تحریر : پروفیسر ڈاکٹر محمد بشارت
ادارہ علوم ارضی آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد
لوہار گلی لینڈ سلائیڈ مظفرآباد کو مانسہرہ سے ملانے والی انتہائ اہم اور مرکزی شاہراہ پر واقع ہے. اس لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے پچھلی تین دھائیوں میں درجنوں حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں کئ قیمتی جانیں ذائع ہوئ ہیں. علاوہ ازیں سڑک کی تباہی اور ٹریفک کے تعطل کی وجہ سے شدید مالی نقصانات اور نقل حمل میں شدید دشواری پیش آتی ہے.

شدید بارشوں میں محکمہ تعمیرات عامہ سڑک کو عارضی طور پر بحال تو کر دیتا ہے مگر مستقل بنیادوں پر حل کے لئے کوئ ٹھوس لائحہ عمل سامنے نہیں آسکا.
لوہار گلی لینڈ سلائیڈ کے ممکنہ حل کو زیر بحث لانے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس لینڈ سلائیڈ کے وقوع پذیر ہونے کی سائنسی وجوھات کیا ہیں؟ یہاں پر کس طرح کی چٹانیں موجود ہیں؟ اور ارضیاتی (Geology and Tectonics) کے اعتبار سے اس ایریا کی نوعیت کیا ہے؟

لوہار گلی اور اس سے ملحقہ علاقہ، گھڑھی حبیب اللہ سے چھتر دومیل تک، جو چٹانیں موجود ہیں ان کو ارضیاتی زبان میں Slates اور Shales کہا جاتا ہے جو کہ Precambrian ارضیاتی دور (545 ملین سال سے قبل) وجود میں آئیں. ایک طویل ارضیاتی دورانیہ میں ان چٹانوں میں زلزلوں اور شدید موسمی اثرات کی وجہ سے توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ کمزور پڑ جاتی ہیں. چونکہ مظفرآباد اور اس سے ملحقہ علاقہ جات کا شمار Tectonically active ایریاز میں ہوتا ہےجہاں پر دو ایکٹیو فالٹ لائنز؛ مظفرآباد و جہلم فالٹ اور دیگر فالٹس کی شاخیں موجود ہیں، لہذا یہاں پر لوہار گلی و دیگر لینڈ سلائیڈز کا ہونا ایک قدرتی امر ہے.
لوہار گلی لینڈ سلائیڈ کو ایک قدیمی سلائیڈ کے طور پر جانا جاتا ہے. مقامی آبادی کے مطابق یہ 1980 کی دھائ سے قبل کی ہے جو بعد ازاں 2005 کے زلزلہ کی وجہ سے انتہائ خطرناک شکل اختیار کر گئ. علاوہ ازیں مون سون و شدید بارشوں کے موسم میں لینڈ سلائیڈ کا متاثرہ حصہ مذید بڑھتا گیا. اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف مظفرآباد اور مانسہرہ کے درمیان ٹریفک معطل رہتی ہے بلکہ اطراف کی آبادی کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں.
مندرجہ بالا حالات کے پیش نظر آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد، شعبہ جیالوجی سے منسلک تحقیقاتی ٹیم اور دیگر تحقیق کاروں کے اشتراک سے لوہار گلی لینڈ سلائیڈ کی سائنسی وجوھات اور اس پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو جانچنے اور مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہی کے لئے National Centre of GIS and Space Applications (NCGSA) کے تعاون سے 2022 میں ایک ریسرچ پراجیکٹ کا آغاز کیا.
اس پراجیکٹ کے تحت جدید سائنسی طریقوں کو بروئے کار لایا گیا ہے جن میں UAV Surveys, InSAR Time Series Analysis, Geophysical and Geotechnical Surveys, Geomorphological Mapping اور Slope Stability Analysis شامل ہیں. ابتدائ تحقیقات کے مطابق لوہار گلی لینڈ سلائیڈ ایریا میں InSAR Analysis میں 2014 سے 2021 کے درمیان قابل ذکر حرکت دیکھی گئ ہے جس میں 2021 کے بعد تیزی آئ ہے.
2023 میں کئے گئے UAV (ڈرون) سرویز کے مطابق لینڈ سلائیڈ ایریا میں 6 میٹر تک حرکت ریکارڈ کی گئ ہے. جیوفیزکل اور جیوٹیکنیکل سرویز کے مطابق لینڈ سلائیڈ ایریا میں موجود چٹانیں انتہائ نازک اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں. زیر زمین 10 سے 50 میٹر کی گہرائ میں بڑے شگاف موجود ہیں جن میں پانی کی. موجودگی پائ گئ ہے. اس طرح لینڈ سلائیڈ کے مختلف زونز میں 12 سے 37 میٹر کی گہرائ میں Slip Surface کی نشاندہی کی گئ ہے جس پر اوپری زمین کھسک رہی ہے.
ان تحقیقات کی روشنی میں لوھار گلی لینڈ سلائیڈ کو تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے.
پہلا زون دریائے جہلم کے مغربی کنارے سے شرع ہو کر موجودہ مرکزی شاہراہ تک جاتا ہے. یہ حصہ انتہائ ڈھلوان ہونے کے ساتھ مختلف قدرتی Drainage پر مشتمل ہے جو شدید بارشوں میں لینڈ سلائیڈ میٹیریل کو دریائے جہلم تل لے جانے کا سبب بنتا ہے.
مرکزی شاہراہ سے اوپر والا ڈھلوان حصہ انتہائ خطرناک زون میں شمار کیا گیا ہے جہاں پر چٹانیں شدید توڑ پھوڑ کا شکار ہیں اور سرکنے کا عمل تیزی سے جاری ہے. مذید برآں سڑک کی بحالی کے لئے مذکورہ حصہ کی بنیاد (Toe) کو ہٹا دیا جاتا ہے جس سے سرکنے عمل مذید تیز ہو جاتا ہے. تیسرا حصہ لوہار گلی کی مقامی آبادی اور مکانات پر مشتمل ہے جو مختلف وجوھات کی بنیاد پر مسلسل دھنس رھا ہے جس کی وجہ سے کئ مکانات تباہ ہو چکے ہیں اور بقیہ کی تباہی کا خطرہ بدستور موجود ہے.
اسی حصہ سے سیورج و مکانات کا پانی بھی لینڈ سلائیڈ ایریا میں Drain ہوتا ہے جو سلائیڈنگ کے عمل کو تیز تر کرتا ہے.
لوہار گلی لینڈ سلائیڈ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر بذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں.
1. لوہار گلی لینڈ سلائیڈ ایریا میں سڑک کو وقتی طور پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیئے بند کر دیا جائے تا کہ کسی قسم کے جانی و مالی نقصانات سے بچا جا سکے.
2. مظفرآباد کو مانسہرہ سے منسلک کرنے کے لئے فوری طور پر متبادل روٹ کا تعین کیا جائے. ایک آپشن کے طور پر ایبٹ آباد روڈ پر کسی مناسب مقام سے لوھار گلی لینڈ سلائڈ کے عقب سے 1.5 سے 2 کلومیٹر bypass road بنائ جا سکتی ہے.
3. لوہار گلی لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ آبادی کا انخلاء فوری طور پر عمل میں لاکر ان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے.
4. ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو جدید سائنسی اور انجینئرنگ بنیادوں پر لوھار گلی لینڈ سلائیڈ کو محفوظ بنانے کے لئے قابل عمل تجاویز/ ڈیزائن پیش کرے.
5. لوہار گلی ایریا میں ہر قسم کی کٹنگ پر پابندی عائد کی جائے.
6. لینڈ سلائیڈ ایریا میں نکاسی آب کا مناسب بندوبست کرتے ہوئے بارش، سیوریج اور گھروں کے پانی کو مناسب طریقے سے لینڈ سلائیڈ سے باہر منتقل کیا جائے.
7. مقامی آبادی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے جدید سائنسی تحقیق کی بنیاد پر Early Warning System کی تنصیب عمل میں لائ جائے.