مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)خواجہ فاروق اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے اس بیان جس میں انہوں نے صاف صاف کہا ہے کہ میں نے رینجز کو نہیں بلایا کے بعد ضروری ہو جاتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں بنا لیاجائے تاکہ پتہ چل سکے کہ رینجرز کو بلانے والی اتھارٹی کون تھی، اگر وزیراعظم بے بس، بے اختیار اور لاچارہو گئے تھے تو پھر انہیں اپنے منصف سے الگ ہوجانا چاہیے کہ اس منصب کا تقاضا ہے کہ ریاستی امور،اختیار وزیراعظم کے ہاتھ میں ہوں اگر رینجرز آپ کی مرضی کے خلاف بقول آ پ کے آزادکشمیر میں طلب کی گئی ہے تو پھر آپ کو فوری اس منصب سے الگ ہوجانا چاہیے استعفیٰ دے دیناچاہیے.
خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ تحریک انصاف روز اول سے یہ کہہ رہی تھی کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کر لیں ان کی ریلی کو بات چیت کے ذریعے مطالبات تسلیم کر کے روک لیں لیکن آپ کی زبان، لہجہ عوام کو مزید اشتعال دلانے کا سبب بن رہا تھا اگر یہ مطالبات روز اول کو ہی مان لیے جاتے تو کل 3بے گناہ نوجوان شہید نہ ہوتے آپ کا پولیس آفیسر ایک ہفتہ قبل شہید نہ ہوتا ان سب کا خون حکومت پر ہے جس کی ذمہ داری اب آپ کو قبول کرنی چاہیے، خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی ایک ہفتہ کے اندر رپورٹ دے سکتا ہے، ان تین بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کا بہت بننے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے آخر کیوں مطالبات کے تسلیم کیے جانے کے بعد رینجرز کو براستہ برارکوٹ مظفرآباد بلایا گیا.
اس مرحلہ پر ان کو بلانے والی اتھارٹی /شخص کا پتہ لگانا ضروری ہو گیا ہے، حکومت کو چاہیے کہ تینوں شہید ہونے و الے افراد جو اپنے خاندانوں کے کفیل تھے کے بھائیوں / عزیزوں میں سے کسی کو فوری ملازمت دے، 50/50 لاکھ کو ان کے ورثاء اور 10/10 لاکھ زخمیوں کو ادا کرے، عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی تیسری شق کو اشرافیہ کی مراعات ختم کی جائے پر فوراً عملدرآمد کرانے کیلئے جوڈیشل کمیشن یا جے آئی ٹی رپورٹ شامل کرے، کابینہ کی تعداد 15/16تک واپس لائی جائے، بیورو کریسی کے غیر ضروری اخراجات کم کیے جائیں، جب تک یہ حکومت قائم ہے تو تب تک ان شرائط کو پورا کیا جائے کہ اب عوام کسی لالی پاپ میں نہیں آئیں گے، مناسب اور بہتر یہی ہے کہ ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر کے اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے۔