پاکستان: قومی قیادت کی یکسوئی، عالمی تغیرات اور پاکستان کی نئی اٹھان

150

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
دنیا اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت کے روایتی مراکز متزلزل، عالمی ادارے غیر مؤثر اور نئے اتحاد و فورمز تشکیل کے مرحلے میں ہیں۔ معاشی دباؤ، جغرافیائی کشیدگی، ہائبرڈ جنگیں اور سفارتی محاذ آرائیاں اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہیں۔ ایسے ماحول میں ریاستوں کی کامیابی کا دارومدار صرف وسائل پر نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، عسکری صلاحیت اور سفارتی حکمتِ عملی کی ہم آہنگی پر ہوتا ہے۔ پاکستان آج اسی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہےاور یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی سیاسی و عسکری قیادت کی مکمل یکجہتی ہے۔ریاستی تسلسل، قومی مفاد اور معاشی حقیقت پسندی کے تناظر میں میاں محمد نواز شریف کا وژن آج بھی قومی پالیسی کی فکری بنیاد کے طور پر نمایاں ہے۔ ان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ مضبوط معیشت کے بغیر نہ دفاع مستحکم ہو سکتا ہے اور نہ ہی آزاد خارجہ پالیسی تشکیل پا سکتی ہے۔ تصادم کے بجائے استحکام، انتشار کے بجائے ادارہ جاتی توازن—یہی وہ فکری خطوط ہیں جو آج کی سیاسی قیادت کے لیے سمت متعین کر رہے ہیں۔

اسی وژن کو عملی شکل دینے کی ذمہ داری وزیراعظم شہباز شریف نے نظم، رفتار اور عملیت کے ساتھ نبھائی ہے۔ شدید مالی بحران، زرمبادلہ کی قلت، عالمی بے اعتمادی اور اندرونی سیاسی دباؤ کے ماحول میں حکومت نے وقتی مقبولیت کے بجائے ریاستی مفاد کو ترجیح دی۔ مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کے ذریعے مالیاتی نظم و ضبط بحال کیا گیا، عالمی مالیاتی اداروں سے سنجیدہ مذاکرات کیے گئے اور یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دوبارہ ابھر رہا ہے۔
سیاسی قیادت کے اس عزم کو سب سے مضبوط سہارا چیف آف ڈیفنس فورسز CDF اور چیف آف آرمی اسٹاف COAS، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ یکسوئی سے ملا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دفاع کو محض عسکری طاقت تک محدود رکھنے کے بجائے اسے جامع قومی سلامتی کے تصور سے جوڑا—جس میں داخلی استحکام، معاشی تحفظ اور خارجہ پالیسی سب شامل ہیں۔ ان کی قیادت میں عسکری اداروں نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا فوری، متوازن اور فیصلہ کن جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔

اسی عسکری قیادت کے تحت قومی سلامتی کے مشیر اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کی ذمہ دارانہ، خاموش مگر مؤثر کاوشیں قومی سلامتی کے فکری و عملی ڈھانچے کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ داخلی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، ہائبرڈ وار فیئر کے خطرات اور خطے میں بدلتی تزویراتی صورتِ حال پر بروقت انٹیلی جنس اور درست تجزیہ ریاستی فیصلوں کی بنیاد بن رہا ہے۔ یوں سیاسی فیصلہ سازی، عسکری قیادت اور انٹیلی جنس ادارے ایک مربوط قومی فریم ورک میں ڈھل چکے ہیں۔یہ ہم آہنگی اس وقت پوری قوت کے ساتھ نمایاں ہوئی جب بھارت کی جانب سے جارحانہ عزائم اور اشتعال انگیز اقدامات سامنے آئے۔ پاکستان نے نہ جذباتی ردعمل دیا اور نہ کمزوری کا تاثر قائم ہونے دیا۔ عسکری سطح پر واضح پیغام، سفارتی محاذ پر مدلل مؤقف اور سیاسی قیادت کی یکسوئی نے بھارت کو باور کرا دیا کہ کسی بھی مہم جوئی کا نتیجہ اس کے اپنے لیے نقصان دہ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں نے بھی جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی اصل وجوہات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنا شروع کیا اور پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

سفارتی محاذ پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی متحرک کاوشوں نے اس بیانیے کو عالمی سطح پر تقویت دی۔ خارجہ پالیسی کو محض بیانات کے بجائے اقتصادی سفارت کاری سے جوڑا گیا۔ سرمایہ کاری، توانائی، تجارت اور علاقائی روابط کو ترجیح دے کر پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ وہ عالمی معیشت میں فعال شراکت دار بننے کے لیے تیار ہے۔اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ سوئٹزرلینڈ اور عالمی فورمز پر ان کی مصروفیات ہیں۔ جنیوا اور دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کے مؤقف کو اعتماد کے ساتھ پیش کیا گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں اور پالیسی سازوں کو اصلاحات، شفافیت اور استحکام کے حکومتی عزم سے آگاہ کیا گیا۔ یہ دورہ اس امر کی علامت رہا کہ پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر اعتماد کے ساتھ عالمی مکالمے میں شریک ہو رہا ہے۔ اس دورے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل تھے۔
عالمی منظرنامے میں بعض امریکی پالیسی حلقوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے متوازی یا اس سے ہٹ کر ایک وسیع البنیاد بین الاقوامی فورم کی تجاویز بھی زیرِ بحث ہیں، جن میں تقریباً ساٹھ ممالک کی شمولیت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

اس مجوزہ فورم کو غیر رسمی طور پر “غزہ پیس بورڈ (Gaza Peace Board)” کا نام دیا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد تنازعات کے حل، بعد از جنگ استحکام اور امن کے لیے مشترکہ عالمی کردار کی تلاش ہے۔ تاہم یہ تجویز تاحال کسی واضح، باقاعدہ اور مکمل ادارہ جاتی شکل اختیار نہیں کر سکی اور زیادہ تر موجودہ عالمی نظام میں پائی جانے والی بے یقینی، طاقت کے مراکز میں تبدیلی اور روایتی بین الاقوامی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی ساکھ کی عکاس ہے۔ایسے غیر یقینی اور ابھرتے ہوئے عالمی تصورات میں کسی بھی ریاست کا کردار اسی وقت مؤثر اور سود مند ہو سکتا ہے جب اس کی داخلی سیاسی بصیرت، عسکری حکمتِ عملی اور سفارتی ترجیحات ایک ہی فکری سمت میں ہم آہنگ ہوں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ حقیقت ناگزیر ہے کہ عالمی فورمزخواہ وہ موجودہ ہوں یا مجوزہ میں اس کی آواز اسی صورت وزن رکھتی ہے جب سیاسی قیادت کا وژن، عسکری اداروں کی پیشہ ورانہ سوچ اور قومی سلامتی کا ادراک ایک مشترکہ قومی مقصد کے تحت پروان چڑھے۔

اسی قومی تناظر میں یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے سے موجود سیاسی عدم استحکام کی خلیج کو پاٹنے کے لیے پارلیمانی سطح پر جو سنجیدہ اور بالغ نظر اقدامات سامنے آئے ہیں، انہیں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی نامزدگی جس فہم، برداشت اور آئینی بصیرت کے ساتھ عمل میں آئی، وہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی نظام اب محاذ آرائی کے بجائے مکالمے اور ادارہ جاتی توازن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں تحریکِ انصاف پر بھی قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عسکری اداروں اور قومی سلامتی کے خلاف جاری منفی اور مہم جوئی پر مبنی بیانیے کو سمیٹتے ہوئے جمہوری عمل، سیاسی استحکام اور پارلیمانی سیاست کے دائرے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرے۔ ملک کی مجموعی معاشی بحالی، ترقی اور سماجی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب سیاسی قوتیں ریاستی مفاد کو مقدم رکھیں اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتظامی، مالیاتی اور حکمرانی سے متعلق چیلنجز کو تصادم کے بجائے خوش اسلوبی، مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔

مختصراً، پاکستان آج جن سنگین چیلنجزڈوبتی معیشت، سیاسی بے یقینی، سفارتی دباؤ اور بیرونی جارحیتسے گزر کر آگے بڑھ رہا ہے، ان کا مقابلہ کسی ایک ادارے یا فرد کے بس کی بات نہیں تھا۔ یہ سیاسی قیادت کے وژن، عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ریاستی اداروں کی منظم و مربوط کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف بحرانوں سے نکل رہا ہے بلکہ بدلتے عالمی منظرنامے میں ایک بار پھر سنجیدگی، اعتماد اور وقار کے ساتھ اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے۔ یہی سیاسی، سفارتی اور تزویراتی ہم آہنگی پاکستان کی اصل طاقت ہےاور مستقبل میں قومی سلامتی، معاشی استحکام اور باوقار جمہوری ارتقا کی سب سے مضبوط ضمانت بھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں