں میں پیوست ہے۔ جنہوں نے آٹھ گھنٹے اوقاتِ کار کے حق کے لیے ہڑتال کی۔ سرمایہ دارانہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ پولیس کی گولیوں کا سامنا کیا۔ پھانسی کے پھندوں کو چوما مگر اپنے حق سے دستبردار نہ ہوئے۔انہوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو مگر ہماری آواز کو نہیں دبا سکتے۔یہ آواز آج بھی دنیا بھر کے مزدوروں کے ضمیر میں زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے بیشتر ممالک میں مزدور کو بنیادی حقوق حاصل ہیں مگر ہمارے ہاں؟ یہاں مزدور اب بھی کم اجرت غیر محفوظ ماحول مہنگائی بیروزگاری جبری مشقت چائلڈ لیبر اور سماجی بے حسی کا شکار ہے۔یکم مئی کے دن جب فیکٹریاں بند ہوتی ہیں دفاتر میں چھٹی ہوتی ہے سرمایہ دار آرام کرتے ہیں سیاستدان تقاریر کرتے ہیں ٹی وی چینلز خصوصی نشریات پیش کرتے ہیں تو مزدور کا سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے آج بچوں کے لیے روٹی کہاں سے آئے گی؟ یہ سوال ہمارے معاشرتی ضمیر کے لیے ایک چیلنج ہے۔ ایک طرف ایوانوں میں مزدور کے حقوق پر بات ہوتی ہے دوسری طرف لاکھوں مزدور روزانہ بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ترستے ہیں۔ ان کی زندگیاں مہنگائی کے بوجھ کم تنخواہوں غیر یقینی مستقبل اور استحصالی نظام کے شکنجے میں قید ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی سفاکی یہ ہے کہ وہ مزدور کے پسینے سے اپنی تجوریاں بھرتا ہے مگر مزدور کو اس کی محنت کا حقیقی معاوضہ نہیں دیتا۔ فیکٹریوں کے مالک امیر تر ہوتے جاتے ہیں جبکہ مزدور غربت کی لکیر سے نیچے گرتا چلا جاتا ہے۔اسلام نے مزدور کے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔
یہ تعلیم صرف معاشی اصول نہیں بلکہ انسانی شرافت کا معیار ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے مذہبی تعلیمات کو بھی محض تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدور کو صرف ہمدردی نہیں، انصاف دیا جائے۔یکم مئی ہمیں محض تاریخ یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ دن ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ان تھکے ہوئے ہاتھوں کو پہچانیں ان کے زخموں کو محسوس کریں ان کے خوابوں کی تعبیر کے لیے عملی کردار ادا کریں۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کیا مزدور صرف نعرہ رہے گا؟ یا واقعی قومی ترقی کا مرکز بنے گا؟کیا اس کے بچوں کا مستقبل بھی غربت کی زنجیروں میں جکڑا رہے گا؟ یا انہیں بھی خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حق ملے گا؟ کیا یکم مئی صرف جلسوں جلوسوں اور تقاریر کا دن ہوگا؟ یا یہ واقعی مزدور کے مقدر کی تبدیلی کا آغاز بنے گا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت صنعتکار سماجی ادارے مذہبی قیادت تعلیمی حلقے اور ہر باشعور شہری مزدور کے حقوق کے لیے عملی قدم اٹھائے۔ہمیں اپنے معاشرے میں محنت کو عزت دینا ہوگی مزدور کو کمتر نہیں بلکہ معمارِ قوم سمجھنا ہوگا کیونکہ حقیقت یہی ہے یہ مزدور ہی ہے جو سڑکیں بناتا ہے یہ مزدور ہی ہے جو عمارتیں کھڑی کرتا ہے.