راولا کوٹ (سٹیٹ ویوز)آزاد کشمیر کے عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ کچھ عناصر مبینہ طور پر افغانستان میں بیٹھ کر کشمیری نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک شخص، جسے “ڈاکٹر راؤف” کے نام سے پہچانا جا رہا ہے، جو افغانستان میں مو جود ہے، وہ آزاد کشمیر سے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر ورغلا کر ان سے بھاری رقوم وصول کرتا ہے اور بعد ازاں انہیں مشکلات اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حالیہ واقعے میں ایک نوجوان سے مبینہ طور پر 40 لاکھ روپے وصول کیے گئے اور پھر اسے کوئٹہ بلا کر گرفتار کروا لیا گیا ہے۔یہ پیغام۔افغا نستان میں مقیم راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک مجاہد نے سادہ لوح عوام اور انکے والدین کے نام پہنچایا ہے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص ڈاکٹر عبد الراوف ماضی میں پاکستان میں لوگوں کی جائیدادوں سے متعلق تنازعات میں بھی ملوث رہا اور بعد ازاں افغانستان منتقل ہوگیا۔ مزید یہ بھی کہاجا رہا ہے کہ وہ خود کو ایک کالعدم تنظیم کا رہنما ظاہر کرتا ہے اور نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سماجی و عوامی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف نوجوان نسل کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ خطے کے امن کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
عوامی نمائندوں اور معززین نے نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ یا مشکوک شخص کے جھانسے میں نہ آئیں اور اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں۔