فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی میڈیا میں تحسین،پاکستان کے قومی وقار میں اضافہ اور ریاستی ہم آہنگی کا نیا باب

63

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
پاکستان کی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب ریاست، سیاست اور سلامتی ایک ہی قومی سمت میں ہم قدم نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی ایک دور میں آج پاکستان کھڑا ہے، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت کو عالمی میڈیا میں غیر معمولی تحسین حاصل ہو رہی ہے، اور یہ تحسین محض کسی فرد کی نہیں بلکہ پوری ریاستِ پاکستان کے وقار، استحکام اور سنجیدہ قومی طرزِ فکر کی عکاس بن چکی ہے۔عالمی اخبارات، دفاعی جرائد، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی مبصرین اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان کی عسکری قیادت اب محض دفاعی ردِعمل تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک واضح، متوازن اور ذمہ دار تزویراتی وژن کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو میدانِ جنگ، نظریاتی محاذ اور سفارتی حساسیت تینوں کو یکجا کر کے قومی سلامتی کی تشکیل نو کر رہے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ عالمی تحسین کسی خلا میں پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کے اندر ریاستی ہم آہنگی، سیاسی بالغ نظری اور آئینی استحکام کی وہ فضا ہے جس نے پاکستان کو ایک بار پھر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔
نواز شریف کی فکری رہنمائی اس پورے منظرنامے میں ایک مضبوط فکری ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔

تین بار وزارتِ عظمیٰ کے تجربے، عالمی قیادت سے روابط، اور ریاستی تسلسل پر یقین رکھنے والی سوچ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ قومی سلامتی محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور معاشی اعتماد سے جڑی ہوتی ہے۔ نواز شریف کی یہ سوچ کہ ریاست کو تصادم نہیں، استحکام درکار ہے، آج عملی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اس فکری تسلسل کا عملی اظہار ہے۔ شہباز شریف نے جس انتھک محنت، انتظامی گرفت اور عالمی سطح پر سنجیدہ سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن کے خطرے سے نکالا، اس نے ریاستی اداروں کے لیے ایک مستحکم میدان فراہم کیا۔ عالمی مالیاتی اداروں سے معاملات ہوں، دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہو یا اندرونی معاشی نظم و ضبط ہر محاذ پر وزیراعظم کی فعالیت نے پاکستان کے بیانیے کو مضبوط کیا۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی۔ مغربی دفاعی تجزیہ کار اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں محض آپریشنل کامیابیوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک نظریاتی اور ریاستی بیانیہ تشکیل دیا ہے۔ “ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے” جیسے جملے محض جذباتی نعرے نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہیں کہ عسکری قوت عوامی اعتماد سے جڑی ہوئی ہے، نہ کہ سیاسی مداخلت سے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ بیانات، ان کی کور کمانڈرز کانفرنسز میں کی گئی گفتگو اور پاک فوج کے ترجمان کے ذریعے سامنے آنے والا بیانیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان اب داخلی انتشار یا ہائبرڈ وار کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ یہی اعتماد عالمی میڈیا میں پاکستان کے نئے تاثر کی بنیاد بن رہا ہے۔اس پورے عمل میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اسحاق ڈار نے ایک ایسے وقت میں سفارت کاری کی باگ ڈور سنبھالی جب پاکستان کو نہ صرف معاشی چیلنجز بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اعتماد کی کمی کا سامنا تھا۔ انہوں نے دوست ممالک، خلیجی ریاستوں، چین، یورپی یونین اور عالمی اداروں کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔عالمی دارالحکومتوں میں اس بات کو سنجیدگی سے نوٹ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب متوازن، غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ بنیادوں پر استوار ہے۔ اس سفارتی ماحول نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری قیادت کو عالمی سطح پر قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد بنایا۔یہ محض اتفاق نہیں کہ عالمی میڈیا ایک ہی سانس میں پاکستان کی عسکری قیادت، سیاسی حکومت اور سفارتی سمت کو ایک مربوط ریاستی ماڈل کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو پاکستان کے قومی وقار میں اضافے کی اصل بنیاد بنتا ہے۔

پاکستان ماضی میں بھی عسکری طور پر مضبوط رہا، مگر آج کی خصوصیت یہ ہے کہ عسکری طاقت، سیاسی قیادت اور سفارت کاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بن چکی ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عالمی سطح پر ایک مختلف اور مؤثر عسکری رہنما کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔قومی سلامتی اب بندوق کے دہانے سے نہیں بلکہ ریاستی نظم، آئینی حدود اور عوامی اعتماد سے عبارت ہو چکی ہے۔ عالمی میڈیا کی تحسین دراصل اسی تبدیلی کا اعتراف ہے۔یہ وقت پاکستان کے لیے خود احتسابی کا بھی ہے اور خود اعتمادی کا بھی۔ اگر یہ ریاستی ہم آہنگی، یہ سیاسی سنجیدگی اور یہ عسکری توازن برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار، باوقار اور بااثر ریاست کے طور پر اپنی جگہ مستحکم کر سکتا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی تحسین دراصل پاکستان کے اس نئے قومی سفر کی علامت ہے.ایک ایسا سفر جس میں قیادتیں بدلتی نہیں، جڑتی ہیں ادارے ٹکراتے نہیں، ہم آہنگ ہوتے ہیں؛ اور ریاست کمزور نہیں، باوقار نظر آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں