آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں 5جنوری حق خودارادیت کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد

151

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں 5جنوری حق خودارادیت کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد.سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے صدرمسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا کہ حق خودارادیت جموں وکشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہےکشمیریوں کا حق خود ارادیت تقسیم ہند کے اصولوں سے مشروط ہےعالمی قراردادوں سے رو گردانی اور مادر پدر آزادی کی خواہش کسی نئے حادثے کا سبب بن سکتی ہے آزادی ہند کے اصولوں سے انحراف سارے خطے کو ازسر نو تقسیم کے عمل سے دوچار کر سکتا ہے جموں وکشمیر کے عوام کی 6لاکھ شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاسکتی .

مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے اقوام متحدہ کی آخری قرارداد کوہی بنیاد بنایا جاسکتا ہےکشمیر پر عالمی قراردادیں ایک بہترین روڈ میپ فراہم کرتی ہیںجموں وکشمیر ایک ناقابل تقسیم وحدت ہےخدانخواستہ اگر کشمیر میں تقسیم کی بنیاد رکھی گئی تو پھر اس خطے کی کئی اور ریاستوں کو بھی تقسیم کے عمل سے گزرنا پڑے گا مسئلہ کشمیر کے پرامن سیاسی اور مذاکراتی حل کے بغیر پاکستان اور ہندوستان لے تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آسکتی اور پاک ہند تعلقات میں بہتری کے بغیر جنوبی ایشیا کا مستقبل ہمیشہ خطرات کی زد میں رہے گا . آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام 5 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ مرزا شفیق جرال نے کہا کہ 5 جنوری کشمیری عوام کی جدوجہد، قربانیوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی یاد دہانی کا دن ہے.

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے اپنے بنیادی اور تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جسے عالمی برادری کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہےمرزا شفیق جرال نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد ہیں، مگر بھارت ان قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کر رہا ہے انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حق دلانے میں اپنا کردار ادا کریںانہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اور قیادت نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے اور یہ حمایت اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کشمیری عوام کو ان کا پیدائشی حق نہیں مل جاتا بنیان مرصوص نے خطے میں دفاعی طاقت کا توازن پاکستان کے حق میں کردیا ہے.

وقت کے ساتھ ساتھ اس توازن میں مزید بہتری اور پائیداری پیدا ہوتی جائے گی ہندوستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت جب بھی ہو تو 5 اگست 2019 سے پہلے والی پوزیشن بحال کرنی ہوگی 40 لاکھ ہندوستانیوں کی کشمیر میں آبادکاری کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی آزادی ہند کے اصول،قرارداد الحاق پاکستان، تحریک آزادی کشمیر، کشمیر بنے گا پاکستان اور عالمی قراردادوں تک کا سارا سفر ایک ہی منزل تکمیل پاکستان کی نشاندہی کرتا ہےتقریب کی صدارت سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا محمد شفیق جرال ایڈووکیٹ نے کی جبکہ مہمان خصوصی صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان تھے۔ سٹیج کے فرائض معروف قانون دان سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ نے سرانجام دیےتقریب سے مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل میڈم مہرالنساء، سابق صدر مسلم کانفرنس مرزا شفیق جرال ایڈووکیٹ، حریت رہنما شیخ عبدالمتین، میجر سردار نصراللہ خان، میڈم شمیم علی ملک، ساجد قریشی ایڈووکیٹ، عاصم زاہد عباسی، راجہ ذکی جبار اور دیگر نے خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں