نوجوان ہماری شناخت، سرمایہ اور مستقبل

161

تحریر:راشد ہاشمی میڈیا کوآرڈینیٹر ” ٹیلنٹ پروموٹر گروپ پاکستان/ آزاد کشمیر
کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے وسائلِ قدرت، اسلحہ یا عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوان وہ توانائی، وہ جذبہ اور وہ صلاحیت ہیں جو قوموں کو عروج کی بلندیوں تک لے جاتی ہے یا غفلت و لاپرواہی کی صورت میں زوال کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کی شناخت، سب سے قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔

نوجوان ہماری شناخت اس لیے ہیں کہ ان کے افکار، کردار، زبان، تہذیب اور طرزِ عمل سے ہی دنیا کسی قوم کو پہچانتی ہے۔ اگر نوجوان باشعور، مہذب، بااخلاق اور مقصدِ حیات سے آگاہ ہوں تو قوم عزت و وقار کے ساتھ پہچانی جاتی ہے، اور اگر یہی نوجوان فکری انتشار، اخلاقی زوال اور بے سمتی کا شکار ہو جائیں تو پوری قوم کی شناخت داغدار ہو جاتی ہے۔

نوجوان ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں کیونکہ سرمایہ صرف پیسہ نہیں ہوتا، اصل سرمایہ انسانی صلاحیت ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ، ہنرمند اور باکردار نوجوان معاشی ترقی، سائنسی پیش رفت، فکری قیادت اور سماجی استحکام کی بنیاد بنتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے نوجوانوں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی پر سرمایہ کاری کی، وہ دنیا کی قیادت تک پہنچیں، اور جنہوں نے نوجوانوں کو نظر انداز کیا، وہ وقت کی دھول میں گم ہو گئیں۔

نوجوان ہمارا مستقبل اس لیے ہیں کہ آج کے نوجوان کل کے قائد، معمار، استاد، سائنسدان، سپاہی اور حکمران ہوں گے۔ اگر آج ان کی درست رہنمائی نہ کی گئی، اگر ان کے سوالات کے جواب نہ دیے گئے، اگر انہیں مثبت راستہ نہ دکھایا گیا تو کل کا مستقبل غیر یقینی، کمزور اور بحرانوں سے بھرا ہوگا۔ دوسری جانب اگر نوجوانوں کو اعتماد، مواقع اور مقصد دیا جائے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نوجوانوں کو اکثر صرف نعروں، تقریروں اور وعدوں تک محدود رکھا جاتا ہے، عملی طور پر انہیں نہ تو فیصلہ سازی میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان مایوسی، بے روزگاری، انتہا پسندی یا بے مقصد مصروفیات کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کسی بھی قوم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو صرف تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے رہنمائی، اعتماد اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ تعلیم کو مقصدیت دی جائے، روزگار کے راستے کھولے جائیں، اخلاقی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا جائے اور نوجوانوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس قوم کے بوجھ نہیں بلکہ طاقت ہیں۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم نے آج نوجوانوں کو سنوار لیا تو کل خود سنور جائے گا، اور اگر ہم نے نوجوانوں کو کھو دیا تو ہمارا مستقبل بھی ہم سے روٹھ جائے گا۔نوجوان ہماری شناخت بھی ہیں، سرمایہ بھی اور مستقبل بھی—بس شرط یہ ہے کہ ہم انہیں پہچانیں، سنبھالیں اور سنواریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں