وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی کامیاب حکومت

157

تحریر: جمیلہ خاتون
میاں محمد شہباز شریف نے میاں محمد نواز شریف کے ویژن کے مطابق ترقی کا جو ماڈل شروع کیا۔وہ ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔لیپ ٹاپ سکیم ہو یا دوسرے پراجیکٹ میاں محمد شہباز شریف نے ہر میدان میں عملی کام کیا ہے۔اس دور میں اگر ہم سفارتی میدان پر دیکھیں ۔تو ہم نے دنیا میں اپنا مقام پیدا کیا۔سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اور امریکی اور چین سے بہترین تعلقات اور جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے تعلقات شروع ہوئے۔یہ سفارتی میدان میں ہماری کامیابی ہے۔ہماری فوج اور فوج کے سپہ سالار چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر کی دنیا تعریف کررہی ہے۔اور اس موقع پر ڈپٹی وزیراعظم پاکستان و وزیر خارجہ پاکستان نے بہت اہم خوبصورت انداز میں دنیا میں سفارت کاری کے جھنڈے گاڑے۔اور پوری دنیا سے ہمارے بہترین تعلقات ہیں۔اور دنیا کے ممالک ہمارے ساتھ دفاعی معاہدے کررہی ہیں ۔سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے۔

اب کچھ صحت کے حوالے سے جو شہباز شریف وزیراعظم پاکستان نے کام کیا ہے۔اس کازکر بھی بہت ضروری ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں مہنگائی، غربت اور بنیادی سہولیات کی کمی عام شہری کے لیے روزمرہ کا مسئلہ ہے، وہاں بیماری کسی آفت سے کم نہیں ہوتی۔ علاج کے اخراجات لاکھوں خاندانوں کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باضابطہ اجراء ایک خوش آئند، تاریخی اور دیرپا اثرات کا حامل اقدام ہے۔صحت کسی بھی مہذب ریاست میں رعایت نہیں بلکہ بنیادی حق ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں طویل عرصے تک صحت کو طبقاتی تقسیم کا شکار رکھا گیا، جہاں امیر جدید ہسپتالوں اور بیرونِ ملک علاج تک رسائی رکھتا تھا جبکہ غریب سرکاری ہسپتالوں کی بدحالی اور مہنگی دواؤں کے رحم و کرم پر تھا۔ وزیراعظم صحت کارڈ اسی طبقاتی خلیج کو ختم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اشرافیہ کے لیے علاج کبھی مسئلہ نہیں رہا، مگر عام آدمی کے لیے بیماری سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ صحت کارڈ کے ذریعے ریاست پہلی بار یہ عملی پیغام دے رہی ہے کہ شہری کی عزت اور جان قیمتی ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی. کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں کروڑوں افراد محض بیماری اور علاج کے اخراجات کے باعث غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ صحت کارڈ پروگرام ان خاندانوں کے لیے ایک مضبوط حفاظتی ڈھال ہے. جو برسوں سے علاج اور دو وقت کی روٹی کے درمیان انتخاب پر مجبور رہے ہیں۔

600 سے زائد سرکاری و نجی ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت، شناختی کارڈ اور بچوں کے بی فارم کے ذریعے رسائی، اور گلگت سے گوادر تک یکساں سہولت کی فراہمی اس پروگرام کو محض ایک اسکیم نہیں بلکہ ایک قومی نظام بناتی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کے اس معیار کے قریب لے جاتا ہے جو ترقی یافتہ ممالک کی پہچان ہے۔تاہم کسی بھی بڑے منصوبے کی کامیابی کا دارومدار نیت کے ساتھ ساتھ شفافیت اور تسلسل پر ہوتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی ہدایت نہایت بروقت اور دانشمندانہ ہے، کیونکہ ماضی میں کئی اچھے منصوبے ناقص عملدرآمد اور بدانتظامی کی نذر ہو چکے ہیں۔ صحت جیسے حساس شعبے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔

صحت کارڈ پروگرام کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت اب صرف “سِک کیئر” کے تصور سے نکل کر مکمل ہیلتھ کیئر نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، جس میں بیماری سے بچاؤ، آگاہی اور بنیادی صحت کی سہولیات کو بھی مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اگر اس سوچ کو مستقل پالیسی کا درجہ دیا گیا تو پاکستان میں صحت کے مسائل کی جڑ پر ضرب لگائی جا سکتی ہے۔سندھ میں صحت کارڈ کے اجرا کی تجویز اور اس پر وزیراعظم کی آمادگی قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ صحت جیسے بنیادی حق کو صوبائی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ کراچی ہو یا کسی دور دراز کا گاؤں، ہر شہری کو علاج کی یکساں سہولت ملنا ہی حقیقی ریاستی فلاح ہے۔
بلاشبہ وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام پاکستان کے سماجی تحفظ کے نظام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھ کر شفاف، مسلسل اور عوام دوست انداز میں نافذ کیا جائے۔ اگر ایسا ہو گیا .تو یہ پروگرام نہ صرف لاکھوں جانیں بچائے گا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ بھی قائم کرے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں