تحریر:ثمینہ عامر
کسی ناپسندیدہ بات کو تحمل اور خندہ پیشانی سے برداشت کرنا رواداری کہلاتا ہے دوسروں کی رائے کا احترام کرنا بھی رواداری کہلاتا ہے حضرت ادم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء اور رسول اپنی امتوں کو اتحاد محبت رواداری اور برداشت کا درس دیتے رہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ برداشت اور رواداری کی بہترین مثال ہے .
ہجرت سے قبل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت برداشت اور رواداری سے کام لیتے ہوئے تبلیغ کا کام جاری رکھا اور یہی طریقہ اپنے صحابہ کرام کو بھی سکھایا۔رواداری اور برداشت تو وہ خوبیاں ہیں جنہیں زندگی کے ہر معاملے میں اپنانا چاہیے یہی وہ طرز عمل ہے جن سے ہم اپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہم اہنگی پیدا کر سکتے ہیں ۔اج پھر ضرورت ہے کہ ہمیں برداشت رواداری کی عادت اپنانی پڑے گی .
ہمارے بچوں کو برداشت اور رواداری کی عادت سے ہی ان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوگا اس عادت کی وجہ سے انسان ترقی کے منازل اسانی سے طے کر لیتا ہے وہ اپنے وقت و صلاحیتوں کو اچھی طرح استعمال کر پاتا ہے اور کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے اگر ہم برداشت رواداری اور محنت کو اپنا سوال بنا لیں تو ہمیں ایک مضبوط قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکتا.