تحریر: نعیم الحسن نعیم
ہماری کشمیری تہذیب وہ روشن تنور ہے جس نے صدیوں تک حیا وقار سادگی اخلاق اور انسان دوستی کے وہ جذبے پیدا کیے جن سے نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پوری دنیائے انسانی نے سیکھا ہے۔ کشمیر صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ایسی روح ہے جو انسان کے دل میں عزت غیرت وفا شرافت اور بزرگوں کے اخلاقی اصولوں کی روشنی پھیلاتی رہی ہے۔یہ سرزمین اُن شہداء کی سرزمین ہے جنہوں نے طاقت ظلم اور جبر کے سامنے غیرت اور وقار کو نہیں بیچا۔ وہ زمین ہے جس پر زلزلے آفتوں اور مشکلات کے باوجود لوگ اپنے ہنر ثقافت اور تہذیب سے کھڑے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری معاشرہ دنیا بھر میں اپنی پاکیزگی اخلاقی اقدار مذہبی حیا اور انسانی وقار کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔لیکن آج ایک ایسا فتنے کی لہر خاموشی سے ہمارے معاشرے میں سر اٹھا رہی ہے جو ہماری اقدار کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے اور ہماری روحانی عمارت کو خطرناک انداز میں کمزور کر رہی ہے۔گزشتہ چند سالوں میں ہم نے اپنے باشندوں کے دلوں شہریوں کی نظروں اور نوجوانوں کے ذہنوں پر چھائی ایک ناپسندیدہ تبدیلی دیکھی ہے۔ شہر کے بازاروں میں کپڑوں کی دکانوں کے باہر ایسے ماڈلز اور مانکیئنز کی نمائش کی جا رہی ہے جو نہ صرف بےحیائی کی عکاس ہیں بلکہ ہمارے دلوں اور ذہنوں میں ایک گہرے زہر کو جذب کر رہی ہیں۔یہ مانکیئنز اگرچہ بنیادی طور پر کپڑوں کی نمائش کا ذریعہ ہیں لیکن ان پر استعمال کی جانے والی تصویریں ادائیں پوز اور انداز انسانی شعور میں ایک خطرناک تبدیلی کا پیش خیمہ بن رہے ہیں جیسے ہم کسی بت پرستی کے کدے میں داخل ہوچکے ہوں نہ کہ ایک مہذب شریف اور تہذیب یافتہ معاشرے کے سنجیدہ بازار میں۔
یہ منظر کسی کو معمولی نہیں لگنا چاہیے کیونکہ یہ صرف دکھاوے کی تصویریں نہیں ہیں یہ ہمارے دل ذہن اور تہذیبی شعور پر ایک خاموش حملہ ہیں۔ یہ نہ صرف نظر کو چبھتی ہیں بلکہ دل میں ایک عجیب سی کراہت پیدا کرتی ہیں جیسا کہ کسی نے ہمارے کلچر اور انسانی وقار کا مذاق اڑایا ہو۔بازاروں کے باہر لگے بڑے بڑے بینرز اور ہولڈنگ بورڈز پر مردوں اور خاص طور پر عورتوں کی بے پردہ بے حیائی پر مبنی تصاویر ایسی بے لگام انداز میں دکھائی دیتی ہیں کہ انسان کو غور کرنا پڑتا ہے کہ کیا ہم واقعی اپنے کلچر اپنی اقدار اور اپنی شناخت کو اس طرح بدلنے پر راضی ہیں؟یہ اشتہارات صرف اشیاء کی تشہیر نہیں کرتے۔یہ عورت کو بطورِ پروڈکٹ پیش کرتے ہیں جیسے عورت کا وجود بھی مصنوعی سامان ہو۔ یہ نگاہوں کو جھکنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایک ایسی بے سکونی کا احساس دلاتے ہیں جو ظاہر سے زیادہ اندر تک اتر جاتا ہے۔یہ صرف کاروباری حربے نہیں یہ فکری انتشار ثقافتی انتشار اور انسانی تقدس کو زبردستی تبدیل کرنے کا عمل ہے۔یہ پاکستان اور خاص طور پر کشمیر کے لیے پریشان کن علامت ہے کیونکہ عورت ہمارے معاشرے میں عزت وقار محبت اور خاندان کی محافظ ہوتی ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنی ماں بہن اور بیٹیوں کے تقدس کو اپنے دلوں کی سب سے قیمتی خزانه رکھا ہے۔ لیکن جب وہی وجود بازاروں میں بےپردگی کی علامت بن کر پیش ہوتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ ہم اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ فحاشی صرف کاروبار کا معاملہ نہیں کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف کاروبار ہے اشتہار بازی ہے یا مارکیٹنگ کا نیا رجحان ہے۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔یہ ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے خطرہ ہے۔ ہماری آنے والی نسلوں کے نظریاتی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہماری ثقافتی شناخت کو دھچکا دیتا ہے۔ ہماری دینی و اخلاقی اقدارگ کو ختم کرنے کی ایک خاموش چال ہے۔جب ہم اپنے نوجوانوں کی نگاہوں کو ان تصویروں کے سامنے کھلا چھوڑ دیتے ہیں، تو ہم انہیں معاشرتی ضوابط اخلاق اور تہذیب سے دور کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ نوجوان گھٹیا اور بےمعنی چیزوں میں خود کو کیوں کھو بیٹھتے ہیں؟ یہ صرف اشتہارات کا مسئلہ نہیں یہ اخلاقی زوال کا مسئلہ ہے. یہ وہ معاشرہ ہے جو اپنی ماں کو ماں کہتا ہے اپنی بہن کو عزت دیتا ہے اپنی بیٹی کو مستقبل کی امید سمجھتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عزت و حیا کے نام پر قربانیاں دی ہیں اور آج وہی عزت و حیا ایک خطرناک لہر کے سامنے کمزور پڑ رہی ہے۔یہ سرزمین وہ جگہ ہے جہاں انسانیت غیرت شرافت اور وقار کو ثقافتی بنیادوں پر تسلیم کیا جاتا تھا لیکن اگر ہم نے آج عورت کو صنعتی یا تجارتی نکتہ نظر سے دیکھا اگر ہم نے بیٹی بہن یا ماں کو کسی پروڈکٹ کی طرح آویزاں کیا اگر ہم نے پاکیزگی کی جگہ بےحیائی کو قبولیت دی تو ہم اپنی انسانی شناخت اپنی دل کی پاکیزگی اور اپنی ثقافتی اقدار کو قرض پر دے رہے ہیں۔
یہ صرف اتفاق نہیں ہے کہ بازاروں میں بےحیائی اور بے پردگی بڑھ رہی ہے۔یہ ایک منظم اور مہلک ذہنی رخ ہے جس نے مغربی ثقافتی پیغام رسانی تجارتی مارکیٹنگ کی بے لگام شکلیں اور منفعت کو ہر چیز سے زیادہ ترجیح دینے والے رویوں کو اپنایا ہے۔یہ رجحان ہمارے معاشرتی تربیت کے اصولوں کے خلاف ہے ہمارے خاندانوں کے تربیتی نظام سے متصادم ہے- یہ مسئلہ صرف تاجروں کا نہیں نہ صرف والدین کا ہے نہ صرف مذہبی رہنماؤں کا یہ ہر ایک فرد ادارہ تنظیم اور ذمہ دار شہری کا مسئلہ ہے۔علمائے کرام آپ اپنی تقریروں خطبات اور موثر پیغامات کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کریں۔انتظامی ذمہ داران سول انتظامیہ مارکیٹنگ اتھارٹیز اور ضابطہ نافذ کرنے والے ادارے جب سے مارکیٹنگ کی آزادی کو بے لگام چھوڑ دیا ہے تب سے یہ فحاشی بڑھ رہی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ایسے اشتہارات کے خلاف قوانین کو مضبوط بنایا جائے اور ایسی نمائشوں کو روکا جائے جو معاشرے کی حیا اور وقار کے خلاف ہوں۔صحافی حضرات وہ نگاہ جو سچائی کو سامنے لاتی ہے۔ آج یہی وقت ہے کہ آپ اس موضوع پر سنجیدہ رپورٹنگ کریں تحقیق پیش کریں گفتگو کا عوامی فورم بنائیں اور بےحیائی کے خلاف ایک موثر پلیٹ فارم فراہم کریں۔تاجران و دکاندار سب سے اہم حلقہ آپ کا ہے کیونکہ آپ بازاروں میں نقش بناتے ہیں۔کاروبار کا مقصد صرف منافع نہیں یہ معاشرے کی بہتری عزت اورے ثقافتی شناخت کی حفاظت بھی ہے۔ جب آپ اپنی اشیاء کی تشہیر محترم وقارمند مہذب اور حیا کے دائرے میں رہ کر کریں گے تو اس سے نہ صرف آپ کا کاروبار فائدہ ہوگا بلکہ معاشرتی احترام اور اخلاقی قدروں کو بھی محفوظ رکھا جا سکے گا۔
اب ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا بازاروں میں بےحیائی کے اشتہارات قبول نہ کیے جائیں عورت کو بطورِ پروڈکٹ پیش نہیں کیا جائے ہر دکان ہر شاپنگ ایریا ہر بینر حیا اور وقار کے دائرے میں ہو صحافتی ادارے اس موضوع کو مسلسل اجاگر کریں علماء کرام لوگوں کے ضمیر کو جگانے میں کردار ادا کریں انتظامیہ قوانین کے تحت بےحیا اشتہارات کے خلاف سخت ایکشن لے تو ہم نہ صرف ایک زبردست معاشرتی تبدیلی دیکھیں گے بلکہ اپنے کشمیر کو اس کی حقیقی خوبصورتی وقار اور پاکیزگی کی حالت میں دوبارہ جیتا جا سکے گا۔یہ مسئلہ صرف معاشی یا اشتہاری تنازعہ نہیں یہ آنے والی نسلوں کی تربیت کا سوال ہے۔ اگر آج ہم نے حیا کو محفوظ رکھا اگر آج ہم نے عورت کو عزت سے دیکھااگر آج ہم نے بازار کو وقار کا مرکز بنایا تو ہم نے دراصل اپنے کشمیری کلچر کی عظمت کو بچایا.اور جب ہم نے اپنی تہذیب کو بچا لیا تو ہم نے اپنے ایمان اپنے خاندان اپنے دل اپنے سماج اور اپنے خدا کے حکم کو بھی بچایا.