اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سابق وزیراعظم و صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیرو سابق صوبائی وزیر و چیئرمین پنجاب انوسٹمنٹ بورڈ سردار تنویر الیاس خان کی غیر قانونی گرفتاری، اسلام آباد پولیس اور ایف آئی اے کی طرف سے حراساں کرنے پر حکومت کی اتحادی و اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے،نجی کاروباری تنازعے کو بنیاد بنا کرفرضی ایف آئی آرز بنا کر سیایس انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، الحاق پاکستان کے داعی اور ملک کی اہم ترین کاروباری شخصیت کے ساتھ اس طرح کے سلوک پر آزاد ومقبوضہ کشمیر سمیت پوری دنیا میں مقیم کشمیری تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں.
کشمیری سیاسی قیادت نے سردار تنویر الیاس خان کی گرفتاری پر شدید برہمی اور پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے،سابق وزیراعظم کو گرفتار کرتے وقت انکی تضحیک کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں، سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔سابق صدر و وزیر اعظم سردار یعقوب خان، سابق وزیر اعظم و صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق خان، سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء و اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدر شاہ غلام قادر،پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین، مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق سمیت اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس خان کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور فوری طور پر انہیں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق صدر و وزیراعظم آزاد جموں کشمیر ممبر قانون ساز اسمبلی سردار یعقوب خان نے سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان کی ان کے نجی جھگڑے میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے چار دیواری پھلانگ کر گرفتارکرنے کے عمل کی شدید مذمت کی،بعد ازاں عدالت سے رہائی کے بعد کئی گھنٹے تھانہ مارگلہ میں حبس بے جا میں رکھنے اور پھر ایف آئی اے کے حوالے کرنے کے اقدام کی بھی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔،سردار تنویر الیاس خان سے سیاسی اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن اسلام آباد پولیس نے جس طرح چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا یہ مناسب نہیں سردار تنویر الیاس خان ایک کامیاب بزنس مین و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر ہیں انکی کی گرفتاری سے آزاد کشمیر وپاکستان بھر میں غلط پیغام گیا ہے۔سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے سابق وزیراعظم و استحکام پاکستان پارٹی آزادکشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ سردار تنویر الیاس ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور معروف کاروباری شخصیت و سابق وزیراعظم ہیں ان کے گھر پر دھاوا بول کر چادر دیواری تقدس پامال کیا گیا جو قابل مذمت ہے .
مشکل کی اس گھڑی میں سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن لیڈر قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق احمد نیسردار تنویر الیاس خان کی گرفتاری پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نجی کاروباری تنازعے کو بنیاد بنا کر اسلام آباد پولیس کی جانب سے چار دیواری پھلانگ کر گرفتارکرنے کے عمل کی شدید مذمت کی،بعد ازاں عدالت سے رہائی کے بعد کئی گھنٹے تھانہ مارگلہ میں حبس بے جا میں رکھنے اور پھر ایف آئی اے کے حوالے کرنے کے اقدام کی بھی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے بجا طورپر اس کا نوٹس لیا ہے،سردار تنویر الیاس خان سے سیاسی اختلاف ہوسکتے ہیں لیکن اسلام آباد پولیس نے جس طرح چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرکے انہیں گرفتار کیا ہے،تحریک انصاف ایسی کسی پولیس گردی کی حمایت نہیں کرسکتی۔سردار تنویر الیاس خان کو فوری رہا کیا جائے ان کیخلاف کسی کو شکایت ہے تو پولیس کو فریق نہیں بننا چاہیے۔ صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر، سینئر پارلیمنٹرین چوہدری محمدیٰسین کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر سردار تنویر الیاس خان کی گرفتاری باعث تشویش ہے۔ گرفتار کیے گئے مقدمے میں فریقین کے مابین صلح کے بعد عدالت سے رہائی ملنے کے باوجود انہیں حبس بے جا میں رکھنا اور ایف آئی اے کے حوالے کرنا قابل مذمت ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور مقتدر حلقوں کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔شاہ غلام قادر صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر نے کہا کہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کی نجی جھگڑے میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے تضحیک آمیز طریقے سے گرفتاری کی مذمّت کرتا ہوں۔
سردار تنویر الیاس خان ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کے سابق وزیراعظم ہیں۔ انکی سیاست سے اختلاف تو ہو سکتا ہے مگر انکی گرفتاری اور بعد ازاں روا رکھا گیا سلوک قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں سردار تنویر الیاس خان اور انکے اہلخانہ کیساتھ ہیں۔سابق وزیراعظم ازاد کشمیر وصدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ سردار تنویر الیاس خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر کی گرفتاری کی شدید مزمت کرتا ھوں۔وہ آزاد جموں کشمیر کے ایک انتہائی قابل قدر سیاسی رھنما ھیں۔ انکی سیاست سے ھمارا اختلاف ھو سکتا ھے لیکن اپنی فیملی میں جس کاروباری تنازعہ پر انہیں جس طریقے سے گرفتار کیا گیا وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظہر ھے۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں ان کی بزنس کمپنی کی بہت خدمات ہیں، انہیں مدنظر رکھنے کی ضرورت تھی۔ جنرل سیکریٹری مسلم لیگ ن آزادکشمیر/سابق سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ سردار تنویر الیاس خان سابق وزیر اعظم آزاد جموں کشمیر کو رات گئے اسلام آباد میں ان کی رھائش گاہ سے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا ھے۔ میں ذاتی طور اس گرفتاری کی شدید مزمت کرتا ھوں۔ جس کیس میں انہیں پابند سلاسل کیا گیا ھے اس کی نوعیت کا جائزہ لیکر اس کیس کو بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا۔وہ آزاد جموں کشمیر کے ایک انتہائی قابل قدر سیاسی رھنما ھیں۔ انکی سیاست سے ھمارا اختلاف ھو سکتا ھے لیکن اپنی فیملی میں جس کاروباری تنازعہ پر انہیں جس طریقے سے گرفتار کیا گیا وہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظہر ھے۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں ان کی بزنس کمپنی کی بہت خدمات ھیں۔ انہیں مدنظر رکھنے کی ضرورت تھی۔