سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن آزادکشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی بنیادی حقوق کے حصول کے لیے دی گئی کال کی حمایت کردی

39

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)آزادجموں وکشمیر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہاہے کہ اپنے مسلمہ بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے،آزادکشمیر کے آئین وقانون کے اندر رہتے ہوئے شہریوں کو احتجاج کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا،عوامی ایکشن کمیٹی کی 11 مئی کو احتجاج کی کال دو ماہ پہلے دی گئی تھی،حکومت آزادکشمیر نے اگرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہوتا اور بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی ہوتی تو آج یہ حالات پیدا نہ ھوتے ۔آزادکشمیر میں قومی املاک کی حفاظت سمیت ہائیڈرل پاور اسٹیشنز کے تحفظ اور جاری منصوبوں پر کام کرنے والے چائنیز کی سکیورٹی فول پروف بنانے کے لیے ایف سی کی تعیناتی درست اور جائز بات ہے.

تاہم یہ کام 11 مئی کی ہڑتال سے پہلے یا کچھ دن بعد کیا جاتا تو شکوک و شبہات اور بد اعتمادی پیدا نہ ھوتی ۔ بدقسمتی سے مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر انوار حکومت کا بوجوہ حصہ ہے ۔ امن امان بحال رکھنے کی ذمہ داری محکمہ داخلہ کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر انتہائی چالاکی اور ھوشیاری سے مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اپنے مزموم سیاسی عزائم کی تکمیل چاھتے ھیں مجھے امید ھے صدر مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر اپنی اولین فرصت میں بنیادی عوامی مسائل اور عوامی ایکشن کمیٹیز کے مطالبات کے حوالے سے جماعتی سطح پر مشاورت کر کے دو ٹوک اور واضح پالیسی دیں گے جو ان کی بنیادی ذمہ داری ھے ۔

اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی کوئی بھی کوشش ریاست پاکستان کے خلاف جذبات ابھارنے کا باعث بن سکتی ہے،ایسا ہونے کی صورت میں ہندوستان کو منفی پروپیگنڈہ کا مواد اور موقع ملے گا۔آزادکشمیر میں موجود قومی سلامتی اور ریاست پاکستان کے قومی مفادات کی نگرانی ومانیٹرنگ کے ذمہ داران کو صورتحال کا ادراک کرنا چاہیے۔امن امان کی صورتحال بگاڑنے میں وزیراعظم آزادکشمیر اور ان کے ناعاقبت اندیش بعض بیورو کریٹ ملوث ہیں جو شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا دم ھر دور میں بھرتے رھے ھیں اور پوری کوشش کررہے ہیں کہ عوام کے اندر اشتعال پھیلے تاکہ وہ حکومت پاکستان کو یہ تاثر دے سکیں کہ وہ ناگزیر پوزیشن کے حامل ھیں ۔

حالانکہ سب جانتے ھیں کہ ان کی فسطائی حکومت کن بیساکھیوں کے سہارے قائم ھے ۔ آزاد جموں کشمیر کی پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے مصلحت کا شکار ھو کر ریاست جموں کشمیر کے عوام کے جائز حقوق کے حصول کے لیے مجرمانہ تساہل سے کام لیا ھے ۔ عوام اور سیاسی کارکنوں میں اس حوالے سے بہت غم و غصہ پایا جاتا ھے ۔ جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ سکتا ھے ۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیداواری لاگت پر بجلی کی فراہمی اور سبسڈائزڈ آٹے کے مطالبات نہ صرف درست بلکہ جائز بھی ہیں اور اس حوالے سے آزادکشمیر کے اندر آوازیں ہمیشہ بلند ہوتی رہی ہیں۔سنجیدہ اور ذمہ دار حکومتیں بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں،مذاکرات کے دروازے آمریت کے دور میں بھی بندنہیں ہوتے،آزادکشمیر کے عوام اور ریاست پاکستان کے مابین بداعتمادی،نفرت اور تعصب پیدا کرنے کی مذموم کوشش میں آزادکشمیر کے وزیراعظم کا کردار بہت ھی غیر ذمہ دارانہ اور تکبر پر مبنی ھے ۔

تحریک آزادی اور پاکستان کے لیے جموں کشمیر کے عوام نے قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے اور یہ سلسلہ منزل کے حصول تک جاری رہے گا۔چوہدر طارق فاروق کا مزید کہنا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے پولیس فورس کے فلیگ مارچ کے ذریعے خوف وہراس اور اشتعال پھیلانے کے بجائے دانش مندی کا مظاہرہ کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کا استعمال بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف اور آزادکشمیرمیں بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا کرسکتا ہے جس سے دشمن قوتوں کو فائدہ ملے گا۔اقتدار آنی جانی چیز ہے،قومی مفادات کا تحفظ ہر صورت کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں