تحریر:پرویز مغل
عام زبان میں لفظ صحافی کسی اخبار یا ٹی وی چینل یا ریڈیو سے منسلک شخص ہوتا ہے ۔آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔لیکن پھر بھی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ساتھ منسلک شخص ہی صحافی کہلاتا ہے۔اور اس میں رپورٹنگ اور حقائق کو سامنے لانے کی زمہ۔داری ہوتی ہے۔اس لئے باقاعدہ کسی اخبار یا چینلز سے اتھارٹی لیٹر بھی ضروری ہوتا ہے۔دوسری طرف صحافت صحیفہ سے نکلا ہے۔جس کے معنی ہیں۔سچ اور حقیقت کے ہیں۔پس صحافت چھپے ہوئے یا پوشیدہ حقائق کو سامنے لانے کا نام ہے۔اصل میں اگر دیکھا جائے تو علم بھی سچائی کی تلاش ہے۔اب کچھ اس معاشرے کی طرف آجائے ہیں۔لوگوں کے ہاں یہ بحث چل رہی ہوتی ہے کہ صحافت کی ڈگری آپ کے پاس موجود ہے۔
ہاں یہ اچھی بات ہیکہ صحافت کی ڈگری ہونی چاہیے۔لیکن بہت سے ٹی وی چینلز میں بین الاقوامی تعلقات اور دوسرے مضامین کے لوگ جو ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر ہیں ۔ان سے بھی زیادہ اگے ہیں۔اور صحافت میں صرف ڈگری ہی نہیں چاہیے ہوتی ہے بلکہ سکل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔آج کل سوشل میڈیا چینلز اور ٹی وی چینلز میں آپ کے پاس ملٹی پل سکلز کا ہوناضروری ہے۔کیونکہ کیمرے کے ساتھ ساتھ ایڈیٹنگ اور بولنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔دوسرا جو پرانے دور سے کام کررہے ہیں۔اس وقت تو صحافت کی ڈگری کا کنسپٹ۔نہ تھا۔ایک مثال سے آپ سمجھیں کہ پہلے بی ایڈ کے بغیر بھی استاد بھرتی ہوتے تھے۔لیکن آج کل نہیں اور بہت سے پرانے میٹرک پاس اساتذہ پڑھا رہے ہیں۔
دوسرا دلچسپی کی بات ہوتی ہے ۔بہت سے ڈگری ہولڈر یا تو اطلاعات کے محکمہ میں نوکری حاصل کرتے ہیں۔یا دوسرے محکموں میں۔اس طرح بہت سے کم پڑھے لکھے نوجوان اس فیلڈ میں دلچسپی کی بنیاد پر اگے آتے ہیں۔دوسرا ابھی تک حکومت آزاد کشمیر میں کوئی میڈیا پالیسی نہیں بنی ۔یہ حکومت کا کام ہیکہ کوئی واضح پالیسی ترتیب دے۔کہ آئندہ کے بعد صحافت سے وابستہ ہونے کیلئے آپ کو یہ پیپر دینا ہو گا یا یہ ڈگری ہونی چاہیے ۔تو اچھی بات ہے۔جس طرح وکلاء اور دوسرے شعبوں میں ہوتا ہے۔تو اس طرح صحافت کے حامل اور مقرر شدہ تعلیم اور تجربہ والے لوگ ہی آئیں گے۔اور پھر لوگوں کا رجحان صحافت کے متعلق مختلف کورسسز جس میں کیمرے کا علم ،ایڈیٹنگ کا علم ،خبر بنانے اور اخبارات کی ایڈیٹنگ اور کمپیوٹنگ اور اینکر پرسن کے کورسسز ہوں گے۔
جو ایک خوش آئند بات ہے۔پھر ایک اور بات سمجھنے کی ہیکہ اخبارات اور خصوصا ٹی وی چینلز کو صحافت کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور دوسرے مضامین جیسے انٹرنیشنل ریلیشنز، ہسٹری ،پولیکل سائنس اور ماہرین قانون اور دیگر مضامین جیسے اردو اخبارات میں اردو اور انگریزی میں انگریزی ماہرین زبان کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔آج کا یہ کالم اخبار اور ٹی چینلز کے ساتھ ساتھ صحافی بننے کے مراحل سے گزرنے والے اور صحافت سے بطور پروفیشن پیار کرنے والوں کے نام ہے۔