مظفرآبا(سٹیٹویوز)محمد اشرف صحرائی ؒجنہیں صحرائی صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے تحریک اسلامی اور تحریک مزاحمت کی ایک نمایاں اور محترم شخصیت تھے۔ ان کی ساری زندگی اسلام کے غلبے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کی راہ میں صرف ہوئی ۔ان خیالات کا اظہار امیرحزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے متحدہ جہاد کونسل اور حزب کمانڈ کونسل کے الگ الگ خصوصی اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صحرائی صاحب تحریک آزادی کشمیر کے ایک اہم اور صف اول کے رہنما تھے۔۔ تحریک آزادی کشمیر کے ممتاز رہنما، صف اول کے قائداور امام سید علی گیلانی ؒ کے دست راست تھے۔
1944 میں وادی لولاب کے ٹکی پورہ گاؤں میں پیدا ہوئے۔16برس کی عمر میں 1960 میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رکن بنے۔ قیم جماعت اور جماعت کے سیاسی شعبے شعبہ پارلیمان کے سربراہ بھی رہے۔تحریک حریت جموں و کشمیر کے بانی ممبر اور بانی سیکرٹری جنرل رہے۔پھر اس کے سربراہ بھی رہے۔ پہلی دفعہ 1965 میں پابند سلاسل ہوئے۔ 2019 میں انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور کوٹ بھلوال جموں جیل میں قید رکھا گیا۔ مجموعی طور پر سولہ برس سے زیادہ عرصہ انہوں نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ان کا پورا خاندان عتاب کا شکار رہا لیکن یہ سب کچھ وہ عزیمت کا پہاڑ بن کر جھیلتے رہے ۔ان کے بیٹے جنید صحرائی نے 19 مئی 2020 کو شہادت پائی، جو ان کی اپنی شہادت سے تقریباً ایک برس کا واقعہ ہے۔
پورا خاندان دباو اور مصائب کا شکار رہا، لیکن صحرائی صاحب اس سب کو عزم و ہمت کے پہاڑ کی طرح برداشت کرتے رہے۔ بالآخر 5 مئی 2021 کو وہ جموں کی جیل میں انتہائی تکلیف دہ اور صبر آزما حالات میں اپنےرب سے جا ملے۔سید صلاح الدین احمد نے کہا کہ ان کی شہادت کے بعد اگرچہ ایک بہت بڑا خلا محسوس ہو رہا ہے تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انہوں نے اپنے عمل اور کردار سے ہزاروں لاکھوں صحرائی تیار کئے ہیں جو باطل کے خلاف لڑنے کیلئے پرعزم اور تحریک آزادی کو منزل مقصود تک پہنچانے میں مسلسل جدوجہد پر آمادہ ہیں۔ان شاء اللہ شہید اشرف صحرائی ؒاور ان کے خاندان کی مقدس جدوجہد اور ان کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ تاریخ شاہد ہے کہ شہداء کا خون کبھی رائیگان نہیں ہوتا۔
تحریک آزادی کشمیر کے شہداء کا خون بھی ضرور رنگ لائے گا۔اجلاس میں شہید قائد کی بلندی درجات کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان کے اختیار کردہ راستے پر چلتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو حصول منزل تک ہر محاذ پر جاری رکھا جائے گا۔