اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر کی ہر یونیورسٹی میں کشمیر انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جبکہ اس سے قبل بھی میں نے آزادکشمیر کی تمام جامعات کی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ ہر یونیورسٹی میں کشمیریات کا شعبہ قائم کیا جائے کیونکہ کشمیر انسٹیٹیوٹ کے قیام سے طلباء و طالبات کو مسئلہ کشمیر پر جامع آگاہی حاصل ہوگی۔ مسئلہ کشمیر کے اس اہم اور نازک موڑ پر ہم سب کو مل کر کشمیر ایشو کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے کام کرنا ہو گا۔ تنازعہ کشمیر ایک سیاسی تنازعہ ہے جس کا حل سیاسی اور سفارتی طریقوں سے ہی تلاش کیا جا سکتا ہے اور اس حل کی تلاش میں کشمیری عوام کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو ظلم و ستم کر رہا ہے اسے محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دینا انصاف نہیں کیونکہ وہ مقبوضہ خطے میں منظم نسل کشی اور جنگی جرائم میں ملوث ہے جو بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین جرائم ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جنگی جرائم کی ذمہ دار بھارتی حکومت، حکمران ہندتوا جماعت بی جے پی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ RSS جیسی انتہا پسند جماعت اور بھارتی افواج ہے۔ بھارت کی نو لاکھ سے زائد افواج مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر روز معصوم کشمیریوں اور خاص طور پر نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کر رہی ہے، کشمیری عوام سے اُن کی زمین چھین رہی ہے اور بھارت کی مختلف ریاستوں سے ہندووں کو لا کر کشمیری عوام کی زمین پر آباد کر رہی ہے اور اس طرح بھارت نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر پر فوجی بلکہ آبادی کی یلغار بھی شروع کر رکھی ہے تاکہ وہ ریاست کی آبادی کا تناسب تبدیل کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دے۔
بھارت کے یہ تمام اقدامات در حقیقت جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں جس کیلئے بھارت کی حکومت اور افواج کو جوابدہ ٹھہرایا جانے کیساتھ ساتھ انہیں بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے کیونکہ بھارت اب عالمی سطح پر بھی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے جس کی واضح مثال کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ہے جس میں مودی اور بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی راء کے ملوث ہونے کے شواہد کینیڈین وزیر اعظم نے اپنی پارلیمنٹ میں پیش کیے ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بھارت دہشت گردی کرانے میں ملوث ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صدر کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں سیکرٹری جنرل کشمیر امریکن اوئیرنس فورم (Kashmir American Awareness Forum)و ممتاز کشمیری رہنماء ڈاکٹر غلام نبی فائی کیساتھ تفصیلی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد، وائس چانسلر آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی، وائس چانسلر میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بریگیڈئیر ریٹائرڈ ڈاکٹر محمد یونس جاوید، وائس چانسلر یونیورسٹی آف پونچھ پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی آف آزادجموں وکشمیر باغ پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید، وائس چانسلر یونیورسٹی آف کوٹلی پروفیسر ڈاکٹر رحمت علی، صدارتی مشیر سردار امتیاز خان، سردار ذوالفقار روشن، ڈاکٹر ولید رسول، سیکرٹری صدارتی امور ڈاکٹر محمد ادریس عباسی اور دیگر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر دو کروڑ انسانوں کی آبادی والا خطہ ہے جنہوں نے اپنی تقدیر اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اورگزشتہ سات عشروں سے کشمیری عوام یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع دیا جائے اور اپنا حق خودارادیت چاہتے ہیں۔ کشمیری عوام کا یہ حق اقوام متحدہ نے اپنی کئی قراردادوں میں تسلیم کر رکھا ہے۔پانچ اگست 2019کے بعد بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر فوجی محاصرہ مسلط کرکے کشمیری عوام کی سانسوں پر بھی پہرے بٹھائے ہیں۔ نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارت نے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کر کے ریاست کو عملاً اپنی کالونی میں تبدیل کیا ہے۔ اہل کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرنا چاہتے ہیں جبکہ بھارت ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ لہذا اقوام عالم کو جو اقوام متحدہ کے چارٹر پر یقین رکھتا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ناجائز قبضہ اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اُٹھانی چاہیے کیونکہ بھارت کے یہ جابرانہ اقدامات پوری دنیا کے امن و استحکام کے خلاف ایک سازش ہیں جس کا بین الاقوامی برادری کو مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔
صدر آزادجموں وکشمیر نے کہا کہ 2018-19میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اپنی دو رپورٹوں میں پھر ایکبار اس بات کو دوہرایا ہے کہ کشمیری عوام کا حق خودارادیت مسلمہ ہے اور بھارت ان کے اس حق کا احترام کرنے کا پابند ہے۔ اسی طرح مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہم کتنے برس اور عشرے مزید انتظار کریں گے کیونکہ76 برس تو گزر چکے ہیں اور ہر سال اہل کشمیر کیلئے ایک نئی خونچکاں داستان رقم ہو رہی ہے۔ اہل جموں وکشمیر روز مارے جارہے ہیں، اُن کی عفت ماب خواتین کی دامن عصمت تار تار ہو رہی ہیں، ہزاروں خواتین کو یہ معلوم نہیں کہ اُن کے شوہر اور بچے زندہ ہیں یا شہید کیے جا چکے ہیں اور اُن کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو بھارتی افواج نے اغوا کر کے جیلوں میں ڈال رکھا ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں تیزی سے نت نئے اقدامات کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر کی ہیت تبدیل کی جارہی ہے اور باہر سے ہندوؤں کو لا کر آباد کیا جارہا ہے تاکہ مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کیا جائے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم دونوں اطراف کے کشمیریوں کو متحد ہو کر بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ہو گا کیونکہ اب بھارت کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب چکا ہے اور دنیا مسئلہ کشمیر کو سمجھ رہی ہے۔
اس لئے دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم ختم کرانے کیلئے اپنابھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل کشمیر امریکن اوئیرنس فورم و ممتاز کشمیری رہنماء ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دنیا کی امن پسند اقوام سے اپیل ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں اور معصوم کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کا موقع فراہم کریں۔ڈاکٹرغلام نبی فائی نے صدر آزاد جموں وکشمیر کو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے سلسلے میں اُن کی خدمات پر انہیں شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کشمیری عوام کے وہ واحد لیڈر ہیں جو پوری دنیا میں اہل کشمیرخ کی پہچان ہیں اور کشمیری عوام ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے دنیا کے ہر فورم اور ایوان میں مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں اور ہمیشہ مسئلہ کشمیر کوبین الاقوامی سطح پر زندہ رکھنے میں پیش پیش اور کوشاں رہتے ہیں۔