باغ(سٹیٹ ویوز)سابق وزیراعظم آزادکشمیر و مرکزی رہنما مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ جو کوئی مرضی کرلے آزادکشمیر کو کسی صورت بین الاقوامی سازشوں کا مرکز نہیں بننے دینگے لائن آف کنٹرول پر پاک فوج ہمارا دفاع کرتی ہے نا میں فوج کا ترجمان ہوں نا ہی کوئی مجھ پر سہولتکاری کا الزام لگا سکتا ہے فوج کا مقابلہ فوج ہی کرسکتی ہے ہندوستان کی فوج ظالم جابر اور کشمیریوں کی عصمتوں کو پامال کرنے والی فوج ہے آزاد خطہ کا قیام اور بقا ایک معجزہ ہے اس وقت لوگوں نے جوانمردی سے لڑائی لڑی اس کے بعد پاک فوج نے خون دیکر بہادری ،ہمت دلیری کی ناقابل فراموش داستانیں رقم کیں اگر کسی کو احساس ہو تو لائن آف کنٹرول پر جائیں آپ کو وہاں پنجابی،سندھی بلوچی،پٹھان کے خون کی خوشبو آئیگی کشمیریوں نے قربانیاں آٹے اور بجلی کے لیے نہیں دیں تھی سابق وزیراعظم نے کہا کہ تین روپے بجلی کے یونٹ کی قیمت کسی صورت نہیں چل سکتی اس کے لیے جو رقم چاہیے وہ ہمارے ترقیاتی بجٹ سے زیادہ ہے جب تک آزادکشمیر کا یہ خطہ قائم ہے مسئلہ کشمیر کو کوئی ختم نہیں کرسکتا پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق الحاق کے بعد طریقہ کار ہو گا پاکستان اور ہندوستان کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا آزادکشمیر کے لوگوں کو پاکستان سے بدظن کرنے کی سازش سے متعلق بہت پہلے متعلقہ لوگوں کو خبردار کردیا تھا کہ یہ ہونے جارہا ہے بدقسمتی سے وہ جو کام کررہے ہیں یہ ان کا نہیں ہے انہوں نے بروقت نہیں اطلاع دی پاکستان کے لوگوں نے کسی حکومت کو کشمیر پر سودے بازی نہیں کرنے دی مگر جو واقعات ہوے اس کے بعد پاکستان میں لوگوں نے پوچھا ہمیں سچی بات ہے شرمندگی ہے یہاں کسی نے پاکستان کا جھنڈا نہیں اتارا کوہالہ کے مقام پر جھنڈے کا کپڑا بوسیدہ ہوگیا تھا جس کو تبدیل کیا گیا ہے راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ 13 جولائی کے شہدا نے سینے پر گولی کھائی کسی ایک کی پیٹھ پر گولی نہیں تھی.
سید حسن شاہ گردیزی سے قریبی تعلق تھا باغ کی سرزمیں پر نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا شہدا کربلا کی قربانی انسانی تاریخ میں ناقابل فراموش ہے حضرت علی سے قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے آزادکشمیر کی صورتحال پر سخت ترین تشویش ہے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں کس کے لیے دی تھیں؟ موبائل فون نے ہماری معاشرتی،ثقافتی اقدار کو تباہ و برباد کردیا ہے اراکین اسمبلی کو گالیاں دینے والوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا نا ہو کہ اسی طرح جواب ملے تنقید کریں مگر تضحیک کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی لائن آف کنٹرول پر جو ہندوستان نے ظلم کیا مقبوضہ کشمیر میں اس کی مثال نہیں ملتی مودی کھربوں روپے اور سبسڈی کشمیریوں کے پاوں میں رکھ رہا ہے مگر کشمیریوں نے جوتے کی نوک پر رکھا راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی اعلی ترین شکل بدقسمتی سے برادری ازم نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہم پستی کی طرف جارہا ہیں تیرویں ترمیم کے وقت بہت دباو تھا لیکن ہم نے جرات دکھائی سید حسن شاہ گردیزی سفر حج پر روانہ ہونے تھے کہ اللہ کی طرف سے بولاوا آ گیا ، 1947 کی سیاسی جد وجہد میں سردار محمد عبدالقیوم خان کو شامل کرنے والے سید حسن شاہ گردیزی تھے ، آزاد کشمیر کے اندر تاریخ کو درست کرنے کی ضرورت ہے ،.
