جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے بھارتی عدالت کی طرف سے اپنے پارٹی سربراہ شبیر احمد شاہ کی ضمانت کی سماعت ملتوی کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے، اور اسے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دیا ہے جو ان کی حراست کو طول دینے کیلئے استعمال کی جارہی ہے۔ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی عدالتوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ہمیشہ ضمانت کو التوا میں ڈالنے جیسے طریقہ کار میں تاخیر کے ذریعے کشمیری نظر بندوں کے مقدمات کا فیصلہ ملتوی کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ جان بوجھ کر اختیار کیا جانے والا طریقہ کار نظربندوں کی حراست کو طول دینے کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر ان مقدمات میں جو مقدمہ چلانے سے پہلے یا احتیاطی حراست سے متعلق ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ کی طویل عرصے سے التوا میں رہنے والی درخواست پر فیصلہ سنانے کی بجائے، عدالت نے بدنام زمانہ ایجنسی (NIA) کو مزید وقت دیا، حالانکہ NIA شبیر احمد شاہ کے خلاف عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکی۔انہوں نے کہا کہ یہ سماعت پہلے ماہ کے دوسرے ہفتے کیلئے مقرر تھی.
مگر اب اسے 25 فروری تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔پارٹی کے ترجمان نے بھارتی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے فیصلے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہونے کے بجائے سیاسی طور پر متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ شبیراحمد شاہ پر 1968 سے بے بنیاد الزامات عائد ہیں اور دہلی کی تہاڑ جیل میں آٹھ برس گزارنے کے باوجود کسی بھی عدالت ان کے خلاف الزامات کو ثابت نہیں کرسکی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شبیراحمد شاہ اور دیگر حریت رہنما صرف مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی حمایت کرنے اور کشمیری عوام کے حقوق کی آواز اٹھانے کی پاداش میں سزا بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر توجہ دیں اور شبیر احمد شاہ اور دیگرکشمیری نظر بندوں کی فوری رہائی میں اپنا کردار ادا کریں، جو شدید بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