تحریر :مونا شیخ
سیاست عبادت ہےاور خدمت کا دوسرا نام ہے۔مجھے گزشتہ الیکشن کے دوران زمان ٹی وی یو ایس اے اور اس کے بعد دیگر آزاد کشمیر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کام کرنے کا موقع ملا۔پھر بطور صحافی روزنامہ ناگزیر کے ساتھ بھی منسلک ہوں۔آج جس شخصیت کے بارے میں لکھ رہی ہوں۔وہ راجہ محمد یاسین خان سابق وزیر حکومت اور سینئر رہنما پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر ہیں۔آپ کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں جگلڑی سے ہے۔آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا۔پھر ایم ایل اے اور وزیر تک پہنچے۔آپ کا حلقہ الیکشن حلقہ وسطی باغ ہے۔ حلقہ وسطی باغ کے اندر اپنا اثرورسوخ رکھتے ہیں اور وسطی باغ کی ساری برادریوں کے اندر اپنا ایک مقام رکھتے ہیں. سیاست میں اصولی موقف رکھتے ہیں ۔مفادات کو خاطر میں نہیں لاتے ۔بہت مختصر اور مدلل گفتگو کرتے ہیں . سب سے بڑھ کر کہ بہت اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔ہمیشہ سے سیاسی میدان میں اصولوں کے ساتھ انتھک محنت اور جدوجہد جاری رکھی۔
بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
۔جھپٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے ساتھ رہے ۔مشکل دور گزارا ۔بہت کچھ حاصل کر سکتے تھے لیکن اصولوں پر ڈٹے رہے. پھر آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس سے علیحدگی بھی اصولوں کی بنیاد پر کی۔سب سے بڑی خوبی راجہ محمد یاسین خان کی یہ ہےکہ وہ گفتگو میں شائستگی رکھتے ہیں اور عمل میں تیزی رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمت اللہ علیہ نے کیا خوب کہا
نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل پاکباز
زمان ٹی وی یو ایس اے چینل اور دیگر اداروں کے ساتھ کام کرنے کے دوران مجھے بہت سے لوگوں کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ ہمیشہ ان کے حوالے سے اچھے کلمات سنے ۔ان کی اصولی سیاست پر لوگوں نے ہمیشہ ان کی تعریف کی۔اس کالم کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔ انشاء اللہ اس موضوع پر میں پھر بھی تحریر لکھوں گی۔اس کےلیے آپ کی رائے بھی درکار ہے۔ایک خاص بات جو میں نے ایک دانا سے سنی کہ اچھے لوگوں کی کمی ہو رہی ہے .ہمیں اب اس روایت کو زندہ رکھنا ہو گاکہ اچھے لوگوں کی دل سے قدر کریں۔تاکہ ہم ایک اچھے معاشرے کو پروان چڑھانے میں کامیاب ہوں۔آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ اللہ تعالیٰ راجہ محمد یاسین خان کو سیاست میں کامیابی عطا فرمائے ۔آمین