مظفرآباد:راجہ منصور خان سابق امیدوار اسمبلی حلقہ کھاوڑ ہ وبانی رہنما پی ٹی آئی آزاد کشمیر نے اپنے ایک سوشل میڈیا اور اخباری نمائندوں کے نام اپنے ایک بیان میں کہا کہ پارلیمانی بورڈ عدم مشاورت اور مفاداتی گروہ کی جانب سے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے لیے ایک متنازعہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بورڈ میں نہ تو مرکزی قیادت کی کوئی نمائندگی شامل کی گئی ہے، نہ ہی پارٹی کے نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو جگہ دی گئی ہے، جبکہ یوتھ، آئی ایس ایف اور خواتین کی نمائندگی بھی مکمل طور پر نظر انداز کی گئی ہے۔
مزید برآں اس بورڈ میں شامل افراد کی اکثریت کا ماضی پارٹی وفاداری کے حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔ سوائے محمد اقبال کےُباقی تمام افراد یا تو متعدد بار سیاسی جماعتیں تبدیل کر چکے ہیں یا ان کا تعلق مسلم کانفرنسی گروپس سے رہا ہے، یا پھر انہوں نے محض وقتی سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ انتخابات سے چندہ قبل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ان کامزید کہنا تھا کہ ہم عمران خان کے نظریے اور جدوجہد پر یقین رکھنے والے کارکنان، اس یکطرفہ اور غیر متوازن پارلیمانی بورڈ کو مسترد کرتے ہیں اور پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے اس فیصلے کے خلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کا اعلان کرتے ہیں۔
ہم نے اس پہلے یکطرفہ جعلی انٹرا پارٹی الیکشن، پارٹی رجسٹریشن میں مجرمانہ غفلت اور انتہائی غلط تنظیم سازی پر اس لیے خاموشی اختیار کیے رکھی کے عمران خان صاحب کی بڑی جدوجہد پر کوئی غلط اثر نہ پڑے۔ ہم نے اپنے تحفظات اور خدشات تمام مرکزی قیادت تک پہنچائے۔ ہمیں مرکزی قیادت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کے پارلیمانی بورڈ میں سب کےتحفظات اور خدشات کو ایڈریس کیا جائے گا لیکن پارلیمانی کے فیصلے کے بعد ہمیں خدشہ ہے کہ اس فیصلے سے عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا اور آئندہ آزادکشمیر کے انتخابات میں پارٹی کو ناقابلِ تلافی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
راجہ منصور خان کامزید کہنا تھا کہ واضح رہےہم ایک ایسے متوازن پارلیمانی بورڈ کا خواہاں ہوں جس میں مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں عمران خان کے مخلص اور نظریاتی کارکنوں کی نمائندگی شامل ہو، تاکہ پارٹی کے لیے بہترین اور دانشمندانہ فیصلے کیے جا سکیں۔ہم جلد ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مکمل لائحہ عمل کارکنان کے سامنے پیش کریں گے اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب اس فیصلے کو ٹھیک نہیں کیا جاتا۔