بابری مسجد سے رام مندر تک: مودی کا راستہ اور بھارت کی بدبودار سیاسی تاری

95

تحریر: محمد شہباز
فسطائی مودی نے ایودھیا میں شہید کی جانے والی05 سو سالہ پرانی بابری مسجد پر بننے والے متنازعہ رام مندر کا گزشتہ برس 22جنوری کو یہ کہہ افتتاح کیا تھا کہ بھگوان نے اس سے تمام لوگوں کی نمائندگی کا ذریعہ بنایا ہے۔حالانکہ یہ سیاسی حربے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔اب رواں برس رام مندر کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ مودی اور اس کی BJP نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا ۔ذرا سا عقل و فہم رکھے والا انسان بھی اس بات سے بخوبی آگاہ تھا کہ رام مندر کا افتتاح مودی کی BJP نے گزشتہ برس بھارتی پارلیمانی انتخابات میں سیاسی فائدے کیلئے بطور مذہب کارڈ استعمال کیا تھا۔مگر الٹی پڑگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا کے مصداق بی جے پی ایودھیا میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی۔ بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کئی دہائیوں سے BJP کی انتخابی مہم کا حصہ رہی ہے۔ایودھیا میں 16ویں صدی کی بابری مسجد کو ہندو انتہا پسند وں نے 6 دسمبر 1992 میں شہید کیا تھا۔مودی متنازعہ رام مندر کی افتتاحی تقریب میں صرف انتخابات سے قبل ہندوتوا حامیوں کو جوش دلانے کیلئے شریک ہوئے تھے۔جس پر معروف امریکی ٹائم میگزین کا کہنا تھا کہ رام مندر کا افتتاح بھارتی مسلمانوں پر ہندوتوا بالادستی کا سب سے بڑا سیاسی ثبوت ہے۔ ٹائم میگزین کا مزید کہنا تھا کہ رام مندر کا افتتاح بھارتی مسلمانوں کیلئے تاریک دور کی نشاندہی کرتا ہے۔مودی حکومت بھارت سے مسلم یا اسلامی تہذیب کے تمام آثارمٹانے پر تلی ہوئی ہے۔

بھارتی پروفیسر مردولا مکھرجی کا کہنا ہے کہ مودی کی جانب سے رام مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت سیاسی فائدے کیلئے مذہب کارڈ کا استعمال تھا جو فرقہ پرستی اور فسطائیت کا عکاس ہے۔وہیںمعروف بھارتی سیاسی مبصر انشیہ واہان وتی کا کہنا ہے کہ بھارتی سیکولرازم زعفرانی سیاست کے پہاڑ کے نیچے دب گیاہے کیونکہ ہندو قوم پرست ایودھیا میں رام مندر کا جشن مناتے ہیں۔کئی ہندو مذہبی سنتوں نے بھی رام مندر کی افتتاحی تقریب میں جانے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ مودی مذہبی رہنما نہیں ہیں لہذا وہ مندر کی افتتاحی تقریب کی قیادت کرنے کے اہل نہیں تھے۔دنیا میں ایسا واقعہ پہلی بار رونما ہوا ہے کہ کسی زیر تعمیر عمارت کا اسکی تکمیل سے قبل ہی افتتاح کیا گیا ہو ۔یہ کارنامہ مودی اور اس قبیل کے لوگ ہی انجام دے سکتے ہیںجو بھارت کو تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے پاک کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کی نسلی تطہیر کیلئے بھارت کے تمام اداروں خاص کر بھارتی سپریم کورٹ اور نچلی عدالتوں کو دھڑلے سے استعمال کیا جارہا ہے اور پھر بھارت کے ان انصاف کے اداروں پر اپنے کیے پر ندامت اور شرمندگی بھی نہیں محسوس ہوتی۔جس پر مشہور برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے مودی حکومت کی نام نہاد ترقیاتی پالیسیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بھارت کے سیکولر ہونے کا دعوی بے نقاب کیا ہے۔

دی اکانومسٹ کے مطابق مودی کی جانب سے گزشتہ برس 22جنوری کو 220 ملین ڈالر کے متنازع ہندو مندر کے افتتاح نے مودی کے سیکولر ہونے کا دعوی جھوٹا ثابت کیا۔جریدے نے مزید اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت میں مودی کی اسلام مخالف سرگرمیوں پر اسلاموفوبیا کا خدشہ ہے۔کیونکہ لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے رام مندر کی تعمیر سیکولر ذہنیت کے حامل بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دی اکانومسٹ کا مزید کہنا ہے کہ مودی حکومت جھوٹ کا لبادہ اوڑھے جواہر لال نہرو جیسے لیڈر بننے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ مودی کی جارہانہ پالیسیاں بھارت کی معیشت کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔واضح رہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس انتخابات میں کامیابی کیلئے 1990سے بابری مسجد کو شہید کرنے کی تیاری شروع کی تھی۔ انتخابات میں کامیابی کیلئے مودی نے بڑے پیمانے پر 2002میں گجرات مسلم کش فسادات کروائے اور محض چند دنوں میں 2000 سے زائد مسلمانوں کا تہیہ تیغ کیا۔بھارتی نظام عدل کا یہ حال ہے کہ تمام شواہد کے باوجود گجرات مسلم کش فسادات میں ملوث تمام مجرمان کو با عزت بری کر دیا، بی جے پی کے زیر انتظام کئی ریاستوں نے تبدیلی مذہب کے خلاف قانون منظور کیا ہے۔

دی اکانومسٹ کے علاوہ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں بھارت میں رام مندرکی افتتاح کو ایودھیا کے مسلمانوں کی تلخ یادیں تازہ ہونے کا نام دیا ہے۔الجزیرہ کا کہنا تھا کہ بھارتی شہرایودھیا میں رام مندر کا افتتاح بڑے فاتحانہ انداز میں کیا گیا جس سے مسلمان رہائشیوں کی تلخ یادیں تازہ ہو گئی ہیں ۔الجزیرہ رپورٹ کے مطابق رام مندر بابری مسجد کی تعمیر کردہ جگہ پر بنایا گیا ہے، بابری مسجد کو ہندو انتہا پسند ہندوں نے 1992 میں شہید کیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے حوالے سے ایودھیا کے رہائشی شاہد نے اپنی دکھی داستان سناتے ہوئے الجزیرہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس روز بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ ہوا، ان کے والد کو انتہا پسند ہندوئوں نے مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔اس دل سوز واقعہ کے دوران صرف ان کے والد ہی نہیں بلکہ ان کے چچااور دیگر رشتے دار بھی شہید ہو گئے، شاہد کا مزیدکہنا تھا کہ رام مندر کی تعمیر ہندوئوں کیلئے خوشی کا سامان ضرور ہوگا مگر ہمارا سینہ آج بھی چھلنی ہے، ہم سے ہماری مسجد اور ہمارے رشتے چھین لئے گئے۔شاہد کاکہنا تھا کہ بابر ی مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر سے مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں، سماجی کارکن اعظم قادری نے الجزیرہ کو بتایا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے “ہندوسنتوش دوہے” آج بھی مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں، انتہا پسندہندوئوں اور مودی حکومت کے کارندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی مساجد ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے چرچ اور سکھوں کے گوردوارے بھی غیر محفوظ ہیں، ایسے میں بھارت سیکولر ریاست کا جو نعرہ لگاتا ہے اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

تاریخی بابری مسجد کے مقام پر تعمیر ہونے والا مندر بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسا سیاہ دھبہ ہے،جس سے کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا۔ بھارت کو ہندو راشٹر بنانا بی جے پی کا پرانا خواب ہے،جس کی تعبیر کیلئے بی جے پی ہزاروں مساجد کو گرا کر ان کی جگہ مندر بنانا چاہتی ہے۔1992 میں بی جے پی اورآر ایس ایس کی قیادت میں دائیں بازو کے ہندو جونیوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔نومبر 2019 میں ایودھیا سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مسلم دشمن بدبودار فیصلے نے ثابت کیا کہ ہندوتوا نظریہ بھارت میں انصاف کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔مودی کے بھارت میں مسلمان اور ان کی عبادت گاہیں تیزی سے حملوں کی زد میں ہیں۔مودی اور اس کے حواری بابری مسجد تک ہی خود کو محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ بھارت میں مزید درجنوں مساجد ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں ،ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے بھارتی شہر کاشی میں گیانواپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سمیت دیگر مساجد کی مسلسل بے حرمتی کی جا رہی ہے،لہذا ان مساجد کو بھی مستقبل میں خطرے کا سامنا ہے۔اب تو بات بہت آگے نکل چکی ہے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میںمغل طرز تعمیر کی شہکار شاہی جامع مسجد جو پانچ صدیاں قبل ظہیر الدین بابر کے دور اقتدار میں تعمیر کی جاچکی ہے،مقامی عدالت کے احکامات پر 24نومبر 2024کی صبح ساڑھے سات بجے سروے کے دوران مسلمانوں کے مظاہرے پر یوگی آدتیہ ناتھ کی سفاک پولیس نے براہ راست فائرنگ کرکے 06 مسلم نوجوان شہید اور بیسیوں زخمی کیے۔

دو خواتین سمیت 27مسلمان گرفتار اور 2700 کے خلاف FIR درج کی گئی،جن میں سماج وادی پارٹی کیساتھ تعلق رکھنے والے بھارتی ممبر پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق بھی شامل ہیں،جو اس دن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے بنگلورو میں موجود تھے۔بھارتی ریاست راجستھان میں واقع صدیوں پرانی مشہور و معروف درگاہ اجمیر شریف کے نیچے سے بھی مندر تلاش کرنے کا کام شد و مد سے جاری ہے اور اب بات دہلی کی تاریخی جامع مسجد تک جاپہنچی ہے ،جس سے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1650میں تعمیر کروایاتھا۔ نہ جانے یہ سلسلہ کہاں رکھے گا،رکھے گا بھی کہ نہیں۔آثار و قرآئن یہی بتارہے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کیلئے مرو یا مر جائو کی صورتحال ان کے دروازوں پر دستک دے چکی ہے۔اب مصلحت کوشی اپنی موت آپ مرچکی ہے۔انسانی حقوق کی معروف عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ پروفیسر گیگوری اسٹینٹن نے مودی اور بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی ان کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے،جس پر عالمی برادری نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

بلاشبہ بابری مسجد کی جگہ پر متنازعہ رام مندر کی تعمیر بھارتی جمہوریت کے چہرے پر بدنما دھبہ ہے۔صدیوں پرانی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے شہید کیا تھا،جن کی سربراہی ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی،اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کررہے تھے۔ اعلی بھارتی عدلیہ نے اس گھناونے فعل کے ذمہ دار مجرموں کو نہ صرف بری کیا ، بلکہ بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کی بھی اجازت دیکر خود کو رسوا کیا ہے۔ یقینابھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی سوچ مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، عالمی برادری کو بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کا نوٹس لینا چاہئے ۔مودی نے رام مندر کا افتتاح تو ضرور کیا لیکن یہ افتتاح بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔کیونکہ بھارت جس تیزی کیساتھ ہندو انتہا پسندی کے گڑھے میں گرتا چلاجارہا ہے ،وہ گڑھا ہی بھارت کی تباہی و بربادی کا باعث ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں