شہید کمانڈر مقبول علائی کا 33واں یوم شہادت،وہ حلم، علم، جرات اور شجاعت کا عملی نمونہ تھے،سید صلاح الدین احمد

104

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)تحریک آزادی کے اولین سالار شہید مقبول علائی کا 33واں یوم شہادت آج اس عز م کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ شہداء کامشن ہر صورت جاری رہے گا ۔ شہید مقبول علائیحلم، علم، جرأت اور شجاعت کا عملی نمونہ تھے۔ان خیالات کا اظہار امیر حزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نےپریس کے نام جاری ایک بیان میں کیاہے۔انہوں نے کہا کہ وہ حزب المجاہدین کے انتہائی فعال کمانڈر تھے اور دشمن کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کامیاب کارروائیاں کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔

وہ ایک جری کمانڈر تھے، جو ساتھیوں کو آگے رکھنے کے بجائے خود صف اول میں لڑتے تھے۔انہیں کشمیریوں کے مقبول ترین رہنمائوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کمانڈر مقبول علائی آج ہی کے دن وسطی ضلع بڈگام میں بیروہ میں نماز جمعہ کے بعد بھارتی فوجیوں کیساتھ ایک خونریز معرکے میں جام شہادت نوش کرگئے،۔ظفر اقبال، عبدالمجید ماگرے، فاروق احمد وانی اور غلام رسول وانی عرف حمزہ نے بھی اپنے بہادر سالار کے ہمراہ شہادت کا جام نوش کیا۔

ماچھوہ بڈگام کے ایک باعزت اورمتوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے شہید مقبول علائی اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرکے شہادت کو ترجیح دی۔شہید مقبول علائی مقبوضہ جموں و کشمیر میں تحریک آزادی کے اوائل کے سرکردہ حزب المجاہدین کمانڈر تھے، جنہیں علمی، عملی اور عسکری صلاحیتوں کا پیکر مانا جاتا تھا۔اپنے پیغام میں سید صلاح الدین احمد نے کمانڈر کونسل کے سینئرممبر مجاہد بابرکی والدہ ماجدہ کی رحلت پر انتہائی رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومہ پاک سیرت اورآزادی پسند خاتون تھیں جنہوں نے تحریک آزادی کیلئے اپنے فرزند کو وقف کیاہے۔

ان کی جدائی انتہائی باعث تکلیف دہ ہے۔انہوں نے مجاہد خلیل احمد عرف شفقت بھائی کے اچانک انتقال پر بھی گہرے غم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مجاہد شفقت بھائی انتہائی شریف النفس مجاہدین میں شمار کئے جاتے ہیں جنہوں نے حزب المجاہدین میں ایک جذبے کے تحت شمولیت اختیارکی تھی اور اسی راستے پر چلتے چلتے اپنی جان جان آفرین کے حوالے کرگئے۔انہوں نے مجاہد بابر کی مرحومہ والدہ اورمرحوم مجاہد شفقت بھائی ،شہید مقبول علائی سمیت شہدائے کشمیر کی بلندی درجات کی بھی دعا کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں