جان اتنی سستی؟

134

تحریر:ثمینہ عامر
اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے کہ بچوں کی جان اتنی سستی ہو گئی کہ ایک گٹر کے ڈھکنے کے عوض وہ جان چلی گئی ہماری گورنمنٹ تو یہ بات جانتی ہے ہمیشہ سے ڈھکنے چوری ہوتے ائے ہیں اور بڑے بڑے جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکے ہیں پھر کیوں نہیں ایسا اقدامات کیے جاتے کہ جانی اور مالی نقصانات سے بچ سکیں.

کیا آج تک کوئی ایسا مٹیریل ایجاد ہی نہیں ہوا کہ جس سے کہ گٹر کے ڈھکنے بنائے جائیں اور وہ ہمارے ہیروئنچی نشہ کرنے والے ان ڈھکنوں میں سے لوہا چرا کر نہ بیچ سکیں بغیر لوہے کے بھی ڈھکنے تیار کیے جا سکتے ہیں اتنی ترقی کرنے کے بعد بھی اج بھی اس بات پر کوئی کام نہیں ہوا کیا غریب کا بچہ بچہ نہیں ہے۔اللہ کے ہاں ہر بات کا جواب دینا ہے.

میں ان والدین سے بھی التماس کرتی ہوں ہاتھ جوڑ کے ان سے منت کرتی ہوں کہ اتنے چھوٹے بچے کا تو ہاتھ بھی نہیں چھوڑنا چاہیے حیرت ان والدین پر جو اتنی لاپرواہی برتتے ہیں ہر چیز کے حساب کا جواب دینا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں