” سرکاری تعلیمی ادارے اور بے سہولت عمارات”

148

تحریر :راشد ہاشمی میڈیا کوآرڈینیٹر”ٹیلنٹ پروموٹر گروپ پاکستان/آزاد کشمیر”
راجہ محمد شفیق خان (مرحوم) کے نام سے منسوب گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کٹکیر کھاوڑہ ضلع مظفر آباد ایک ایسا ادارہ ہے جس کی کہانی ہمیں نہ صرف تعلیم کی اہمیت بلکہ سماجی شعور اور قربانی کی مثال بھی سکھاتی ہے۔ یہ سکول زلزلہ 2005ء میں مکمل تباہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک یہاں کسی کی نظر کرم نہیں ٹھہری۔ مگر صدر معلم، ہمارے پیارے دوست راجہ محمد سفیر خان اور ان کے اساتذہ کی محنت و جیب خرچ کے باعث، ایک شیڈ نما بلڈنگ تعمیر ہوئی، جس کے تین کمرے ہیں۔ ایک کمرہ کنٹین کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جبکہ دو کمرے پرائمری کے ننھے طالب علموں کے لیے مختص ہیں۔ مڈل اور ہائی کلاسز کھلے آسمان تلے، فطرت کے نظاروں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔صدر معلم صاحب نے اپنے اور اساتذہ کے ذاتی وسائل سے ایک لاکھ روپے جمع کر کے سکول کی بلڈنگ اور گراؤنڈ کی جگہ ہموار کی، تاکہ طلباء اور طالبات کے بیٹھنے کی سہولت ہو۔

اس کے علاوہ، اوورسیز سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ روپے بھی موصول ہوئے، جس سے مزید ترقی کی جا رہی ہے۔ سکول فنڈز اور اسٹاف کی مدد سے بنچ بھی فراہم کیے گئے، تاکہ بچوں اور بچیوں کے لیے تدریس کے حالات بہتر ہوں۔یہاں کے حالات ایک اور پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں: گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھی اسی علاقے میں موجود ہے، مگر خستہ حالی اور اسٹاف کی کمی کی وجہ سے زیادہ تر بچیاں بوائز سکول میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ عوامی اکثریت غریب ہے، اور پرائیویٹ سکولوں کی فیس برداشت نہیں کر سکتی، جس کی وجہ سے بوائز سکول میں “کوایجوکیشن” ناگزیر ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بچیاں نہ صرف بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہیں بلکہ شاندار رزلٹ بھی دے رہی ہیں۔ 2024-25 کے نتائج کچھ یوں ہیں:جماعت نہم:
کل تعداد: 7بچے: 2 (A گریڈ: 2)
بچیاں: 5 (A+ گریڈ: 5)
جماعت دہم:کل تعداد: 7
بچے: 3 (A گریڈ: 3)

بچیاں: 4 (A +گریڈ: 4)یہ واضح کرتا ہے کہ بچیوں کی تعلیمی قابلیت بچوں سے بہتر ہے، مگر عمارت اور کلاس رومز کی کمی کی وجہ سے ان کے لیے اپنی پوری صلاحیت دکھانامشکل ہے۔ اگر گرلز سکول میں مناسب اسٹاف اور کلاس رومز دستیاب ہوں تو یہ بچیاں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں۔اس کے علاوہ، پہاڑی علاقوں میں اسکولوں کا محل وقوع، بالغ بچیوں کے لیے واش رومز اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی، ایک اہم مسئلہ ہے۔ والدین، خاص کر ماں اور فی میل ٹیچر، اس مشکل کو بہتر سمجھ سکتے ہیں، اور حساس دل رکھنے والے باپ و بھائی بھی اس کا ادراک رکھتے ہیں۔

میرا مقصد صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، صاحبان اقتدار اور محکمہ تعلیم کے افسران تک بچیوں کی مشکلات پہنچانا ہے۔ بھاری تنخواہیں، ٹی اے ڈی اے اور دیگر سہولیات اسی لیے دی جاتی ہیں کہ افسران ماتحت اداروں کی حالت پر نظر رکھیں، مسائل کا ادراک کریں اور حل تلاش کریں، تاکہ نونہالان قوم باعزت مقام حاصل کر سکیں۔
آخر میں، میں صدر معلم راجہ محمد سفیر خان اور تمام اساتذہ کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں، جن کی محنت اور کھلے آسمان تلے تدریس سے یہ شاندار رزلٹ ممکن ہوا۔
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں