انسانی حقوق کا عالمی دن : مقبوضہ جموں و کشمیر انصاف کا منتظر، خاموشی کا نہیں

54

تحریر: محمد شہباز
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (Universal Declaration of Human Rights ) اقوام متحدہ کی ایک تاریخی دستاویز ہے، جسے 10 دسمبر 1948 کو منظور کیا گیا، جس میں پہلی بار تمام انسانوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی نشاندہی کی گئی، یہ اعلامیہ دوسری جنگ عظیم کے بعد امن کے قیام کیلئے معرض وجود میں لایا گیا اور اس میں 30 شقیں ہیں جو نسل، رنگ، جنس یا عقیدے سے بالاتر تمام انسانوں کیلئے زندگی، آزادی، تعلیم، صحت اور وقار جیسے حقوق کو یقینی بناتی ہیں، یہ دنیا میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والی دستاویز ہے اور اسے انسانی حقوق کے عالمی بل کا اہم حصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے، کشمیری عوام کی حالت زار میں کمی کے بجائے خوفناک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی حالت زار انسانیت کیلئے ایک سنگین یاد دہانی ہے کہ کس طرح بھارت طاقت کی بنیاد پر ایک مظلوم قوم کے بنیادی حقوق کو مٹا نے پر تلا ہوا ہے، جس پر دنیا خاموش تماشائی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں محض انسانی حقوق پامال نہیں کیے جاتے، بلکہ انہیں فوجی بوٹوں تلے کچلا جاتا ہے، اہل کشمیر کی عزت ناموس کو بطور ہتھیار استعمال کیاجاتا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ ہے۔یہاں دس لاکھ بھارتی فوجی شہروں، قصبوں،دیہات اور پہاڑی علاقوں میں دندناتے پھر رہے ہیں، جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور بنکرقائم ،گھروں پر چھاپے،مکینوں پر تشدد اور قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ معمول بن چکی ہے۔

کشمیری عوام کیلئے روز مرہ معمولات جیسے بازار جانا، رشتہ دار وں سے ملنا ،بچوں کا اسکول جانا، سب کچھ سخت بھارتی فوجی نگرانی میں انجام پاتا ہے۔ جو کہ غلامی کا بھرپور احساس دلاتے ہیں ۔بھارت صرف انسانی حقوق جسمانی طور پر ہی نہیں دباتا، بلکہ وہ اپنے ناجائز تسلط کو دوام بخشنے کیلئے ظالمانہ قوانین، ٹیکنالوجی اور معلومات کا بھی بھرپور استعمال کرتا ہے۔ 5 اگست 2019 کا ماورائے آئین اقدام اس کی جیتی جاگتی تصویر ہے، جب مودی اور اس کے قبیل نے اپنے سفاکانہ احکامات کے تحت آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا، جس سے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت بیک جنبش ختم کی گئی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو یونین ٹیرٹیرز میں تقسیم کر دیا گیا،اور یوں ایک صدیوں پرانی ریاست کا وجود کرچی کرچی کیا گیا، اپنے اس سفاکانہ فیصلے کے نفاذ کیلئے بھارت نے اہل کشمیر پر فوجی محاصرہ مسلط کرکے انٹرنیٹ، فون اور لینڈ لائنز سمیت اہم مواصلاتی نظام کو مکمل طور پر بند رکھا۔یوں پورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک برس تک باہر کی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا گیا۔تعلیمی ادارے بند اور ہسپتالوں کی خصوصی سروس بھی معطل رہی۔05اگست 2019میں ہزاروں کشمیری گرفتار کرکے انہیں بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں قید کیا گیا،پوری آزادی پسند قیادت کو پانچ اگست سے پہلے ہی گرفتار اور بھارتی جیلوں کی زینت بنایا گیا۔

