تحریر:ثمینہ عامر
فضا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اضافے کی تو کوئی بات بھی نہیں کرتا اس زہریلی گیس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کا نتیجہ کروڑوں کی تعداد میں مختلف مخلوقات کے خاتمے کی صورت میں نکلا ہے اب تک انسان معلومات کے مطابق زمین ہی پورے شمسی نظام میں وہ واحد سیارہ ہے جہاں سب سے زیادہ زندگی کے اثار پائے جاتے ہیں اج ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کروڑوں بلکہ عرب و مخلوقات کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے خود انسان کا بھی اگر زمین فضاؤں میں ضرر رسا گیس اسی طرح داخل ہوتی رہیں تو ایک وقت ائے گا کہ گرمی بڑھنے سے پہاڑوں پر گلیشیئر کی صورت میں ذخیرہ شدہ تمام پانی سمندروں میں شامل ہو جائے گا اور ان کی سطح 10۔ 12 میٹر بلند ہو جائے گی نیو ساحل کے قریب تمام چھوٹے بڑے شہر سمندر ہی میں ڈوب جائیں گے اس کے علاوہ زمین پر موجود حیات یعنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قلف ہو جائے گا۔
انسان ایٹمی دور میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے ہزاروں ایٹم بم بنا لیے ہیں کیا انسانوں نے اس کے نقصانات کے بارے میں بھی سوچا ہے کیا جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگسا کی پر ٹوٹنے والی تباہی کو یہ انسان بھول گئے ہیں اب بھی ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی جواز باقی ہے اگر خدانخواستہ انہیں استعمال کرنا پڑا تو پھر قیامت ہی کا منظر ہوگا میری سب سے یہی گزارش کہ خدارا سب ہوش میں ائیں اپنی زندگی میں سہولیات اور اسائشوں کے چکر سے باہر نکلے کارخانوں میں بننے والی چیزوں پر کم سے کم انحصار کریں تاکہ کارخانے کم دھواں اگلے اسی طرح جہاں پیدل کے لوگ گاڑیوں کے استعمال سے بچے تاکہ دھوئیں کی مزید تباہی سے بچ سکیں اپنی گاڑیاں وقت پر مرمت کرائیں تاکہ دھواں نہ دیں پلاسٹک کی تھیلیاں بھی زمین کے لیے خطرہ ہے ۔
فضا میں کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اضافے کی تو کوئی بات بھی نہیں کرتا اس زہریلی گیس کی وجہ سے عالمی درجہ حرارت اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس کا نتیجہ کروڑوں کی تعداد میں مختلف مخلوقات کے خاتمے کی صورت میں نکلا ہے اب تک انسان معلومات کے مطابق زمین ہی پورے شمسی نظام میں وہ واحد سیارہ ہے جہاں سب سے زیادہ زندگی کے اثار پائے جاتے ہیں اج ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کروڑوں بلکہ عرب و مخلوقات کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے خود انسان کا بھی اگر زمین فضاؤں میں ضرر رسا گیس اسی طرح داخل ہوتی رہیں تو ایک وقت ائے گا کہ گرمی بڑھنے سے پہاڑوں پر گلیشیئر کی صورت میں ذخیرہ شدہ تمام پانی سمندروں میں شامل ہو جائے گا اور ان کی سطح 10۔ 12 میٹر بلند ہو جائے گی نیو ساحل کے قریب تمام چھوٹے بڑے شہر سمندر ہی میں ڈوب جائیں گے اس کے علاوہ زمین پر موجود حیات یعنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قلف ہو جائے گا۔
انسان ایٹمی دور میں داخل ہو گیا ہے اور اس نے ہزاروں ایٹم بم بنا لیے ہیں کیا انسانوں نے اس کے نقصانات کے بارے میں بھی سوچا ہے کیا جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگسا کی پر ٹوٹنے والی تباہی کو یہ انسان بھول گئے ہیں اب بھی ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی جواز باقی ہے اگر خدانخواستہ انہیں استعمال کرنا پڑا تو پھر قیامت ہی کا منظر ہوگا میری سب سے یہی گزارش کہ خدارا سب ہوش میں ائیں اپنی زندگی میں سہولیات اور اسائشوں کے چکر سے باہر نکلے کارخانوں میں بننے والی چیزوں پر کم سے کم انحصار کریں تاکہ کارخانے کم دھواں اگلے اسی طرح جہاں پیدل کے لوگ گاڑیوں کے استعمال سے بچے تاکہ دھوئیں کی مزید تباہی سے بچ سکیں اپنی گاڑیاں وقت پر مرمت کرائیں تاکہ دھواں نہ دیں پلاسٹک کی تھیلیاں بھی زمین کے لیے خطرہ ہے ۔