سوشل میڈیا نے معاشرتی اقدار کو تباہ کر دیا ہے ، اپنے اصلاف کی تاریخ کو ژندہ کرنے کی ضرورت ہے ، فوجوں کو نکالنے کی باتیں کرنے والے خطے کے خیر خواہ نہیں ، سیز فائر لائن پر سندھی ، بلوچی ،پختون ، پنجابی اور کشمیری سمیت سب کے خون کی خوشبو آتی ہے ، نفرتوں کے بیج بونے والے آپ کے خیر خواہ نہیں ، بجلی اور آٹے کی قیمتوں کی کمی سے تعمیر وترقی کا عمل متاثر ہو گا ، جب تک آزاد کشمیر ہے دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو تقسیم کر سکتی ، رائے شماری کیلئے ہم سب نے مل کر جد وجہد کرنا ہے ، کشمیر پر سودے بازی کی کسی کو اجازت نہیں ہے ،قیادت اور شہادتوں کا تسلسل حضرت علی شیر خدا سے چلا آ رہا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ممتاز کشمیری سیاستدان سید حسن شاہ گردیزی اور ان کے فرزند ممبر ضلع کونسل سید مظہر علی گردیزی کی برسی سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، برسی کی تقریب کی صدارت سید عفیر حسین گردیزی نے کی ، برسی کی تقریب سے سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی ،مسلم کانفرنس کے سینیئر رہنما سردار عبد الرشید چغتائی ایڈوکیٹ ، سردار طارق مسعود ایڈووکیٹ ،سردار طاہر اکبر خان ، سید عامر خورشید گردیزی ، سابق صدر ڈسٹرکٹ بار سید خالد گردیزی ایڈووکیٹ ، سید آصف گردیزی ، سید محسن گردیزی ، اور دیگر نے خطاب کیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت سردار میر اکبر خان نے کہا سید حسن شاہ گردیزی جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ، تحریک آزادی کشمیر کیلئے انہوں نے جو راہیں متعین کیں کشمیری آج بھی انہی خطوط پر جد وجہد کر رہے ہیں ، سید حسن شاہ گردیزی نے منٹو پارک لاہور میں قرار داد پاکستان کے جلسہ میں کشمیری عوام کی نمائندگی کی ، سرینگر میں قرار داد الحاق پاکستان کے اجلاس میں بنیادی کردار ادا کیا، وزیر زراعت نے کہا حقوق کے نام پر پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ برداشت نہیں کیا جائے گا ، سید حسن شاہ گردیزی اور انکے ساتھیوں نے پاکستان کو اپنی منزل قرار دیا تھا ،وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سردار ضیاء القمر نے کہا کہ ایام محرم الحرام کے دوران تحریک آزادی کشمیر کے نامور ہیرو سید حسن شاہ گردیزی کی برسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حسن شاہ گردیزی نے فلسفہ حسین پر عمل کرتے ہوئے مظلوم و محکوم کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک میں ولولہ انگیز کردار ادا کیا .
آج کے دن میں سرینگر جیل میں ازان کی تکمیل کے دوران 22 کشمیریوں نے جام شہادت نوش کر کے تحریک آزادی کشمیر کو اپنے لہو کا خراج پیش کیا ، ڈوگرہ کی شخصی حکومت کے خلاف جدو جہد کی بنیاد رکھنے والے اکابرین نے اپنی منزل کا تعین کر دیا تھا ، کشمیری آج اسی بھی انہی خطوط پر جد وجہد کر رہے ہیں ، بعض قوتیں حقوق کے نام پر عوام کی سوچ کو بدلنے کی جو اچھل کود ہو رہی ہے یہ کامیاب نہیں ہو گی ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی نے اپنے خطاب میں امام عالی مقام کی بقا اسلام کیلئے عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 13 جولائی کو سرینگر جیل کے باہر آزان کی تکمیل میں 22 شہیدا نے جس مشن کی تکمیل کیلئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی اسی مشن کی تکمیل کیلئے سید حسن شاہ گردیزی اور انکے رفقاء نے جد وجہد کی ڈوگرہ فوج کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا اس موقع پر حسن شاہ گردیزی فاؤنڈیشن کی طرف سے سابق وزیراعظم اور مختلف فیلڈز میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افراد کو شیلڈز پیش کی گئیں۔