ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا اجازت نامہ منسوخ، ہندو انتہا پسندوں کے دبائو کا نتیجہ

150

تحریر : محمد شہباز
وہی ہوا ،جس کا اندیشہ تھا۔بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کے کٹرا علاقے میں واقع ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کے سال 2025اور2026 ایم بی بی ایس کورس کا اجازت نامہ واپس لے لیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بظاہر ہندو انتہاپسند تنظیموں کا دباو کارفرما ہے، جنہوں نے میڈیکل کالج میں مسلمان طلبا کی خالصتا میرٹ پر داخلوں پر آسمان سر پر اٹھا یا تھا۔این ایم سی کے میڈیکل اسسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) نے اس اقدام کو تعلیمی معیار میں خامیوں اور مناسب انفراسٹرکچر کی کمی کے طور پر بیان کیا،جس سے کوئی ذی ہوش تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔مثلا میڈیکل کالج کی مختص50سیٹوں پر 42مسلمان اور ایک سکھ طالبعلم کو نیٹ Neetٹیسٹ میں واضح کامیابی کے بعد داخلہ ملا تھا۔میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھنے اور اس کیلئے بھارتی نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے جاری کردہ NOCمیں کہیں یہ نہیں لکھا گیا کہ کالج میں صرف ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر داخلہ دیا جائے گا۔کالج کے پہلے ہی بیچ میں 42مسلم طلبا نے میدان مار لیا،جو ہندو انتہا پسندوں کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔انہوں نے2025کے آواخر میں پورے جموں میں بالعموم اور کٹرا میں بالخصوص بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاج کیا ،جن میں ایک ہی مطالبہ کیا جارہا تھا کہ مسلمان طلبا کا داخلہ منسوخ کیا جائے۔یوں بھارت کے نیشنل میڈیکل کمیشن نے ہندو انتہاپسندوں کے مذموم عزائم کے عین مطابق کالج کا اجازت نامہ ہی منسو خ کرکے یہ واضح کیا ہے کہ بھارت کے تمام اداروں میں مسلمانوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

مودی اور اس کے حواری لاکھ چھپانے کی کوشش کریں،لیکن اہل کشمیر کی آنکھوں میں اب دھول نہیں جھونکی جاسکتی۔بھارتی نیشنل میڈیکل کمیشن کے اس فیصلے پر جموں کے ہندو انتہا پسندوں کے سوا ہر ایک مغموم اور مایوس ہے۔ظاہر ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور بھارتی فیصلے سے مسلمان ہی پریشان اور مایوس ہوں گے۔05اگست2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی صدیوں پرانی ریاست کیساتھ جو کھلواڑ کیا گیا،اس پر جموں کے ڈوگروں نے شادیانے تو بجائے تھے،لیکن وقت نے انہیں ہمیشہ کی طرح غلط ثابت کیا،جس کا وہ آج کھل کر اظہار کرتے ہیں۔ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلمان طلبا کا داخلہ منسوخی مسلم برادری کیلئے باعث تشویش سہی اور یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میرٹ کا قتل کیا گیا،البتہ جو ناعاقبت اندیش ہندو انتہا پسند اس حد درجہ ناانصافی اور مسلم دشمن اقدام پر خوشی منارہے ہیں ،آنے والے وقت میں انہیں اس کا بڑی شدت کیساتھ احساس ہوگا،کہ انہوں نے بھلائی کے مقابلے میں برائی کا انتخاب کیا ہے۔ڈاکٹرمذہب کی بنیاد پر علاج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا اور نہ ہی میڈیکل کی تعلیم میں ذات پات یا مذہب کی ترغیب یا ترویج کی جاتی ہے،مسلمان، جنہوں نے ہمیشہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق افراط و تفریط کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی خدمت میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا،آج ان کے بچے محض مسلمان ہونے کی بنیاد پر اپنی ہی سرزمین پر ہندو فسطائیت کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

مودی اور اس کے حواری بار بار اپنے مسلم دشمن اقدامات اور کھلے ایجنڈوں کے ذریعے یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسلم اکثریت مقبوضہ جموں وکشمیر بھارت کیلئے قابل قبول نہیں ہے،سیکولرازم اور جمہوریت کا ڈھول تو پیٹا جاتا ہے ،البتہ مقبوضہ جموں وکشمیر تک پہنچتے پہنچتے ان کا دم نکل جاتا ہے۔یہ ماضی میں بھی ثابت ہوچکا ہے اور آج بھی ثابت ہورہا ہے۔بھارتی حکمران ٹولہ گاندھی سے لیکر مودی تک کبھی کشمیری عوام کی فلاح و بہبود تو دور ان کی اپنی سرزمین پر انہیں چین سے رہنے دینا قبول نہیں ہے۔پنڈت نہرو نے سرینگر کے دل لالچوک میں اہل کشمیر کیساتھ وعدہ کیا کہ حالات بہتر ہوتے ہی انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا،آج تک موقع تو فراہم نہیں کیاگیا،الٹا مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے ڈالاگیا۔بھارتی حکمرانوں نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پوری دنیا کو گواہ ٹھہرا کر کشمیری عوام کیساتھ حق خود ارادیت کا وعدہ کیا،اور جب بھی اہل کشمیر نے ان وعدوں کی تکمیل کیلئے آواز بلند کرنے کی کوشش کی ،تو ان کے سینے گولیوں سے چھلنی کیے گئے۔ایسے میں محض ہندو نام اور ہندو علاقے میں قائم ہونے والے ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں مسلمان طلبا کی زیادہ تعداد کو بھارتی حکمران کیسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے۔یہ سفاکانہ اقدام ان بھارت نواز ملت فروشوں کیلئے چشم کشا ہے،جو بھارت کی جئے بھولنے سے گریز نہیں کرتے۔جو سفاک مودی کو اوتار بھی سمجھتے ہیں۔

اہل کشمیر خاموش سہی لیکن وہ بھارتی بربریت سے بخوبی واقف ہیں کہ مودی ان کیساتھ کون سا گھناونا کھیل کھیل رہا ہے۔ان کی زمینوں ،جائیداد واملاک پر قبضہ روز کا معمول ہے۔مسلمان کشمیری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف کرکے ان کی جگہ ہندوئوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔نت نئے قوانین کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے منصوبے طشت از بام ہورہے ہیں ،غیر ریاستی باشندوں بھارتی ہندوئوں کے حق میں لاکھوں کی تعداد میں ڈومیسائل کا اجرا عمل میں لایا جاچکا ہے۔ ایسے میں مودی اور اس کے قبیل سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کیلئے کوئی بھلائی کا کام کریں گے،عبث کے سوا کچھ نہیں ہے۔اس تناظر میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سراسر سیاسی دبا ئوکا نتیجہ ہے۔ کشمیری ماہرین تعلیم کے مطابق، جب مسلم طلبا کی بڑی تعداد نے میرٹ پر داخلے حاصل کیے، تو ہندو انتہاپسندوں نے اس پر کھلے عام مہم چلائی اور کالج انتظامیہ پر دبائو ڈالا۔اس فیصلے سے کشمیری مسلمانوں میں مزید مایوسی اور احساس محرومی پیدا ہوئی ہے۔ طلبا اور والدین کا خیال ہے کہ بھارت کشمیری نوجوانوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کرنے کیلئے مسلسل نت نئے حربے اختیار کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعلیم کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے.

تاکہ کشمیری مسلمانوں کی ترقی کو روکا جا سکے۔ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں زیادہ تر مسلمان طلبا کو میرٹ پر داخلہ ملا تھا، جو مودی حکومت کیلئے ایک چیلنج بن چکا تھا۔ اس کے بعد کالج کے اجازت نامے کو منسوخ کرنا دراصل کشمیری مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں پسماندہ رکھنے کی ایک اور منصوبہ بند کوشش ہے۔اس فیصلے نے واضح طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت کشمیری طلبا کیلئے میرٹ پر مبنی مواقع کو ترجیح دینے کے بجائے فرقہ وارانہ دبائو میں فیصلے کر رہا ہے۔تاکہ ہندو انتہا پسندوں کو خوش کیا جاسکے۔اس بات میں اب کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی منسوخی کے پیچھے مودی کا ہاتھ ہے ،جو ہر حال میں مقبوضہ جموں وکشمیر کیساتھ ساتھ پورے بھارت کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے۔چاہیے اس گھناونے مقصد کیلئے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے ہی مٹانے پڑے،یہ ظالم اسے بھی دریغ نہیں کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں