تحریر: نعیم الحسن نعیم
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے ، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
کبھی کبھار شخصیات فقط نام نہیں ہوتیں، وہ ایک کارواں کی قیادت، ایک فکر کی روشنی اور قوم کے ضمیر کی آواز ہوتی ہیں۔ چوہدری حمید صاحب انہی چند نایاب لوگوں میں سے ایک تھے۔ وہ صرف ایک حریت رہنما اور تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد نہ تھے، وہ ایک مشن، ایک نظریہ، اور ایک خواب کی صورت ہمارے درمیان موجود تھے آج جب میں یہ کالم قلمبند کر رہا ہوں ، دل بوجھل ہے، الفاظ دھندلا رہے ہیں، اور ذہن میں بس ایک ہی صدا گونج رہی ہے سو مرے، پر سو کا سردار نہ مرے لیکن آج وہ سردار، وہ رہبر، وہ نظریہ ساز، خاموش ہو گیا ہے۔کشمیر کی آزادی کا خواب آنکھوں میں سجائے، حق اور حریت کی راہ میں ہمیشہ پیش پیش رہنے والے چوہدری حمید صاحب نے عارضی دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ وہ شخصیت تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری قوم کی آزادی اور حقوق کی جدوجہد میں وقف کر دی۔ ان کی محبت اپنی زمین، اپنے لوگوں اور اپنے نظریے سے بے انتہا تھی۔چوہدری حمید صاحب کی جدوجہد نہ صرف ایک سیاسی تحریک تھی بلکہ ایک جذبہ تھا، ایک مشعل راہ تھا جس نے بے شمار دلوں کو حوصلہ دیا اور اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر رہنمائی کی۔ ان کا دکھ اور درد، کشمیری عوام کی تڑپ اور محرومی کا آئینہ تھا۔ وہ کبھی اپنے مفادات کے پیچھے نہیں بھاگے، بلکہ ہمیشہ قوم کی فلاح اور حق کی بات کی۔ آج جب وہ ہم سے جدا ہو گئے ہیں، تو نہ صرف ایک عظیم رہنما کا نقصان ہوا ہے بلکہ ایک روحانی چراغ بھی گل ہو گیا ہے۔ ان کی جدوجہد، قربانی اور حریت کا جذبہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
دکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
حمید صاحب نے ہمیشہ اپنے لہجے میں غیرت، کردار میں صداقت، اور دل میں مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری بھائیوں کا درد رکھا۔ ان کی گفتگو میں سادگی، مگر جرأت ہوتی تھی۔ وہ اپنے ہر جملے میں کشمیر کے زخموں کی بات کرتے تھے۔ وہ اُن چند لوگوں میں سے تھے جنہوں نے کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کو محض زبان تک محدود نہ رکھا، بلکہ دل کی گہرائی سے اس پر یقین بھی رکھا اور عمل بھی کیا۔وہ جس جلسے میں کھڑے ہوتے، لہجہ بلند ہوتا، مگر عزت کے دائرے میں۔وہ جس مجلس میں بیٹھتے، وہاں علم، آگہی اور اخلاص بانٹتے۔
کچھ لوگ وطن چھوڑتے ہیں اور کچھ وطن اپنے دل میں لے کر ہجرت کرتے ہیں۔ چوہدری حمید صاحب انہی مخلص اور باوقار لوگوں میں سے ایک تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی محبت میں اپنی جڑیں، زمین، آسائشیں، اپنے خواب سب کچھ قربان کر دیا۔ انہوں نے ہجرت کو مجبوری نہیں، ایک مقدس فریضہ سمجھ کر قبول کیا اور کبھی اپنی ذات کے لیے شکوہ تک نہ کیا۔تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے یہ گمنام سپاہی، ہمیشہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ ملتے، جھک کر سلام کرتے، ہر شخص کا احترام کرتے چاہے وہ چھوٹا ہے یا بڑا اور چھوٹوں پر شفقت ان کی فطرت کا حصہ تھا۔ ان کے انداز میں نرمی، انکساری اور عظمت کا عکس جھلکتا تھا۔
وہ بولتے کم تھے، مگر جب بولتے تو صرف حق اور سچ کی بات کرتے۔چوہدری حمید صاحب صرف ایک فرد کا نام نہیں تھا، وہ ایک کردار تھے اصولوں کا، عدل کا، سچائی کا۔ان کی شخصیت میں وہ وقار تھا جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو اپنی ذات سے بلند ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ دلوں کو جوڑا، نفرتوں کو مٹایا، اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیا۔ان کے فیصلوں میں انصاف بولتا تھا، ان کی باتوں میں سچائی جھلکتی تھی، اور ان کے رویے میں ایسی شفقت تھی جو نسلوں کو متاثر کرتی ہے۔وہ صرف ایک رہنما نہیں، ایک بےباک اور دیانتدار انسان تھے جو حق کہنے سے کبھی نہ گھبرائے، چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔چوہدری حمید صاحب کی کمی صرف ایک شخص کی کمی نہیں، یہ ایک سوچ، ایک تربیت، اور ایک کردار کی کمی ہے۔ایسے لوگ روز روز پیدا نہیں ہوتے، وہ تاریخ میں نشان چھوڑ جاتے ہیں زندہ، روشن، اور ناقابلِ فراموش۔
چوہدری حمید صاحب صرف ایک فرد نہیں تھے، وہ ایک سوچ، ایک جذبہ، ایک کردار کا نام تھے۔ انہوں نے ساری زندگی لوگوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کی، نفرتوں کے بیچ محبت کا چراغ جلایا، اختلافات میں اتفاق کی راہ تلاش کی، اور رنجشوں میں بھی صلح کا پیغام دیا۔ آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، تو اُن کی یاد صرف اُن کی باتوں یا ملاقاتوں میں نہیں، بلکہ اُن کے عمل، اُن کی سوچ اور اُن کی نیتوں میں زندہ ہے۔وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ہمارے لوگ ایک ہو جائیں ، متحد رہیں ، اپنے حق کے لیے ایک آواز بنے رہیں اور یہی ا…