انہیں اپنے گھروں سے سینکڑوں میل دور سلاخوں کے پیچھے رکھنے کا ایک مذموم مقصد یہ بھی ہے تاکہ لواحقین کو ان سے ملنے سے باز رکھا جائے،عملا ایسا ہی ہوا۔بھارت کی دور دراز ریاستوں میں کشمیری نظربندوں پر جرائم پیشہ افراد کی جانب سے ہروقت حملوں کا خطرہ رہتا ہے۔بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں مقید آزادی پسند قیادت جن میں بیسیوں خواتین بھی شامل ہیں،شدید عوارض میں مبتلا ہیں،لیکن انہیں تمام بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔اگر یہ کہا جائے کہ کشمیری نظربندوں کی زندگیوں کیساتھ کھیلا جاتا ہے تو بے جا نہ ہوگا۔یہ جنیوا کنونشن ،جس پر بھارت دستخطی اور معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدر در آمد کا پابند ہے، سے متعلق نظر بندوں کے حقوق کی صریحا خلاف ورزی کررہا ہے اور پھر شرم و حیا ء کی عار بھی محسوس نہیں کرتا۔ رواں برس 22اپریل کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد نہ صرف ڈیڑھ درجن کشمیریوں کے گھروں کو بارودی دھماکوں میں تباہ کیا گیا بلکہ 2800سے 3200 سوکے قریب کشمیری جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں،گرفتار کیے گئے،ان میں ابھی بھی سینکڑوں نوجوان بدستور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

اب مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر اہل کشمیر کی نگرانی، چہروں کی شناخت، بائیومیٹرک ڈیٹا اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے مخالف آوازوں کو ٹریک کیا جاتا ہے۔کشمیری اسکالرز،آزادی پسند کارکنوں اور صحافیوں کو آن لائن پوسٹس شیئر کرنے پر پولیس تھانوں میں طلب کیا جاتا ہے۔گھروں کی تلاشیاں لی جاتی ہیں تاکہ آزادی اظہار رائے کو دبایا جا سکے۔ اگرچہ میڈیا کاگلا پہلے ہی گھونٹا گیا ہے۔ کشمیری صحافیوں کو بدترین دباو کا سامنا ہے، جبکہ سخت قوانین جیسے UAPA کے تحت اپنے بنیادی فرائض کی انجام دہی کیلئے انہیں گرفتار بھی کیا جاتا ہے، جو آزادی صحافت کیلئے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ہزاروں لوگ آج بھی بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں اپنے گمشدہ عزیزوں کی حالت زار کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔ مگر بھارتی افواج کو بدنام زمانہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نامی قانون AFSPAسے لیس کرکے مکمل استثنی کی چھتری حاصل ہے، جس سے جوابدہی کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔اس ظالمانہ قانون کی موجودگی میں نہ کسی بھارتی فوجی کو اپنے جرائم پر عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی سز ا کا کوئی تصور ہے۔

حالانکہ بھارتی دہشت گردی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہر گھر کو متاثر کیا۔کشمیری خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ گوکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری خواتین 1947 سے ہی بھارت کے فوجی تسلط اور سیاسی ناانصافی کے تحت بے پناہ مصائب،مسائل ،تشدد، ریاستی دہشت گردی، خوف اور تکلیف برداشت کر رہی ہیں۔لیکن گزشتہ 37 برسوں کے دوران بھارتی فوجیوں کی بے لگام ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 2,356 خواتین شہید جبکہ 11,269 خواتین کی عزت و آبرو پر حملے کیے گئے۔ 1989 سے لیکر اب تک 22,991 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔دس ہزار کشمیری گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے گئے۔جن کے شوہروں کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا،وہ بھی ہزاروں میں ہیں اور وہ آدھ بیوہ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔یوں ایک لاکھ سے زائد بچوں کویتیمی سے دوچار ہونا پڑا۔جن کی یادوں میں بس بھارتی درندگی رچی بسی ہے۔ان پر برگو بار آنے سے پہلے ہی خزان چھا گیا۔یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ متاثر بچے ہوئے ہیں۔ ہزاروں بچے پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی اور معذور ہو چکے ہیں، جو 2016 میں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے تھے۔ کریک ڈاون اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسلسل بند رہتے ہیں، جس سے ایک نسل کو تعلیم اور تحفظ کی سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

ایک اور تشویش ناک رجحان علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کیلئے کی جانے والی مذموم اور شیطانی کوششیں ہیں۔کبھی حلقہ بندیوں کے نام پر آبادیاتی تناسب کو بگاڑا جاتا ہے تو کبھی مستقبل میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کسی بھی ممکنہ رائے شماری یااستصواب رائے پر اثر انداز ہونے کیلئے غیر ریاستی بھارتی ہندوئوں کو لاکھوں دومیسائل فراہم کیے جاچکے ہیں۔کنن پوشپورہ کپواڑہ کے واقع کو کون ذی حس بھول سکتا ہے جہاں 23 اور24 فروری 1991کی درمیانی رات بھارتی وردی پوشوں نے 100 کے قریب خواتین کی عزت و ناموس تار تار کی ،جن میں 06سالہ بچیوں سے لیکر 85سالہ خواتین بھی شامل تھیں۔جن میں سے بہت ساری خواتین اس دنیا سے جاچکی ہیں،جو زندہ ہیں ،ان کی آنکھیں آج بھی بھر آتی ہیں۔شوپیاں کی آسیہ اور نیلوفرکو کون بھول سکتا ہے۔جنہیں اپنے باغ سے دن کی روشنی میں بھارتی سفاک اغوا کرکے لے گئے۔پہلے ان کی اجتماعی آبروریزی کی گئی،بعدازاں اپنے جرم پر پردہ ڈالنے اور نشانات مٹانے کیلئے ان معصوم بچیوں کا قتل کیا گیا۔ بھارت کے کس کس جرم کا ذکر کیا جائے،جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر نہ کیا گیا ہو اور جن سے انسانیت شرمسار نہ ہوئی ہو۔ بھارتی افواج اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے جائز مطالبے کو دبانے کیلئے خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے اور بے آبرو کرنے کو بطورجنگی ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

05اگست 2019 کے بعد مقبوضہ خطے میں نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں جو غیر مقامی افراد کو یہاں زمین خریدنے اور اہم ملازمتوں میں ان کا باضابطہ حصہ رکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔مسلمان کشمیری ملازمین کو آئے روز ان کی نوکریوں سے برطرف کیا جاتا ہے۔سینکڑوں کشمیریوں کی جائیداد و املاک کو ضبط کیا گیا،جن میں رہائشی مکانات،زرعی اراضی اور باغات شامل ہیں۔ ان حالات میں کشمیری عوام کو یہ درست خدشہ لاحق ہے کہ یہ ایک طویل مدتی منصوبہ بندی ہے جس کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی نوعیت کو بدلنا ہے اور اس سے اس کی ثقافتی اور سیاسی حیثیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا ہے۔ آبادیاتی تبدیلی ایک اتفاقیہ نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کشمیری عوام نہ صرف شہری آزادیوں سے محروم ہیں بلکہ اپنے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کے فیصلے سے بھی محروم کیے جارہے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ادارہ جاتی سطح پر انجام دی جاتی ہیں۔بلاشبہ دنیا انسانی حقوق کا عالمی دن منارہی ہے،مگر مقبوضہ جموں و کشمیر پر خوف کے سائے مسلط ہیں،یہاں ہر سو خاموشی ہے۔

یہاں ہتھیاروں کا بے پناہ استعمال، عائلی قوانین کیساتھ چھیڑ چھاڑ، ڈیجیٹل جبر ، گرفتاریاں اور آبادیاتی تبدیلی ایک ایسی حکومتی طاقت کے ذریعے روبہ عمل لائی جارہی ہیں، جس کی کوئی قانونی،سیاسی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ان حالات میں خاموشی انصاف نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔ آزادی کے وعدے بڑے بڑے ہالوں میں گونجتے تو ہیں مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں سناٹا ہے۔ اہل کشمیرایک ایسے قبضے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں جہاں اپنی مرضی سے سانس لینا بھی بغاوت کے مترادف ہے، دس دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر سوال یہ نہیں ہے کہ آیا اہل کشمیر کو وہ حقوق ملیں گے جو ہمیشہ سے ان کے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا دنیا ان کیساتھ کھڑی ہوگی، ان کی آواز بنے گی اور وہ خاموشی توڑ دے گی جو نسلوں سے جاری ہے؟مقبوضہ جموں و کشمیر انصاف کا منتظر ہے، خاموشی کا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں