غفلت کی بھینٹ چڑھتا ایک خواب سعد رشید عباسی

125

تحریر: نعیم الحسن نعیم
آزاد کشمیر کے نوجوان جب اپنے خوابوں کی تعبیر بہتر تعلیم باعزت روزگار اور روشن مستقبل کی امید لیے پاکستان کے مختلف شہروں کا رُخ کرتے ہیں تو ان کے دل میں ایک یقین ہوتا ہے کہ وہ وطنِ عزیز میں ہیں جہاں انہیں تحفظ ملے گا موقع ملے گا عزت ملے گی۔ مگر ہر گزرتا دن ان امیدوں کو روند رہا ہے۔ کبھی کسی کشمیری نوجوان کو گولیوں کا نشانہ بنا کر خاموش کر دیا جاتا ہے تو کبھی سڑکوں پر کسی بے رحم ڈرائیور کی لاپرواہی اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہے۔ یہ حادثے نہیں یہ ایک خطرناک خاموشی کی گواہی دیتے ہیں ایک ایسا المیہ جو بار بار دہرا رہا ہے مگر کسی ادارے کسی حکومت کسی ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں رہا۔ کیا کشمیری نوجوانوں کا خون اتنا ارزاں ہے کہ ان کی لاشیں صرف اعداد و شمار بن کر دفن ہو جائیں؟ کیا ان کی قربانیوں محبتوں اور وفاداریوں کا یہی صلہ ہے کہ ان کے قاتل آزاد گھومتے رہیں اور ریاستی ادارے بےحسی کی چادر اوڑھے سوئے رہیں؟ یہ وہی نوجوان ہیں جنہوں نے ہر موقع پر پاکستان کے پرچم کو سینے سے لگایا جسے دوسرا گھر کہا جس کے لیے نعروں سے لے کر جان دینے تک کوئی قربانی کم نہ سمجھی .

آزاد کشمیر کی حکومت کی مسلسل خاموشی پاکستان کے متعلقہ اداروں کی بےحسی اور انصاف کے نظام کا گہرا تعطل یہ ظاہر کرتا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کی زندگی اور موت کسی ایجنڈے میں شامل نہیں۔ آزاد کشمیر کے نوجوان جب اپنے سینے میں امیدوں کے چراغ لیے پاکستان کے شہروں کا رُخ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ صرف بیگ نہیں خواب ہوتے ہیں عزتِ نفس تعلیم روزگار اور ایک روشن کل کے خواب۔ مگر افسوس ان خوابوں کی تعبیر اکثر خون میں نہلا دی جاتی ہے۔31 دسمبر کو مظفرآباد کے ہونہار نوجوان سعد رشید عباسی کو راولپنڈی میں ایک کوسٹر ڈرائیور نے کچل دیا۔ وہ لمحہ صرف ایک نوجوان کی سانسیں نہیں لے گیا وہ اس نظام کا نقاب بھی اتار گیا جس نے کشمیری نوجوانوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر طمانچہ ہے۔ سعد کسی ماں کی آنکھوں کا نور کسی باپ کا سہارا کسی بہن کی مسکراہٹ کسی دوست کی دعاؤں کا مرکز تھا۔ وہ خواب لے کر نکلا تھا مگر واپسی تابوت میں ہوئی۔ایک غفلت ایک لاپرواہی ایک درندہ صفت ڈرائیور کی بے حسی نے اُس کی پوری زندگی چھین لی۔

یہ صرف حادثہ نہیں یہ کھلی درندگی ہے یہ ایسا قتل ہے جس میں نہ خنجر تھا نہ گولی صرف سڑک پر پھیلی بے حسی تھی۔اس قتل میں صرف وہ ڈرائیور نہیں بلکہ وہ نظام بھی شریک ہے جو بغیر لائسنس کے گاڑیاں سڑک پر دوڑنے دیتا ہے جو قاتلوں کو تحفظ دیتا ہے جو غریب کی لاش پر بھی خاموش رہتا ہے۔کیا سعد کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک عام گھرانے سے تھا؟ کیا اُس کی جان اتنی ارزاں تھی کہ قاتل آج بھی آزاد گھوم رہا ہے؟ نہیں ہم اسے محض ایک حادثہ کہہ کر بھول نہیں سکتے۔ہم یہ سوال بار بار اٹھائیں گے چیخ چیخ کر کہیں گے کہ سعد کو انصاف دو۔ ورنہ یاد رکھو ایک دن تمھاری خاموشی خود تمھارا جرم بن جائے گی۔سعد رشید ایک روشن ستارہ تھا جس نے اپنی کم عمر زندگی کو انسانیت کی خدمت کے عظیم مقصد کے لیے وقف کر دیا۔ اس نے چمن ہیومنٹی ویلفئیر فاؤنڈیشن کے ذریعے نہ صرف بے سہارا اور محتاج لوگوں کی مدد کی بلکہ اپنے خلوص محبت اور قربانی سے ہر دل میں ایک خاص جگہ بنائی۔ وہ نوجوان جس نے نہ صرف اپنے گھر والوں کے خوابوں کو زندہ رکھا بلکہ پورے معاشرے کے لیے روشنی کی کرن بھی بنا۔

اس کی یاد میں وہ جذبہ اور انسانیت کا وہ درس ہمیشہ زندہ رہے گا جو اس نے اپنے عمل سے دیا۔ سعد رشید کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر دل صاف اور مقصد مقدس ہو تو زندگی کی ہر منزل روشن ہو جاتی ہے۔ اس کی داستان درد و جذبے کی ایک لازوال کہانی ہے جو ہمیشہ دلوں کو جھنجھوڑتی رہے گی اور ہمیں انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی رہے گی۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں یہ ایک جیتی جاگتی زندگی کا بےرحم قتل ہے۔ ستم یہ کہ شروع میں ڈرائیور آزاد گھومتا رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کوئی پرسان حال نہ تھا نہ کوئی ادارہ جاگا نہ کسی افسر نے ذمے داری محسوس کی۔ مگر جب سعد کے اہلِ خانہ نے جب آزاد کشمیر کے باہمت نوجوانوں نے سول سوسائٹی نے احتجاج کا علم بلند کیا تب کہیں جا کر قانون کی آنکھ کھلی تب کہیں جا کر ایک گرفتاری عمل میں آئی۔لیکن سوال اب بھی اپنی جگہ پر ہے کیا یہی ہے انصاف؟ کیا ہر مقتول کے لواحقین کو انصاف مانگنے کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے گا؟ کیا کشمیری نوجوانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا صرف احتجاج کرنے والوں کو ہی قانون جواب دیتا ہے؟

سعد ایک فرد نہیں تھا وہ ایک امید تھا۔ آج وہ نہیں رہا مگر اس کا سوال باقی ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے مکمل اور شفاف۔ اور ہمیں وہ پاکستان چاہیے جہاں ہر کشمیری نوجوان خود کو محفوظ سمجھے جہاں اس کی جان اس کا وقار اور اس کا خواب کسی بے رحم پہیے کے نیچے نہ روند دیا جائے۔سعد رشید عباسی کی جان جانا نہ صرف ایک غمگین حادثہ ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی اس بے حسی اور لاپرواہی کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے جو ہمارے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں نمایاں کمی کا باعث بنی ہے۔ سعد ایک زندہ باشعور اور محبت کرنے والا نوجوان تھا جو نہ صرف اپنے گھر کا سہارا تھا بلکہ اپنی پوری نسل کی امید بھی۔ اُس کی زندگی کا چراغ کسی غفلت اور بے رحمی کی وجہ سے اتنی آسانی سے بجھ جانا ناقابلِ قبول ہے۔یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک قتل ہے جو نہ صرف اس کوسٹر ڈرائیور کی بے احتیاطی اور غیر ذمہ داری کا نتیجہ ہے بلکہ اس نظام کی بھی ناکامی ہے جو ایسے واقعات کو روکنے کے لیے موثر کردار ادا کرنے میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

اگرچہ دیر سے ہی سہی ڈرائیور کی گرفتاری ممکن ہوئی مگر سوال یہ ہے کہ انصاف کا معیار اتنا کم کیوں ہے کہ ایک نوجوان کی جان کی حفاظت نہ ہو پائی؟ہم سب پر لازم ہے کہ سعد کی قربانی کو رائیگاں نہ جانے دیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر عہد کریں کہ اپنی نسل کو اس طرح کی غفلت اور ناانصافی سے بچائیں گے۔ ہر والدین بہن بھائی اور قوم کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائے۔ سعد کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے تاکہ آئندہ کسی ماں کا بیٹا باپ کا لاڈلا بہن کا مان اس دردناک انجام سے نہ گزرے۔یہ عہد محض ایک الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہمارے درد غم اور امید کا اظہار ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ قائم کریں گے جہاں ہر نوجوان کو زندگی کا حق پورے احترام کے ساتھ میسر ہو۔ سعد کی جان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور یہ قوم انصاف کے حصول تک خاموش نہیں رہے گی۔آئیں سعد کے دکھ کو اپنی طاقت بنائیں اور اس قوم کی غیرت کو جگائیں کہ کوئی بھی نوجوان اس طرح ظلم و ناانصافی کا شکار نہ ہو۔

یہ وقت ہے جدوجہد کا وقت ہے انصاف کا اور وقت ہے سعد کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا۔اللہ رب العالمین سعد رشید عباسی کو اپنی رحمتوں کی وسعت میں جگہ عطا فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام بخشے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور ہم سب کو ہمت دے کہ ہم انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کریں اور ایسے المناک واقعات کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں