آزاد کشمیر خوابوں کی تعبیر یا حقیقت کا فسانہ (قسط 1)

127

تحریر :نعیم الحسن نعیم
78 سال تین نسلیں لاکھوں دعوے ہزاروں وعدے مگر زمینی حقیقت؟ بدلتا کچھ نہیں .آزاد کشمیر کے وجود کو قائم ہوئے کئی دہائیاں بیت گئیں۔ الیکشن ہوتے رہے کئی چہرے جماعتیں بدل بدل کر آتے رہے بڑے بڑے دعوے ہوتے ریے ہر حکومت ترقی کا راگ الاپتی ہے ہر تقریر میں سنہرے مستقبل کی نوید دی جاتی رہی لیکن جب ہم زمین پر نظریں ڈالیں تو صرف ٹوٹے خواب اجڑے رستے اور مایوس چہرے نظر آتے ہیں۔بنیادی سوال آج بھی زندہ ہے ہم نے کیا کھویا کیا پایا کہاں سے چلے کہاں تک پہنچے کہاں جانا ہے نہ صحت کی معیاری سہولت نہ تعلیم کا مضبوط نظام نہ روزگار کی پائیدار شکل نہ انفراسٹرکچر کی بہتری خستہ حال سڑکیں تباہ شدہ جنگلات ویران اسکول ناکارہ اسپتال اور بیروزگار نوجوان یہی ہے ہماری 78 سالہ کارکردگی کا حاصل۔ہم نے ضمیر بیچے منصوبے بیچے اور خواب بیچے۔ کرپشن نے جڑیں کھا لیں اقربا پروری نے میرٹ کا جنازہ نکالا اور سیاسی تماشوں نے عوامی امیدوں کو روند ڈالا۔

ہر آنے والی حکومت نے صرف فیتے کاٹے تصاویر کھنچوائیں اور پھر غائب ہو گئی۔ کیا آج بھی آزاد کشمیر کی عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو ایک محفوظ باوقار اور ترقی یافتہ خطے کا شہری سمجھیں؟ جواب تلخ ہے نہیں لیکن اس سے بھی زیادہ تلخ بات یہ ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنے رہے۔ نہ سوال کیا نہ احتساب مانگا آزاد کشمیر کی زمینیں خوبصورت لوگ خوبصورت مگر اس خوبصورتی کے پیچھے بے حسی کرپشن اقرباء پروری نااہلی کی تاریکی کہانی چھپی ہے. سڑکیں خستہ حال ہسپتال غیر فعال تعلیمی ادارے سہولیات سے محروم نوجوان بےروزگار جنگلات کاٹ دئیے گے.ہم نے سیاسی تقریروں دعووں اور جلسوں میں ترقی کے خواب ضرور سنے لیکن جب زمینی حقیقت کو پرکھا جائے تو یہ خطہ آج بھی پسماندگی محرومی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہے.

بنیادی ڈھانچہ خواب یا دھوکہ؟
آزاد کشمیر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جسے ترقی کہا جا رہا ہے وہ محض دعووں اور فائلوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ حقیقت کی زمین پر بنیادی ڈھانچہ آج بھی پچھلی صدی کی اذیت ناک تصویر پیش کر رہا ہے پاکستان سے آزاد کشمیر کو ملانے والی تین بڑی شاہراہیں محض بارش کے ایک قطرے سے بند ہو جاتی ہیں یہ سڑکیں نہیں اذیت کے کچے راستے ہیں بارش آئے تو ایمبولینس کا پہیہ رک جاتا ہے۔ حاملہ خواتین بیمار بزرگ معصوم بچے سب اپنی جانوں کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ دیہات ایسے ہیں جہاں سے مریض کو اُٹھا کر گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں نہ سڑک ہے نہ سہولت نہ ریاست جدید دنیا ڈیجیٹل ترقی کی دوڑ میں ہے اور یہاں انٹرنیٹ اب بھی سگنل ڈھونڈ رہا ہے۔ طلبہ آن لائن تعلیم کا خواب آنکھوں میں لیے پہاڑوں پر چڑھ کر نیٹ پکڑتے ہیں مگر حکمران ایوانوں میں بیٹھ کر دعوے کرتے ہیں کہ ہم بدل رہے ہیں۔یہ کیسی ترقی ہے جو صرف رپورٹوں میں دکھائی دیتی ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جو غریب کو بنیادی سہولت دینے سے قاصر ہے؟ اور یہ کیسی بےحسی ہے کہ دہائیوں سے لوگ چیخ رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں؟

صحت کا نظام یا تماشہ؟
آزاد کشمیر میں صحت کا شعبہ 78 سال گزرنے کے بعد بھی ایک ایسا زخم ہے جس پر ہرحکومت نے صرف کاغذی مرہم رکھا۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو کسی بھی ضلع یا تحصیل کے سرکاری اسپتال کا دورہ کرے اُسے انسان نہیں مایوسی کی تصویریں ملیں گی۔نہ ایمرجنسی کی سہولت نہ بنیادی لیب ٹیسٹ نہ ادویات نہ ایمبولینس بروقت۔ بیشتر دیہی مراکز صحت بند پڑے ہیں یا وہاں صرف چوکیدار موجود ہوتا ہے۔ عوام مجبور ہیں اپنی قیمتی زندگیاں لے کر راولپنڈی ایبٹ آباد اور لاہور کی طرف روانہ ہوں کیونکہ آزاد کشمیر کے اسپتال محض نام کے ہیں کام کے نہیں۔ڈاکٹر حضرات جن پر امید کا چراغ جلتا ہے وہی ہاتھ میں پرچی تھما کر کہتے ہیں یہاں کچھ نہیں باہر لے جائیں اور یوں مریض اپنی سانسوں کی لڑائی ایک ایسے نظام کے خلاف لڑتا ہے جو اس کا اپنا ہونا چاہیے تھا۔کیا یہ صحت کا نظام ہے؟ یا کسی تجربہ گاہ کا ناکام تجربہ؟کیا عوام صرف الیکشن والے دنوں میں یاد رکھنے کے لیے ہیں؟ کیا ان کی جان اتنی بے وقعت ہے کہ کسی مشین کسی ٹیسٹ کسی دوا کے لیے ترسے؟ 78 سالوں بعد بھی اگر ایک ماں اپنے بیمار بچے کو کندھے پر اٹھا کر اسپتال پہنچے اور وہاں اسے معذرت سننے کو ملے تو یہ صرف ناکامی نہیں یہ جرم ہے۔

ہمارا تعلیمی نظام
آزاد کشمیر میں تعلیم کا شعبہ بظاہر عمارتوں سے آراستہ ضرور ہے مگر اندر سے کھوکھلا بےروح اور زخم خوردہ ہے۔ اسکول کالج اور یونیورسٹیاں تو بن گئیں مگر ان میں علم تحقیق فکری آزادی اور تعلیمی معیار کو کبھی اہمیت نہ دی گئی۔ تعلیم جو ایک قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے یہاں صرف بجٹ کا خانہ پُری اور سیاسی نمائش کا ذریعہ بن چکی ہے۔اساتذہ جن کے کندھوں پر نسلوں کی تعمیر کا بوجھ ہوتا ہے آج سیاست دباؤ اور انتقامی تبادلوں کا شکار ہیں۔ جو استاد علم کی شمع جلانا چاہتے ہیں اُن کی آواز دبا دی جاتی ہے۔ جو ضمیر کے ساتھ جیتے ہیں اُنہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اور جو نظام سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں وہ عزت و عہدے کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔آج کے اس جدید دور میں بھی کئی دیہات ایسے ہیں جہاں اسکول سرے سے موجود ہی نہیں اور جہاں ہیں بھی وہاں بچے آج بھی زمین پر ٹاٹ بچھا کر یا لکڑی کے پرانے ٹوٹے ہوئے بینچوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

نہ مناسب عمارت نہ بنیادی سہولیات نہ بیت الخلا، نہ پینے کا صاف پانی یہ ہے ہمارے تعلیمی انقلاب کی اصل تصویر۔یونیورسٹیوں میں جدید تعلیم ناپید لائبریریوں میں علم کی بجائے خاموشی لیبارٹریوں میں تجربات نہیں بلکہ خالی شیلف ہیں۔ طالبعلم صرف امتحان پاس کرنے آتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ملازمت کے دروازے میرٹ پر نہیں تعلق پر کھلتے ہیں۔یہ وہ سچ ہے جسے سننے سے ہر حکمران گھبراتا ہے.ہم نے نسلوں کو علم نہیں دیا صرف عمارتیں دیں۔ہم نے طالبعلم کو امید نہیں صرف ڈگری دی۔تعلیم یہاں ایک خواب ہے، جس کی تعبیر سفارش سیاست اور سمجھوتے سے مشروط ہے۔

نظام تعلیم یا اثر و رسوخ کا کھیل؟
آزاد کشمیر کے دور دراز علاقوں میں جہاں تعلیم پہلے ہی سہولیات سے محروم ہے وہاں ایک اور زخم مسلسل خون دے رہا ہے اساتذہ کی غیر حاضری اور اثر و رسوخ کے بل بوتے پر ڈیوٹی سے بچنے کا رجحان ایسے کئی علاقے موجود ہیں جہاں تعلیمی ادارے صرف کاغذوں میں چل رہے ہیں۔ اصل میں وہ یا تو بند ہیں یا اساتذہ اپنی جگہ کسی مقامی فرد کو معمولی رقم دے کر فرضی حاضری کا نظام چلا رہے ہیں۔ ان بچوں کا کیا قصور ہے جو روز صبح ننگے پاؤں لمبی مسافت طے کر کے اسکول آتے ہیں لیکن وہاں صرف دروازے پر تالا ان کا استقبال کرتا ہے؟ یا ایک ایسا شخص جو نہ تربیت یافتہ ہے نہ ذمہ دار ان کا استاد بن کر ان کی قسمت کا فیصلہ کر رہا ہوتا ہے؟ یہ صرف تعلیمی زوال نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔ اور یہ سب کچھ سفارش سیاسی اثر اور محکمانہ چشم پوشی کے سبب ممکن ہو رہا ہے۔جب استاد اپنی جگہ عارضی بندے بھیج کر تنخواہ وصول کرے. جب بچوں کو استاد کے بجائے ایک ان پڑھ چوکیدار پڑھائے جب تعلیمی افسران آنکھیں بند کر کے خاموش رہیں تو یہ تعلیم کا نہیں دھوکے کا نظام بن جاتا ہے۔یہ وہ سچ ہے جسے تسلیم کرنا اور اس کا حل نکالنا اب ناگزیر ہو چکا ہے ورنہ ہم صرف عمارتیں بناتے رہیں گے اور قومیں جاہل رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں