اسلام آباد ( سیدہ ندرت فاطمہ ) دنیا بھر پر پالیسی بیانات جاری کرنے کیلیے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے محکمہ خارجہ میں مختلف زبانوں کے مترجم موجود ہوتے ہیں ، امریکی محکمہ خارجیہ میں جہاں دنیا بھر کے مختلف علاقائی امور کے حوالےسے منظم گروپس کام کرتے ہیں وہیں پالیسی سازی کے عمل میں دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا کردار بہت اہم ہے جو اعزازی یا مستقل اراکین پر مشتمل گروپس کی صورت میں بدلتی بگڑتی صورتحال پر مواد جمع کرتے ہیں اور اسے محکمہ خارجہ کے اعلی حکام تک پہنچاتے ہیں امریکی محکمہ خارجہ میں عربی زبان کی ترجمان ہالا رہر رِٹ غزہ جنگ کے معاملے پر بدھ کے روز استعفی دینے والی امریکی صدر جو بائیڈن انتظامیہ کی تیسری عہدیدار ہیں،ہالا رہر رِٹ سن 2006 میں امریکی فارن سروس میں بطور پولیٹیکل اور انسانی حقوق افسر کے طور پر شامل ہوئی تھیں۔ وہ دبئی ریجنل میڈیا ہب کی ڈپٹی ڈائریکٹر بھی تھیں۔ واضح رہے امریکہ کے محکمہ خارجہ کی عربی زبان کی ترجمان نے غزہ کے بارے میں بائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے جمعرات کو استعفیٰ دے تھا، اس سے قبل 2 مزید افسران نے بائیڈن انتظامیہ کی غزہ پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے استعفے دیدیے تھے۔
ہالا نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ لنکڈ اِن پر لکھا ”میں نے امریکہ کی 18 سال خدمت کرنے کے بعد غزہ پالیسی کی مخالفت میں اپریل 2024 میں استعفیٰ دے دیا۔‘‘انہوں نے اپنے پیغام میں مزید لکھا، ”اسلحہ نہیں ڈپلومیسی اختیار کریں اور امن اور اتحاد کے لیے طاقت بنیں۔‘‘امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے جب ہالا کے استعفی کے متعلق جمعرات کے روز پریس بریفنگ میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ محکمہ خارجہ میں کام کرنے والوں کے پاس ‘حکومتی پالیسی سے اختلاف‘ کے اظہار کے لیے چینل موجود ہے۔اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن کی اسرائیل کی حمایت میں بنائی گئی پالیسی سے اختلاف پرامریکی محکمہ خارجہ کی انسانی حقوق کے لیے مقرر کردہ آفیسر اینیل شیلین 27 مارچ کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئیں تھیں۔اینیل شیلین نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔اینیل شیلین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی انتظامیہ اسرائیل کو مسلح کرنے کا سلسلہ جاری رکھ کر امریکی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی وکالت کرنے کی کوشش کرنا اب میرے لیے محض ناممکن ہو گیا ہے اور میں ایسی صورتحال میں اپنا کام کرنے کے قابل نہیں تھی۔اینیل شیلین کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت موجود ہونے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔اینیل شیلین کا کہنا تھا کہ میری ایک بیٹی ہے جو ابھی چھوٹی ہے لیکن اگر مستقبل میں کسی دن اسے یہ سب کچھ پتہ چلے گا کہ میں محکمہ خارجہ میں تھی تو مجھ سے سوال کرے گی اور میں اس وقت اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتی۔
اس سے قبل ،جنوری 2024 میں امریکی محکمہ تعلیم کے دفتر برائے منصوبہ بندی، تشخیص اور پالیسی کے معاون خصوصی طارق حبش نے سیکرٹری تعلیم میگوئل کارڈونا کو اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا،استعفے میں مستعفی افسر نے لکھا تھا کہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی زندگیوں پر ہونے والے مظالم پر امریکی صدر اور انتظامیہ کی آنکھیں بند ہونے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا اور نہ اس عمل کا ساتھ دے سکتا ہوں۔طارق حبش نے مزید لکھا کہ انسانی حقوق کے سرکردہ ماہرین بھی اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم قرار دے رہے ہیں لیکن امریکی حکومت چپ سادھے ہوئے ہیں۔طارق حبش ایک فلسطینی نژاد امریکی ہیں جو طلباء کے لیے تعلیمی قرض اور اسکالر شپ کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور انھی صلاحیتوں کی بنیاد پر امریکی صدر جوبائیڈن نے طارق حبش کو محکمہ تعلیم میں معاون مقرر کیا تھا۔
غزہ پر امریکا کی پالیسی پر احتجاج کرتے ہوئے قبل ازیں اکتوبر 2023 میں اسی طرح اسرائیل نواز پالیسی پر وزارت خارجہ میں شدید اختلافات کا انکشاف ہوا تھا ،اکتوبر 2023 کو امریکی محکمہ خارجہ میں سیاسی و فوجی امور کے ڈائریکٹر جوش پال نے اپنے استعفیٰ میں لکھا تھا کہ ان کے لئے امریکی حکومت کی اسرائیل کو مسلسل فوجی امداد کی فراہمی کی پالیسی سے اتفاق کرنا ممکن نہیں ۔جو ش پال 11 سال سے امریکا کی جانب سے اپنے اتحادی ممالک کو ہتھیاروں کی فراہمی کے شعبے سے منسلک تھے۔انہوں نے کہا کہ و ہ مشرق وسطیٰ میں تنازعہ کے ایک فریق کو ہتھیار فراہم کرنے کی حمایت نہیں کر سکتے ۔ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے لیکن ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔جوش پال نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے مزید مصائب کا باعث بنے گا، جو کہ امریکا کے مفاد میں نہیں، لیکن چونکہ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے استعفیٰ دے دیا۔
نومبر 2023 میں امریکی محکمہ خارجہ میں اختلافات کی خبریں اس وقت منظر عام پر آئیں تھیں جب ، محکمہ خارجہ کے اہم عہدیداروں نے امریکی صدر جوبائیڈن اور سیکرٹری خارجہ انٹنی بلنکن کو خطوط کے ذریعے اپنے تحفظات سے اگاہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مشرق وسطی پر پالیسی سازی میں بائیڈن انتظامیہ محکمہ خارجہ کو نظر انداز کے ک سیاسی فیصلے کر رہی ہے جو کہ محکمہ خارجہ پر عدم اعماد کا ثبوت ہے۔اس معاملے پر نومبر2023 میں امریکی سیکرٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک خط میں اس اختلاف کی موجودگی کو تسلیم بھی کیا تھا۔یہ بھی واضح رہے ادھرامریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے ہزار سے زائد اہلکاروں نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے تھے جس میں بائیڈن انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔ ایک جانب امریکی انتظامیہ کو انتظامی عہدوں سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے وہں عوامی حلقوں سے بھی شدید رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے.
امریکی صدر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابی مہم کے عملے کے 17 ارکان نے ایک گمنام خط میں متنبہ کیا تھا کہ کہ امریکی صدر بائیڈن اس معاملے (غزہ پالیسی) کی وجہ سے ووٹرز کی حمایت کھو سکتے ہیںانتباہی خط میں مزید کہا گیا ہے کہ جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے عملے نے ایسے کئی ووٹرز کو بڑی تعداد میں ساتھ چھوڑتے ہوئے دیکھا اور جو دہائیوں سے جوبائیڈن کی جماعت کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔نیویارک ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں، پال نے یہ بھی کہا کہ “اسرائیل کو اپنے دشمنوں کی نسلوں کو مارنے کی کھلی چھوٹ دینے سے دشمنوں کی ایک نئی نسل تیار ہوجائے گی، جو بالآخر امریکہ کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں سے جو غلطیاں کرتی آرہی ہے وہ آج انہیں پھر دہرا رہی ہے لہذا وہ اس عمل کا مزید حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں۔